وحی کا وقفہ اور دعوتِ اسلام کا آغاز: سورۂ مدثر، خفیہ دعوت اور کوہِ صفا کی پکار
وحی کا وقفہ اور دعوتِ اسلام کا آغاز: سورۂ مدثر، خفیہ دعوت اور کوہِ صفا کی پکار
وحی رکی تو دل بے چین ہوا؛ پھر آسمان سے آواز آئی اور حکم ملا: «اٹھیے اور ڈرائیے» — یہاں سے دعوت شروع ہوئی۔
غارِ حرا کی پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ وحی رک گئی — اسے «فترۃ الوحی» کہتے ہیں۔ پھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کو خبردار کرنے کا حکم ملا۔ یہاں سے دعوتِ اسلام کا آغاز ہوتا ہے: پہلے خاموشی سے، قریبی لوگوں میں؛ پھر اعلانیہ، کوہِ صفا سے۔ اس مضمون میں صحیح بخاری کی روایات کو بنیاد بنایا گیا ہے اور سیرت کی تفصیلات کو الگ درجے میں رکھا گیا ہے۔
وحی کا وقفہ اور دوسری ابتدا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ نے وحی کے وقفے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «میں چل رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنی؛ نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا تھا۔ میں اس سے گھبرا گیا، گھر آ کر کہا: مجھے کمبل اوڑھا دو۔ تب اللہ نے نازل فرمایا: يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ… سے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ تک — پھر وحی گرم ہو گئی اور پے در پے آنے لگی» (صحیح بخاری 4؛ صحیح بخاری 4922)۔ وقفے کی مدت حدیث میں نہیں؛ سیرت میں چند دنوں سے تین سال تک کے اقوال ہیں، اور راجح یہ ہے کہ یہ مختصر وقفہ تھا۔ اس وقفے کی حکمت علما نے یہ بیان کی کہ پہلی وحی کا خوف اتر جائے اور دل میں وحی کا شوق پیدا ہو۔
سورۂ مدثر کا پیغام
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ
«اے چادر اوڑھنے والے! اٹھیے اور خبردار کیجیے؛ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے۔» (المدثر 74:1–7)
ان سات آیات میں دعوت کا پورا منشور ہے: اٹھنا اور ڈرانا (ذمہ داری)، رب کی بڑائی (پیغام کا مرکز)، کپڑوں کی پاکیزگی (ظاہر و باطن کی طہارت)، گندگی یعنی بتوں سے دوری (براءت)، احسان جتا کر زیادہ نہ مانگنا (بے لوثی) اور رب کے لیے صبر (راستے کی تیاری)۔ غور کیجیے: پہلی وحی «اقرأ» تھی — اپنی تیاری؛ دوسری «قُمْ فَأَنذِرْ» — دوسروں تک پہنچانا۔
دعوت کا ابتدائی مرحلہ
سیرت کے مطابق ابتدائی تین سال دعوت خاموش اور انفرادی رہی؛ آپ نے ان لوگوں کو اسلام پیش کیا جن پر بھروسا تھا۔ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا (عورتوں میں)، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ (آزاد مردوں میں)، حضرت علی رضی اللہ عنہ (بچوں میں) اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (آزاد کردہ غلاموں میں) تھے؛ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر عثمان، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور طلحہ رضی اللہ عنہم آئے (ابنِ ہشام)۔ حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کا گھر کوہِ صفا کے دامن میں مسلمانوں کے جمع ہونے اور قرآن سیکھنے کی جگہ بنا — «دارِ ارقم» کا ذکر سیرت اور طبقات میں ہے، صحیح بخاری و مسلم میں نہیں۔ «تین سال» کی مدت بھی سیرت کا بیان ہے۔
قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرنا
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ
«اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔» (الشعراء 26:214)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو آپ نے قریش کو بلایا اور عام و خاص سب کو مخاطب کیا: «اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو عبد مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ۔ اے بنو ہاشم! … اے بنو عبدالمطلب! … اے فاطمہ (بنت محمد)! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا؛ ہاں تم سے رشتہ داری ہے جسے میں جوڑتا رہوں گا» (صحیح بخاری 4771؛ صحیح مسلم 208)۔ یہ دعوت کا پہلا اصول ہے: نجات نسب سے نہیں، ایمان و عمل سے — اور یہ بات آپ نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے کہی۔
کوہِ صفا کی پکار اور کھلے عام دعوت
فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ
«پس جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اسے کھول کر سنا دیجیے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے۔» (الحجر 15:94)
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب «وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے اور «یا بنی فہر! یا بنی عدی!» کہہ کر قریش کے قبیلوں کو پکارا، یہاں تک کہ سب جمع ہو گئے — جو خود نہ آ سکا اس نے کسی کو بھیجا کہ دیکھے کیا بات ہے۔ ابو لہب اور قریش آئے تو آپ نے فرمایا: «بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ وادی میں گھڑ سوار ہیں جو تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟» سب نے کہا: ہاں، ہم نے تم پر ہمیشہ سچ ہی پایا۔ فرمایا: «تو میں تمہیں سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں»۔ ابو لہب نے کہا: تجھ پر ہلاکت ہو، کیا اسی لیے ہمیں جمع کیا تھا؟ تب سورۂ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ» نازل ہوئی (صحیح بخاری 4770)۔ یہ منظر دعوت کی حکمت سکھاتا ہے: پہلے سامع سے اپنے کردار کی گواہی لی، پھر پیغام دیا۔ اس اعلان کے بعد قریش کی مخالفت کھل کر سامنے آئی اور کمزور مسلمانوں پر ظلم کا دور شروع ہوا (اگلا مضمون)۔
عملی سبق
- پہلے اپنا گھر: دعوت کا آغاز قریبی رشتہ داروں سے — اور سب سے سخت بات بھی انہی سے۔
- کردار دعوت سے پہلے: صفا پر آپ نے پیغام سے پہلے اپنی سچائی کی گواہی لی۔
- نسب نجات نہیں: «میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا» — بیٹی سے بھی یہی کہا۔
- حکمت کے مراحل: خاموش دعوت، پھر اعلان — ہر مرحلے کا اپنا وقت ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وحی کا وقفہ کتنا لمبا تھا؟
صحیح بخاری 4 وقفے کا ذکر کرتی ہے مگر مدت نہیں بتاتی؛ سیرت میں اقوال مختلف ہیں۔
سورۂ مدثر کی کون سی آیات یہاں مرکزی ہیں؟
74:1–7، جن میں «قُمْ فَأَنذِرْ» سے «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ» تک دعوت کے اصول ہیں۔
کیا دارِ ارقم کا ذکر صحیح حدیث میں ہے؟
نہیں؛ اس کی اہمیت سیرت اور طبقات کے بیانات میں ہے۔
خلاصہ
وحی کا وقفہ اور پھر سورۂ مدثر کا نزول نبوت کے دوسرے مرحلے — دعوت — کا آغاز ہے۔ خاموش دعوت سے کوہِ صفا کی پکار تک کا یہ سفر ہمیں دعوت کے اصول سکھاتا ہے: پہلے کردار، پھر پیغام؛ پہلے گھر، پھر شہر؛ اور ہر حال میں «وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ»۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment