شام کا سفر اور بحیرا راہب کا واقعہ: سیرت کی روایت، ترمذی کی حدیث اور اس کا درجہ
شام کا سفر اور بحیرا راہب کا واقعہ: سیرت کی روایت، ترمذی کی حدیث اور اس کا درجہ
ایک قافلہ، ایک راہب اور ایک بچے کے کندھوں کے بیچ مہرِ نبوت — یہ قصہ مشہور بہت ہے، مگر اس کی سند کیا ہے؟
بحیرا راہب کا واقعہ سیرت کے مشہور ترین قصوں میں سے ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں چچا ابو طالب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر گئے، بصریٰ کے قریب ایک راہب نے آپ میں آخری نبی کی نشانیاں پہچانیں اور ابو طالب کو واپس لے جانے کا مشورہ دیا۔ اس مضمون میں دو باتیں شروع ہی میں سمجھ لیں: ابنِ اسحاق/ابنِ ہشام کی سیرت میں یہ واقعہ «بحیرا» کے نام سے تفصیل کے ساتھ ہے؛ جامع ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک روایت بھی ہے، مگر اس میں راہب کا نام نہیں اور اس کی سند پر محدثین کا کلام ہے۔
مکہ سے شام کا تجارتی سفر
قریش کے قافلے سردیوں میں یمن اور گرمیوں میں شام جاتے تھے — قرآن نے «رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ» (قریش 106:2) کہہ کر اسی کا ذکر کیا۔ سیرت کے مطابق جب ابو طالب ایک قافلے کے ساتھ شام روانہ ہونے لگے تو آپ — جن کی عمر اس وقت نو یا بارہ سال بتائی جاتی ہے — ان سے لپٹ گئے اور ابو طالب نے کہا: خدا کی قسم، میں اسے ساتھ لے جاؤں گا، نہ یہ مجھ سے جدا ہو گا نہ میں اس سے۔ یہ تفصیل ابنِ اسحاق کی ہے۔
بحیرا سے ملاقات: سیرت کا بیان
ابنِ اسحاق کے مطابق قافلہ بصریٰ (آج کے جنوبی شام میں) کے قریب ایک راہب کی خانقاہ کے پاس اترا جس کا نام بحیرا تھا۔ وہ پہلے کبھی قافلوں کی طرف توجہ نہ دیتا تھا، مگر اس بار اس نے سب کو کھانے کی دعوت دی — کیونکہ اس نے دیکھا تھا کہ ایک بادل قافلے کے ایک فرد پر سایہ کیے ہوئے ہے اور درخت کی شاخیں اس پر جھک گئی ہیں۔ جب لوگ آئے اور بچے کو سامان کے پاس چھوڑ آئے تو اس نے اصرار کر کے بلوایا، سوالات کیے، کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت دیکھی، اور ابو طالب سے کہا: یہ تمہارا بیٹا نہیں ہو سکتا (کیونکہ اس کا باپ زندہ نہیں ہونا چاہیے)؛ اسے واپس لے جاؤ اور یہود سے بچاؤ، اس کی بڑی شان ہونے والی ہے۔ ابو طالب نے کاروبار نمٹا کر آپ کو جلد مکہ واپس بھیج دیا۔ (سیرتِ ابنِ ہشام)
اس بیان کی اصل راوی زنجیر (سند) ابنِ اسحاق نے ذکر نہیں کی؛ اس لیے یہ سیرت کی «مشہور روایت» ہے، حدیث کے معیار پر «صحیح» نہیں۔ مہرِ نبوت البتہ صحیح حدیث سے ثابت ہے — سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر دیکھی، جیسے مسہری کا گھنڈی نما بٹن (صحیح بخاری 190)۔
جامع ترمذی کی روایت اور اس کا درجہ
جامع ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت ہے: ابو طالب قریش کے بزرگوں کے ساتھ شام گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ تھے؛ راہب نے قافلے کو دعوت دی، درختوں اور پتھروں کے سجدے کی بات کی، مہرِ نبوت دیکھی، اور ابو طالب سے اصرار کیا کہ انہیں واپس بھیج دیں؛ اور وہ ابو بکر اور بلال کے ساتھ واپس بھیج دیے گئے (جامع ترمذی 3620)۔ امام ترمذی نے اسے «حسن غریب» کہا۔ بعد کے محدثین — جیسے امام ذہبی اور ابنِ کثیر — نے اس کے آخری حصے پر اعتراض کیا: اس سفر کے وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ خود بچے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ ابھی پیدا بھی نہ ہوئے تھے یا ابو بکر کی ملکیت میں نہ تھے؛ اس لیے اس جملے کو راوی کا وہم قرار دیا۔ باقی روایت پر بعض نے نرمی کی ہے، بعض نے اسے بھی ضعیف کہا۔ اس اختلاف کو چھپانے کے بجائے بتا دینا ہی ایمان داری ہے۔
کیا اس قصے سے کوئی دینی حکم نکلتا ہے؟
نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ثبوت قرآن، آپ کے معجزات اور آپ کی سیرت ہے — کسی راہب کی گواہی پر موقوف نہیں۔ البتہ قرآن نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اہلِ کتاب کے علما کے پاس آپ کی صفات موجود تھیں:
ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِىَّ ٱلْأُمِّىَّ ٱلَّذِى يَجِدُونَهُۥ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَىٰهُمْ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَٱلْأَغْلَـٰلَ ٱلَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلنُّورَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ ۙ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
«وہ لوگ جو اس رسول، نبیِ امی کی پیروی کرتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں…» (الاعراف 7:157)
بحیرا جیسے واقعات اسی اصول کی ایک مثال کے طور پر پڑھے جا سکتے ہیں — اس شرط کے ساتھ کہ تفصیلات کو سیرت کا بیان کہا جائے، حدیث کا نہیں۔ اسی طرح ورقہ بن نوفل کی گواہی پہلی وحی کے بعد صحیح بخاری (3) میں آئی ہے، جو اس اصول کی زیادہ مضبوط مثال ہے۔
اس واقعے کو پڑھنے کا معتدل طریقہ
- نہ انکار، نہ مبالغہ: سیرت کی روایت کو اس کے درجے کے ساتھ قبول کریں؛ اسے «صحیح بخاری کی طرح» بھی نہ کہیں، «بے اصل» بھی نہ کہیں۔
- ہر تفصیل ایک جیسی نہیں: مہرِ نبوت صحیح حدیث سے ثابت ہے؛ بادل کا سایہ اور درخت کا جھکنا سیرت کی روایت ہے۔
- ناموں میں احتیاط: «بحیرا» نام ترمذی میں نہیں، سیرت میں ہے۔
- مقصد یاد رکھیں: یہ قصہ آپ کی نبوت کی «دلیل» نہیں، ایک «نشانی» ہے جو پہلی کتابوں والے پہچانتے تھے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بحیرا کا واقعہ کس کتاب میں ہے؟
تفصیلی بیان ابنِ اسحاق کی سیرت (بروایت ابنِ ہشام) میں؛ ایک مختصر صورت جامع ترمذی 3620 میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے۔
کیا امام ترمذی نے اسے صحیح کہا؟
انہوں نے «حسن غریب» کہا؛ بعد کے محدثین نے خصوصاً ابو بکر و بلال والے جملے کو غلطی قرار دیا۔
اس سفر کے وقت آپ کی عمر کیا تھی؟
سیرت کے اقوال میں نو یا بارہ سال؛ کوئی عمر حدیث سے ثابت نہیں۔
خلاصہ
شام کا پہلا سفر اور بحیرا راہب کا واقعہ سیرت کی ایک مشہور روایت ہے جس کی ایک صورت جامع ترمذی میں بھی ہے۔ اسے بیان کرتے ہوئے سند کا درجہ بتانا، سیرت اور حدیث کا فرق رکھنا اور نبوت کی اصل دلیل — قرآن اور سیرت — کو مرکز میں رکھنا ہی درست طریقہ ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment