پہلی وحی: غارِ حرا میں آغازِ نبوت — سچے خواب، «اقرأ» اور ورقہ بن نوفل کی گواہی
پہلی وحی: غارِ حرا میں آغازِ نبوت — سچے خواب، «اقرأ» اور ورقہ بن نوفل کی گواہی
ایک غار، ایک تنہا عبادت گزار، اور ایک لفظ جس نے انسانیت کی تاریخ بدل دی: «اقرأ»۔
پہلی وحی وہ لمحہ ہے جہاں سے نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا نزول شروع ہوتا ہے۔ اس واقعے کی سب سے مستند روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح بخاری کی تیسری حدیث اور صحیح مسلم (160) میں ہے۔ اس مضمون میں اسی روایت کو بنیاد بنایا گیا ہے، اور جو تفصیل حدیث میں نہیں — تاریخ، دن یا غار کا نقشہ — اسے سیرت کی نسبت سے الگ رکھا گیا ہے۔
وحی سے پہلے کے سچے خواب
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز نیند میں سچے خوابوں سے ہوا؛ آپ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح سچا نکلتا۔ پھر آپ کو تنہائی محبوب کر دی گئی؛ آپ غارِ حرا میں جا کر کئی کئی راتیں عبادت (تحنّث) کرتے، پھر خدیجہ کے پاس آ کر اتنی ہی راتوں کا توشہ لے جاتے — یہاں تک کہ غارِ حرا میں آپ کے پاس حق آ گیا (صحیح بخاری 3)۔ علما نے لکھا ہے کہ یہ خوابوں کا زمانہ چھ ماہ رہا، اور آپ کی عمر چالیس سال تھی — یہ تفصیل سیرت کی ہے، حدیث میں مدت نہیں۔
غارِ حرا میں پہلی وحی
فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. قَالَ: فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ…
«فرشتہ آیا اور کہا: پڑھیے۔ آپ نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں۔ آپ فرماتے ہیں: اس نے مجھے پکڑ کر اتنا بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر چھوڑ کر کہا: پڑھیے۔ میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے دوسری بار بھینچا، پھر چھوڑ کر کہا: پڑھیے۔ میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں۔ اس نے تیسری بار بھینچا، پھر چھوڑا اور کہا: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا…» (صحیح بخاری 3)
«مَا أَنَا بِقَارِئٍ» کے دونوں مطلب علما نے لیے ہیں: «میں پڑھا ہوا نہیں» اور «میں کیا پڑھوں؟» — دونوں صورتوں میں یہ واضح ہے کہ قرآن آپ کے اپنے علم یا تعلیم کا نتیجہ نہیں تھا؛ قرآن نے خود کہا: «وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ» (العنکبوت 29:48)۔
سورۂ علق کی پہلی آیات
ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ عَلَّمَ ٱلْإِنسَـٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
«پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا؛ انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا؛ پڑھیے، اور آپ کا رب سب سے بڑھ کر کریم ہے؛ جس نے قلم کے ذریعے سکھایا؛ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔» (العلق 96:1–5)
یہ قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیات ہیں — پوری سورۂ علق نہیں، صرف یہ پانچ؛ باقی سورت بعد میں اتری۔ پہلا حکم «پڑھ» ہے اور پہلا تعارف «رب جس نے پیدا کیا» اور «جس نے قلم سے سکھایا» — ایک ان پڑھ قوم کو پہلا پیغام علم کا ملا۔ قرآن نے یہ بھی بتایا کہ یہ نزول رمضان میں ہوا: «شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ» (البقرہ 2:185)؛ اور پیر کا دن صحیح مسلم (1162) سے ثابت ہے۔ تاریخ — 17، 21 یا 27 رمضان — اقوال ہیں، یقینی نہیں۔
گھر واپسی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی
آپ کانپتے ہوئے دل کے ساتھ خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» — مجھے چادر اوڑھا دو۔ جب خوف کم ہوا تو واقعہ سنایا اور فرمایا: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» — مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ خدیجہ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا — آپ رشتے جوڑتے، بوجھ اٹھاتے، محتاجوں کے لیے کماتے، مہمان نوازی کرتے اور حق کی مصیبتوں میں مدد کرتے ہیں (صحیح بخاری 3)۔ یہ تسلی ایک عقل مند خاتون کی عمر بھر کے مشاہدے پر مبنی دلیل تھی: جس کا کردار ایسا ہو، اللہ اسے ضائع نہیں کرتا۔
ورقہ بن نوفل سے ملاقات
خدیجہ آپ کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے، عبرانی لکھتے اور انجیل کے عالم تھے، بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ واقعہ سن کر انہوں نے کہا: «یہ وہی ناموس ہے جو اللہ نے موسیٰ پر اتارا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا، کاش میں زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی!» آپ نے پوچھا: «کیا وہ مجھے نکالیں گے؟» کہا: ہاں، جو کچھ آپ لائے ہیں اسے لانے والے ہر شخص سے دشمنی کی گئی؛ اگر میں نے وہ دن پایا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ پھر ورقہ جلد وفات پا گئے اور وحی کچھ عرصہ رک گئی (صحیح بخاری 3؛ صحیح بخاری 4953)۔ یہ گواہی ایک اہلِ کتاب عالم کی طرف سے تھی — اس اصول کی مثال کہ پہلی کتابوں والے آپ کو پہچانتے تھے۔
پہلی وحی اور بعد کی وحی میں فرق
پہلی وحی جبرائیل علیہ السلام کی آمد سے، شدت کے ساتھ، غار میں ہوئی۔ اس کے بعد وحی کا وقفہ (فترۃ الوحی) آیا — صحیح بخاری میں اس کی مدت نہیں؛ سیرت میں چند دنوں سے تین سال تک کے اقوال ہیں — پھر سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات کے ساتھ وحی کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہوا اور دعوت کا حکم آیا (صحیح بخاری 4)۔ اس لیے «پہلی نازل ہونے والی آیات» سورۂ علق کی ہیں اور «وقفے کے بعد پہلی» سورۂ مدثر کی۔ بعد میں وحی کی کیفیات مختلف رہیں: کبھی گھنٹی کی آواز کی طرح، کبھی فرشتہ انسانی شکل میں (صحیح بخاری 2)۔ تفصیل اگلے مضمون وحی کا وقفہ اور دعوت کا آغاز میں ہے۔
عملی سبق
- علم پہلا حکم ہے: «اقرأ» سے شروع ہونے والا دین جہالت کو کبھی پسند نہیں کر سکتا۔
- تنہائی میں غور: حرا کی راتیں بتاتی ہیں کہ بڑے کام سے پہلے دل کی تیاری ہوتی ہے۔
- کردار بہترین دلیل ہے: خدیجہ نے آپ کے اخلاق سے آپ کی حفاظت کا یقین کیا۔
- حق کی راہ میں آزمائش: ورقہ نے پہلے دن بتا دیا کہ قوم نکالے گی — اور ایسا ہی ہوا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پہلی وحی کہاں اور کس عمر میں ہوئی؟
غارِ حرا میں (صحیح بخاری 3)؛ عمر چالیس سال سیرت اور اکثر روایات کے مطابق۔
پہلی آیات کون سی ہیں؟
سورۂ علق 96:1–5۔ سورۂ مدثر وقفے کے بعد کی پہلی وحی ہے۔
کیا ورقہ بن نوفل مسلمان شمار ہوں گے؟
وہ آپ کی تصدیق کے بعد جلد وفات پا گئے؛ جامع ترمذی (2288) میں ہے کہ آپ نے انہیں خواب میں سفید لباس میں دیکھا — اس روایت کی سند پر کلام ہے، مگر علما نے عموماً ان کے بارے میں خیر کی امید رکھی ہے۔
خلاصہ
غارِ حرا کی وہ رات انسانیت کی تاریخ کا موڑ تھی: سچے خوابوں سے تیار ہونے والا دل، «اقرأ» کی پہلی آواز، ایک خاتون کی دانش مند تسلی اور ایک بوڑھے عالم کی گواہی۔ یہ سب صحیح بخاری کی ایک حدیث میں محفوظ ہے — اور یہی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ وحی کا آغاز علم، اخلاق اور صبر کے پیغام سے ہوا۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment