وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› حربِ فجار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت اور حلف الفضول: جوانی کے دو واقعات

حربِ فجار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت اور حلف الفضول: جوانی کے دو واقعات

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم — جوانی

حربِ فجار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت اور حلف الفضول: جوانی کے دو واقعات

ایک جنگ جس نے حرمت توڑی، اور ایک معاہدہ جس نے مظلوم کا ساتھ دینے کی قسم کھائی — دونوں میں ایک نوجوان موجود تھا جو بعد میں رحمتِ عالم بنا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی کے دو واقعات سیرت کی کتابوں میں ساتھ ساتھ آتے ہیں: حربِ فجار — قریش و کنانہ اور قیس عیلان کے درمیان وہ قبائلی جنگ جو حرمت والے مہینوں میں لڑی گئی — اور اس کے فوراً بعد حلف الفضول، جس میں مکہ کے چند گھرانوں نے ہر مظلوم کی مدد کی قسم کھائی۔ دونوں کا ماخذ ابنِ اسحاق، ابنِ سعد اور تاریخ کی کتابیں ہیں؛ صحیح بخاری و مسلم میں ان کا ذکر نہیں۔ اس لیے یہاں تفصیلات کو سیرت کے بیان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

رات کے وقت صحرا میں دور خیموں کی روشنیاں
عرب کے قبائلی خیمے (تصویر علامتی ہے)

«فجار» کا مطلب اور حرمت والے مہینے

«فجار» کا لفظ فجور سے ہے — حد سے گزرنا، حرمت توڑنا۔ عرب جاہلیت میں بھی چار مہینوں — ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب — کو حرام سمجھتے تھے جن میں لڑائی بند رہتی اور لوگ حج اور تجارت کے لیے بے خوف سفر کرتے۔ اس جنگ میں یہ حرمت ٹوٹی، اسی لیے اسے «حربِ فجار» کہا گیا۔ قرآن نے اس اصول کی تصدیق کی:

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا۟ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ كَآفَّةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ
«بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کیے؛ ان میں چار حرمت والے ہیں — یہی سیدھا دین ہے؛ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو…» (التوبہ 9:36)

حجۃ الوداع کے خطبے میں آپ نے ان چار مہینوں کے نام لے کر فرمایا: «تین پے در پے — ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم — اور رجب مضر جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے» (صحیح بخاری 3197)۔

قریش، کنانہ اور قیس عیلان

سیرت کے مطابق جھگڑے کی جڑ عکاظ کے میلے سے جڑی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ براض بن قیس کنانی نے عروہ الرحال (قیس عیلان کے قبیلے ہوازن کا آدمی) کو قتل کر دیا جو نعمان بن منذر کا تجارتی قافلہ لے جا رہا تھا — اور یہ قتل حرمت والے مہینے میں ہوا۔ اس پر قیس عیلان (ہوازن اور ان کے حلیف) اور قریش و کنانہ کے درمیان جنگ چھڑی۔ قریش کی قیادت حرب بن امیہ کے پاس تھی اور بنو ہاشم کی طرف سے زبیر بن عبدالمطلب اور دوسرے چچا شریک تھے۔ لڑائی کے کئی دن ہوئے — نخلہ، شمطہ، عبلاء اور حریرہ کے مقامات — جن میں کبھی ایک فریق غالب رہا کبھی دوسرا، یہاں تک کہ صلح ہوئی اور مقتولین کی تعداد گن کر زائد کا خون بہا ادا کیا گیا۔ (ابنِ ہشام، ابنِ سعد)

پہاڑی وادی میں بدوی خیموں کی بستی
عکاظ کے میلے کا سا علاقہ (تصویر علامتی ہے)

یہ ایک جنگ تھی یا کئی؟

تاریخ کی کتابوں میں «فجار» کے نام سے چار لڑائیوں کا ذکر ہے جو مختلف اوقات میں ہوئیں؛ ان میں آخری — براض والی — سب سے بڑی تھی اور اسی میں آپ کی موجودگی بیان ہوتی ہے۔ یہ لڑائی خود بھی ایک دن کی نہیں بلکہ وقفوں کے ساتھ کئی دنوں (بعض کے نزدیک چار سال تک) پھیلی رہی۔ اسی لیے آپ کی عمر کے بارے میں اقوال میں فرق ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت: کیا معلوم ہے؟

ابنِ اسحاق نے آپ کی عمر اس وقت بیس سال بتائی ہے؛ ابنِ ہشام نے چودہ یا پندرہ سال کا قول بھی نقل کیا ہے۔ دونوں کو یوں ملایا جاتا ہے کہ جنگ کے آغاز میں آپ کم عمر تھے اور آخری معرکے میں بیس کے قریب — مگر یہ تطبیق بھی اندازہ ہے۔ آپ کے کردار کے بارے میں سیرت کہتی ہے کہ آپ اپنے چچاؤں کے ساتھ تھے اور دشمن کے چلائے ہوئے تیر جمع کر کے چچاؤں کو دیتے؛ بعض روایات میں تیر چلانے کا ذکر بھی ہے۔ ابنِ ہشام نے آپ کا یہ قول نقل کیا: «میں اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتا تھا»۔ اس کے بارے میں چند باتیں واضح رہیں: (1) یہ سب سیرت کی روایات ہیں، حدیث نہیں؛ (2) آپ نے کسی کو قتل نہیں کیا؛ (3) یہ شرکت دفاعی تھی — قریش اپنے حرم اور اپنی تجارت کا دفاع کر رہے تھے؛ (4) بعثت سے پہلے کے اس واقعے سے کوئی شرعی حکم نہیں نکلتا۔

رات کو ریت کے ٹیلوں پر ہلال اور ستارے
حرمت والے مہینوں کا چاند (تصویر علامتی ہے)

حلف الفضول: مظلوم کی مدد کا معاہدہ

سیرت کے مطابق حربِ فجار کے بعد — ذوالقعدہ میں — مکہ میں ایک واقعہ ہوا: زبید (یمن) کا ایک تاجر مال لایا، عاص بن وائل نے خرید کر قیمت نہ دی، اور کسی نے اس کی مدد نہ کی۔ اس پر زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو اسد، بنو زہرہ اور بنو تیم عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے اور قسم کھائی کہ مکہ میں جو بھی مظلوم ہو گا — شہری ہو یا باہر کا — وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ اس کا حق دلوا دیں۔ پھر عاص بن وائل سے مال دلوایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں شریک تھے اور بعثت کے بعد فرمایا: «میں عبداللہ بن جدعان کے گھر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا جس کے بدلے مجھے سرخ اونٹ بھی پسند نہیں؛ اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں قبول کروں گا» (ابنِ ہشام؛ سنن بیہقی — سند حسن کے قریب)۔ یہ جملہ اسلام کا ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے: ظلم کے خلاف اور انصاف کے لیے معاہدہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہو تو قابلِ قبول ہے۔

ان واقعات سے کیا سمجھیں

  • حرمت کا احترام: جس جنگ نے حرمت توڑی اسے عرب نے «فجار» کہہ کر یاد رکھا؛ اسلام نے حرمت والے مہینوں کو باقی رکھا۔
  • ظلم کا مقابلہ، فساد سے پرہیز: آپ نے جنگ میں تیر اٹھائے مگر خون نہ بہایا، اور اس کے بعد امن کے معاہدے کو اپنایا۔
  • انصاف کی اقدار عالمگیر ہیں: حلف الفضول جاہلیت کا معاہدہ تھا، مگر آپ نے اسے اسلام میں بھی سراہا۔
  • روایت کا درجہ: دونوں واقعات سیرت سے ہیں؛ تفصیلات میں اختلاف کو کھلے دل سے مانیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا حربِ فجار قرآن یا صحیح بخاری و مسلم میں ہے؟

نہیں؛ یہ سیرت و تاریخ کا واقعہ ہے۔ حرمت والے مہینوں کا اصول البتہ قرآن (9:36) اور صحیح بخاری (3197) میں ہے۔

کیا آپ نے اس جنگ میں لڑائی کی؟

سیرت کے مطابق آپ چچاؤں کے ساتھ تھے اور تیر جمع کر کے دیتے؛ کسی قتل کا کوئی ذکر نہیں۔

حلف الفضول کا نام کیوں پڑا؟

ایک قول کے مطابق اس معاہدے کے سرکردہ افراد کے ناموں میں «فضل» آتا تھا؛ دوسرے قول میں «فضول» کے معنی زائد حقوق کی واپسی کے ہیں۔ دونوں تاریخ کے اقوال ہیں۔

خلاصہ

حربِ فجار اور حلف الفضول بعثت سے پہلے کے دو واقعات ہیں جو سیرت کے ذریعے ہم تک پہنچے۔ پہلے میں نوجوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے کے دفاع میں چچاؤں کا ساتھ دیا مگر خون نہ بہایا؛ دوسرے میں مظلوم کی حمایت کی قسم کھائی اور نبوت کے بعد بھی اس پر فخر کیا۔ یہی دونوں پہلو — حدود کا احترام اور انصاف کی حمایت — بعد میں آپ کی شریعت کی بنیاد بنے۔

صحرا میں ٹوٹے ہوئے تیر اور غروبِ آفتاب
جنگ کے بعد امن (تصویر علامتی ہے)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments