حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: گھر کی محنت اور امانت
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: گھر کی محنت اور امانت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ایک معتبر پہلو ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی صحیح روایتوں سے نظر آتا ہے: سادہ گھر، روزمرہ کی محنت، اور خرچ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی۔
گھر کی دیکھ بھال میں جانور کے لیے چارہ اور پانی کا انتظام بھی تھا۔
تکرار اور دائرے کی وضاحت
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی قبولِ اسلام کا ذکر عشرہ مبشرہ کے پہلے مضمون میں پہلے سے موجود ہے؛ اسے یہاں تفصیل سے نہیں دہرایا جائے گا۔ ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مضمون میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا ہجرت کے وقت کھانا پہنچانے اور کمر بند سے تھیلا باندھنے کا واقعہ بھی بیان ہے۔ اس مضمون میں وہ ہجرت کا منظر دوبارہ نہیں آئے گا۔ جنگِ جمل اور شوریٰ کے مضامین بعد کے سیاسی واقعات ہیں، اس لیے دائرے سے باہر ہیں۔ غزوات کی تفصیل بھی شامل نہیں۔ یہاں مرکز حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی گھریلو زندگی سے متعلق صحیح روایت ہے، جس میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان کے شوہر اور گھر کے ساتھی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
ایک روایت میں صحابیہ اپنے تجربے کو پہلے شخص میں بیان کرتی ہیں۔ اس سے ہمیں گھر کے اندر کی وہ محنت معلوم ہوتی ہے جو عام سیاسی تاریخ میں کم نظر آتی ہے۔ مگر حدیث کو پڑھتے وقت اس کی حدود کا لحاظ بھی ضروری ہے: جو الفاظ روایت میں ہیں انہیں ہی نقل کریں، بعد کے زمانے کے تصورات کو ان پر زبردستی نہ تھوپیں، اور کسی خاص گھر کے واقعے کو تمام گھرانوں پر لاگو ہونے والا حکم نہ بنا دیں۔
مکہ سے مدینہ تک کا پس منظر، مختصر طور پر
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ قریش کے قبیلے بنو اسد سے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھے۔ ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ ان نسبی اور گھریلو رشتوں کا ذکر صرف اتنا سمجھنے کے لیے ہے کہ روایت ایک قریبی گھرانے کی اندرونی زندگی کا منظر دکھاتی ہے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت یا عشرہ مبشرہ کی فہرست کو یہاں دوبارہ بیان کرنا ضروری نہیں، کیونکہ پہلے مضامین میں یہ پہلو آ چکے ہیں۔
سیرت کے عام بیان میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ابتدائی مسلمانوں میں شمار کیا جاتا ہے، مگر ان کے قبولِ اسلام کا تفصیلی قصہ اس سلسلے کے پہلے مضمون میں ہے۔ ہجرت کے موقع پر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے کردار کا اپنا مضمون بھی ہے۔ اس لیے یہاں ہم کسی مشہور قصے کو صرف مضمون کو لمبا کرنے کے لیے نہیں دہراتے۔ نئے مضمون کی بنیاد وہ حدیث ہے جس میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اپنے نکاح اور گھر کے روزمرہ کا حال خود بیان کرتی ہیں۔
اس احتیاط کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیرت اور طبقات میں کئی واقعات الگ روایتی راستوں سے آئے ہیں۔ ان میں بعض تفصیلات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ جہاں صحیح بخاری یا صحیح مسلم کا متن موجود ہے، اسے صحیح حدیث کے حوالے سے بیان کرنا بہتر ہے؛ جہاں بعد کے مؤرخین کا ذکر ہو، وہاں اسے تاریخی روایت کہنا چاہیے۔ اس مضمون میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کے حوالے سے مضبوط بنیاد حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت ہے۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت: گھر کی محنت
صحیح بخاری، حدیث 5224 میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس زمین جائیداد، غلام یا دوسرے اسباب نہ تھے؛ روایت میں پانی کھینچنے والا اونٹ اور ایک گھوڑا ذکر ہوتا ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ گھوڑے کو چارہ دیتیں، پانی لاتیں، پانی کے مشکیزے کے لیے چمڑا سیتیں اور آٹا گوندھتی تھیں۔ روٹی پکانے میں انہیں مہارت نہیں تھی، اس لیے ان کی انصاری پڑوسی خواتین ان کے لیے روٹی پکا دیتی تھیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا انہیں نیک اور سچی پڑوسنوں کے الفاظ سے یاد کرتی ہیں۔
روایت کا یہ حصہ روزمرہ کے کام کو غیر معمولی نہیں بناتا، مگر اس کی اہمیت ضرور دکھاتا ہے۔ گھوڑے کی دیکھ بھال، پانی کا انتظام، مشکیزے کی مرمت، آٹا گوندھنا اور پڑوسیوں کا سہارا، یہ سب زندگی کے وہ پہلو ہیں جو اکثر بڑے واقعات کے نیچے دب جاتے ہیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اپنے کام کو خود بیان کر رہی ہیں۔ اس لیے انہیں صرف کسی دوسرے کی بنائی ہوئی مثال نہیں، بلکہ ایک صحابیہ کی اپنی گواہی کے طور پر پڑھنا چاہیے۔
روایت میں مشکل معاشی حالات کا ذکر ہے، لیکن اسے غربت کی خیالی تصویر بنا دینا ٹھیک نہیں۔ کام محنت طلب تھا؛ گھر والوں اور پڑوسیوں کی مدد کا بھی اپنا مقام تھا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت سے یہ نہیں نکلتا کہ گھر کے تمام کام ایک ہی فرد کی ذمہ داری ہیں، یا ہر بیوی کو اسی طرح کام کرنا چاہیے۔ حدیث ایک تاریخی گھر کا حال بتاتی ہے، کوئی عام فقہی فارمولا نہیں دیتی۔ ہر دور کے گھرانے اپنی صحت، معاشی حیثیت اور ذمہ داریوں کے مطابق انصاف اور مشورے سے کام تقسیم کرتے ہیں۔
اس روایت میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تصویر کو بھی حد سے زیادہ رنگ دینا مناسب نہیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ان کے گھر میں اپنی محنت بیان کرتی ہیں، اور آگے ایک موقع پر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی نقل کرتی ہیں۔ روایت سے گھر کا سادہ حال معلوم ہوتا ہے؛ مگر ہمیں ان کے درمیان روزانہ کے ہر معاملے، ہر فیصلے یا گھر کے مکمل نظام کا علم نہیں۔ جو بات حدیث کے الفاظ میں نہیں، اسے اپنی طرف سے ان پر منسوب نہیں کرنا چاہیے۔
کھجور کی گٹھلیاں اور پانی کا مشکیزہ اس وقت کی محنت کی یاد دلاتے ہیں۔
کھجور کی گٹھلیاں، راستہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشکش
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی اس زمین سے کھجور کی گٹھلیاں اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی۔ روایت میں اس جگہ کا فاصلہ مدینہ سے تقریباً دو میل کے قریب بیان ہوا ہے۔ ایک دن جب وہ گٹھلیاں لیے جا رہی تھیں تو راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصار کے ساتھ ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری کو بٹھایا، تاکہ وہ سواری پر پیچھے بیٹھ سکیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو مردوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے حیا محسوس ہوئی اور انہیں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت یاد آئی؛ وہ سواری پر نہ بیٹھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جھجک محسوس کی اور آگے تشریف لے گئے۔
گھر واپس آ کر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو ملاقات کا حال سنایا۔ ان کا جواب صحیح بخاری 5224 میں اس طرح آتا ہے:
وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ
«اللہ کی قسم، تمہارا یہ گٹھلیاں اٹھانا میرے لیے اس بات سے زیادہ تکلیف دہ تھا کہ تم ان کے ساتھ سواری پر بیٹھتیں۔» (صحیح بخاری، حدیث 5224)
یہاں ترجمہ مفہومی ہے؛ روایت کے اصل عربی الفاظ اوپر دیے گئے ہیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا آگے بتاتی ہیں کہ بعد میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک خادم بھیجا جو گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے لگا، اور انہیں ایسا لگا گویا ان کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔
اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی اپنی حیا کا بیان، اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا گھریلو جواب، تین پہلو ہیں۔ مگر ان سب کو ان کے اپنے الفاظ اور سیاق کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ روایت یہ نہیں کہتی کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا پر سواری سے منع لگایا تھا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا خود کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی حیا اور شوہر کی غیرت یاد کر کے پیشکش قبول نہیں کی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی اپنی اہلیہ کی محنت پر افسوس ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے سے زبردستی، دباؤ یا ہر زمانے کے لیے کوئی عام قاعدہ بنانا حدیث سے آگے بڑھنا ہوگا۔
«غیرت» کو یہاں بھی احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ عربی روایت میں غَيْرَة کا لفظ ہے؛ اس کا ترجمہ صرف حسد یا غصے کے ایک منفی معنی میں نہیں سمٹتا۔ یہاں روایت حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے اپنے احساس کو بیان کرتی ہے کہ انہیں شوہر کا غیرت مند مزاج یاد آیا۔ اس لفظ سے نہ کسی پر بے جا شک کا جواز نکلتا ہے، نہ بیوی کی حرکت کو قابو میں رکھنے کا عام اصول۔ حدیث کے ایک خاص گھریلو منظر کو اسی حد تک سمجھیں جتنا متن دیتا ہے۔
اس روایت کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی جھجک پہچان کر ان پر سواری قبول کرنے کا دباؤ نہیں ڈالا۔ روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے گئے۔ اس سے آدابِ معاشرت کا سبق نکالا جا سکتا ہے: کسی کو مدد کی پیشکش دیں، مگر اس کی شرم، سکون اور اختیار کا بھی لحاظ رکھیں۔ یہ ہمارا اخلاقی استنباط ہے؛ روایت کا سیدھا مضمون ملاقات اور پیشکش کا واقعہ ہے۔
خرچ اور صدقہ: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا سوال
گھر کے مال اور دینے کے حوالے سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت آتی ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 1029d میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں کہ ان کے پاس اپنا مال نہیں، سوائے اس کے جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ گھر کے خرچ کے لیے دیتے ہیں؛ کیا وہ اس میں سے کچھ دے سکتی ہیں؟ سوال کے یہ الفاظ صحیح مسلم کی روایت میں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب صحیح بخاری، حدیث 1434 اور صحیح مسلم 1029d دونوں میں آتا ہے:
لاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ
«روک کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تم پر روک دے گا؛ جتنا تم سے ہو سکے، دو۔» (صحیح بخاری، حدیث 1434؛ صحیح مسلم، حدیث 1029d)
یہ جواب قرآن کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ اللہ سے ڈرو جتنا تم سے ہو سکے اور خرچ کرو (سورۃ التغابن 64:16)، اور یہ کہ جو لوگ اپنے مال رات دن، چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے (سورۃ البقرہ 2:274)۔ آیات عام اصول دیتی ہیں؛ حدیث ایک خاص گھریلو سوال کا جواب ہے۔
یہاں ایک اہم فقہی احتیاط ضروری ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا سوال اس مال کے بارے میں تھا جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان کے گھر میں دیتے تھے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدھا پوچھا۔ اس خاص روایت کو یہ عام اجازت نہیں بنا دینا چاہیے کہ کوئی بھی فرد بغیر مشورے کے دوسرے کی ملکیت سے صدقہ دے سکتا ہے۔ گھر کے خرچ کے مال، ملکیت، اجازت اور معروف رواج کے فقہی مسائل کی تفصیل الگ ہے؛ ان پر اہلِ علم کی رہنمائی لینی چاہیے۔ یہاں روایت کا سیدھا پہلو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو ان کی پوچھی ہوئی صورت میں خیر کے لیے دینے کی ترغیب دی۔
اس جواب سے گھر کی مالی زندگی میں سخاوت اور توکل کا پہلو سامنے آتا ہے۔ «جتنا تم سے ہو سکے» کا مفہوم بھی اہم ہے: روایت دینے کو حوصلہ دیتی ہے، مگر ہر شخص کی حیثیت اور گھر کی ضرورت کو نظر انداز کرنے کو نہیں کہتی۔ زکوٰۃ، واجب حقوق، نفلی صدقہ اور گھر کے ضروری خرچ الگ مسائل ہیں۔ انہیں ایک ہی جملے میں ملا دینا ٹھیک نہیں۔ حدیث کا ترجمہ اور فقہی تشریح دونوں اپنی اپنی جگہ رکھنے چاہییں۔
صحیح بخاری میں اسی مضمون کی دوسری روایتیں بھی آتی ہیں: حدیث 1433 اور حدیث 2591 میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا ہی سے «لاَ تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ» کے الفاظ ہیں، یعنی تھیلی کا منہ باندھ کر نہ رکھو ورنہ تم پر بھی باندھ دیا جائے گا۔ لفظ اور سند کا سلسلہ مختلف ہے، مفہوم ایک ہے۔ ان نمبروں کو الگ الگ حوالوں کے طور پر پیش کرنا بہتر ہے، نہ کہ سب روایتوں کو بالکل ایک متن کہنا۔ اس مضمون میں عربی جملہ بخاری 1434 کے متن سے لیا گیا ہے، اور سوال کے الفاظ صحیح مسلم 1029d سے۔
گھر کی امانت میں خرچ اور خیر کا توازن بھی شامل ہے۔
پڑوسیوں کا کردار اور مشترکہ سہارا
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی پہلی روایت میں انصاری پڑوسی عورتوں کا ذکر بہت سادہ، لیکن معنی خیز ہے: انہیں روٹی پکانے میں مدد ملتی تھی۔ صحیح حدیث اس مدد کو «سچی/نیک پڑوسنیں» کے لفظ سے یاد کرتی ہے۔ اس سے مدینہ کے معاشرے کی ایک چھوٹی سی تصویر ابھرتی ہے جہاں پڑوسی ایک دوسرے کے گھر کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اسے مثالی کہانی بنا کر ہر پڑوسی کے رویے کا دعویٰ نہیں، مگر روایت میں جو احسان ذکر ہوا اسے پہچان کر شکر ادا کرنا مناسب ہے۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کی کہانی میں مدد ایک ہی رخ سے نہیں آتی۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا محنت کرتی ہیں، پڑوسنیں روٹی میں مدد دیتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں سواری کی پیشکش کرتے ہیں، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خادم بھیجتے ہیں۔ ان سب کو ایک خاندانی نیٹ ورک اور سماجی رحم کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ نتیجہ حدیث کے تمام الفاظ کا لفظی حصہ نہیں، بلکہ واقعات کو ساتھ رکھ کر کی گئی تشریح ہے۔ اس فرق کو واضح رکھنا قاری کے لیے ضروری ہے۔
گھر کی غربت کا ذکر یہاں کسی کی کمتری کا ثبوت نہیں۔ نہ ہی دوسروں کی مدد لینا عزت کے خلاف ہے۔ روایت میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا پڑوسیوں کی تعریف کرتی ہیں اور اپنے کام کو صاف طور پر بیان کرتی ہیں۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ رزق اور مشقت کے دور میں اپنا کام کرنا، اور ضرورت پر محترم مدد لینا دونوں انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی کو مدد ملنے پر اسے طعنہ دینا یا اس کی محنت کو چھوٹا کہنا اس روایت کے مزاج سے میل نہیں کھاتا۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت کو صرف «صبر» کے ایک نعرے میں سمیٹنا بھی ناانصافی ہوگی۔ اس میں کام کی تفصیل، راستے کی دوری، پڑوسیوں کی مدد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور بعد میں خادم سے ملنے والا آرام سب موجود ہیں۔ زندگی میں صبر کا مطلب مشکل کو بے نام کر دینا نہیں؛ واقعے کو سچائی سے بیان کرنا بھی علم اور گواہی کا حصہ ہے۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی اپنی آواز کو مرکز میں رکھنا چاہیے۔
روایت، ترجمہ اور استنباط میں فرق
اس مضمون کے بنیادی حدیثی حوالے صحیح بخاری 5224، صحیح بخاری 1434 اور صحیح مسلم 1029d ہیں۔ پہلی روایت میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا گھر کا کام، کھجور کی گٹھلیاں لے جانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی پیشکش، اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا جواب آتا ہے۔ دوسری اور تیسری میں وہ گھر کے خرچ میں سے صدقہ دینے کے بارے میں پوچھتی ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے۔ یہ حوالے حدیث کے متن ہیں؛ گھریلو انصاف، پڑوسیوں کا سہارا، یا آج کے لیے سبق ہماری سمجھ اور تطبیق کے الفاظ ہیں۔
عربی جملے کا اردو ترجمہ لفظ بہ لفظ نہیں، مفہومی ہے۔ مثال کے طور پر «غیرت» کے لیے کوئی ایک لفظ پورا معنی نہیں دے سکتا۔ اسی طرح «لا توعي» کا مفہوم مال کو روک کر بند نہ رکھنے کی ترغیب ہے؛ اسے بغیر سیاق کے ہر مالی صورت پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں قانونی یا فقہی نتیجہ درکار ہو، حدیث کا ترجمہ پڑھنا پہلا قدم ہے، آخری فیصلہ نہیں۔
سیرت اور حدیث کو الگ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے کچھ پہلو یقینی روایتوں سے سامنے آتے ہیں، اور کچھ بعد کی تاریخی کتابوں کے حوالے سے۔ اس مضمون نے کسی غیر مستند قصے کو ضرورت کے بغیر نہیں لیا۔ ابتدائی قبولِ اسلام اور ہجرت کے واقعات پہلے بیان کیے گئے تھے؛ ان کی تکرار سے بچنے کے لیے یہاں نیا مرکز گھریلو روایت بنا۔ اس طرح ایک سیرت کے سلسلے میں ہر مضمون اپنا مستقل سوال اور ماخذ رکھ سکتا ہے۔
سادہ گھر، پڑوس کی مدد اور روزمرہ کی محنت سے بنتی زندگی۔
آج کے قاری کے لیے سبق
پہلا سبق گھر کی محنت کو دیکھنا اور اس کی قدر کرنا ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت میں کام کی تفصیل ہے؛ اس سے گھر کے کام کو بے قیمت سمجھنے کا رویہ درست نہیں ہوتا۔ گھر کے افراد اپنی حیثیت کے مطابق ذمہ داریاں بانٹ سکتے ہیں، اور جس پر بوجھ زیادہ ہو اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ آج کے گھروں کے لیے ایک اخلاقی تطبیق ہے، حدیث میں دیا گیا قانونی حکم نہیں۔
دوسرا سبق مدد کی پیشکش کرنا اور سامنے والے کے اختیار کا احترام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے لیے سواری بٹھائی؛ جب انہوں نے جھجک دکھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے گئے۔ اس سے مدد کو دباؤ کے بغیر پیش کرنے کا ادب سمجھا جا سکتا ہے۔ کسی کا مدد نہ لینا ہمیشہ ناشکری نہیں ہوتا؛ اس کے احساس اور صورتِ حال کا لحاظ کرنا چاہیے۔
تیسرا سبق مال میں خیر کا جذبہ ہے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا سوال بتاتا ہے کہ وہ دینے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیتی ہیں۔ جواب میں انہیں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنے کی ترغیب ملی۔ آج بھی صدقہ دیتے وقت گھر کے واجب حقوق، اپنی ذمہ داری اور جس مال پر اختیار ہے اس کا لحاظ ضروری ہے۔ خیر کا جذبہ اور مالی امانت دونوں ساتھ چلنے چاہییں۔
چوتھا سبق پڑوس اور معاشرے کے چھوٹے احسانات کو یاد رکھنا ہے۔ روٹی پکانے میں مدد دینے والی انصاری پڑوسنیں روایت کا ایک خوبصورت حصہ ہیں۔ اپنے علاقے میں ضرورت مند گھر، بزرگ پڑوسی یا نئے آنے والے لوگوں کے لیے چھوٹی عملی مدد بھی اہمیت رکھتی ہے۔ حدیث کسی منصوبے کا حکم نہیں دیتی، لیکن اس میں مدد کے ذکر سے ہم ایک انسانی سبق لے سکتے ہیں۔
پانچواں سبق ماخذ کی دیانت ہے۔ اس روایت میں جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا، اسے انہی کی طرف منسوب کریں؛ جو بخاری یا مسلم میں ہے، اس کا مجموعہ اور نمبر دیں؛ اور جو آج کا سبق ہم نکالتے ہیں، اسے حدیث کا لفظی حکم نہ بنائیں۔ سیرت لکھنا صرف جذباتی بیان نہیں، بلکہ امانت اور تحقیق کا کام بھی ہے۔
خلاصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے گھرانے کا ایک معتبر منظر ان کی اہلیہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی روایتوں سے ملتا ہے۔ صحیح بخاری 5224 میں سادہ معاشی حالات، گھوڑے کی دیکھ بھال، گھر کی محنت، کھجور کی گٹھلیاں اٹھا کر لانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی پیشکش اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا جواب بیان ہوا۔ صحیح مسلم 1029d میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا خرچ کے مال سے صدقہ دینے کا سوال کرتی ہیں اور صحیح بخاری 1434 میں اس کا نبوی جواب ہے۔ ابتدائی قبولِ اسلام، ہجرت کا الگ واقعہ، غزوات اور بعد کے سیاسی واقعات یہاں دوبارہ نہیں دہرائے گئے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی گھریلو زندگی کا صحیح حدیثی حوالہ کیا ہے؟
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی روایت صحیح بخاری 5224 میں ہے۔ اس میں نکاح کے بعد گھر کے کچھ کام، کھجور کی گٹھلیاں لے جانے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی پیشکش کا ذکر ہے۔
۲۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے گٹھلیوں والی بات پر کیا جواب دیا؟
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کا گٹھلیاں اٹھانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر بیٹھنے سے زیادہ ان پر بھاری تھا۔ حوالہ صحیح بخاری 5224۔
۳۔ کیا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کے خرچ سے صدقے کا پوچھا؟
جی ہاں۔ سوال کے الفاظ صحیح مسلم 1029d میں ہیں؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب «ارضخي ما استطعت» صحیح بخاری 1434 اور صحیح مسلم 1029d دونوں میں ہے۔
۴۔ کیا یہ روایت ہر گھر کے لیے ایک ہی کام کی تقسیم لازم کرتی ہے؟
نہیں۔ یہ ایک تاریخی گھر کا حال بیان کرتی ہے؛ اسے ہر گھرانے پر لاگو ہونے والا فقہی فارمولا نہیں کہنا چاہیے۔ مالی حقوق اور ذمہ داریوں کی تفصیل کے لیے اہلِ علم سے رجوع کریں۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری، حدیث 5224: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی روایت میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھر کا حال، گھوڑے کی دیکھ بھال، کھجور کی گٹھلیاں، راستے کی ملاقات اور بعد کا جواب۔
- صحیح بخاری، حدیث 1434: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو خرچ کرنے کی ترغیب «لا توعي… ارضخي ما استطعت»۔
- صحیح مسلم، حدیث 1029d: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا سوال (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے دیے ہوئے خرچ سے دینے کے بارے میں) اور جواب۔
- صحیح بخاری، حدیث 1433 اور حدیث 2591: «لا توكي فيوكى عليك» کے الفاظ کے ساتھ قریبی روایتی متن۔
- القرآن الکریم: سورۃ التغابن 64:16؛ سورۃ البقرہ 2:274: انفاق کے عام اصول۔
حدیث کا متن اور مصنف کا استنباط الگ رکھا گیا ہے۔ ابتدائی اسلام اور ہجرت کے واقعات پہلے مضامین میں موجود ہیں؛ یہاں ان کی تکرار سے پرہیز کیا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment