وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› بچپن میں حلیمہ سعدیہ کے پاس پرورش: بنو سعد کے خیمے اور برکت کی روایت

بچپن میں حلیمہ سعدیہ کے پاس پرورش: بنو سعد کے خیمے اور برکت کی روایت

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم — بچپن

بچپن میں حلیمہ سعدیہ کے پاس پرورش: بنو سعد کے خیمے اور برکت کی روایت

ایک غریب دیہاتی خاتون، ایک یتیم بچہ، اور ایک گھر جس میں برکت اتر آئی — مگر ہر مشہور بات کی سند ایک جیسی نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک حصہ مکہ سے باہر بنو سعد بن بکر کے خیموں میں گزرا، جہاں حلیمہ سعدیہ نے آپ کو دودھ پلایا اور پرورش کی۔ یہ واقعہ سیرت کی کتابوں میں محبت اور احترام سے بیان ہوتا ہے، مگر اس کی تفصیلات کا بڑا حصہ ابنِ اسحاق کی روایت سے آیا ہے جو ابنِ ہشام کی سیرت کے ذریعے ہم تک پہنچی — یہ صحیح بخاری و مسلم کے درجے کی حدیث نہیں۔ اس مضمون میں دونوں درجوں کو الگ رکھا گیا ہے، کیونکہ محبت کا ادب یہی ہے کہ آپ کے بارے میں وہی کہا جائے جو ثابت ہے۔

صحرا میں بدوی خیمے اور مٹی کا گھڑا
بنو سعد کا دیہاتی ماحول (تصویر علامتی ہے)

بنو سعد کا رواج اور حلیمہ کی آمد

مکہ کے معزز گھرانوں کا دستور تھا کہ نومولود بچوں کو صحرا کے قبائل کی دودھ پلانے والی خواتین کے سپرد کرتے، تاکہ بچہ کھلی فضا میں صحت مند جسم اور خالص فصیح عربی زبان کے ساتھ پلے، اور شہر کی وباؤں سے محفوظ رہے۔ ابنِ اسحاق نے حلیمہ بنت ابی ذؤیب سعدیہ کا اپنا بیان نقل کیا ہے: وہ قحط کے سال اپنے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ اور اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ بنو سعد کی عورتوں کے ہمراہ مکہ آئیں؛ ان کی سواری کمزور تھی، ان کا اپنا دودھ بچے کے لیے کافی نہ تھا۔ مکہ میں ہر عورت کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو — یتیم جان کر — کسی نے نہ لیا، کیونکہ وہ باپ کی طرف سے انعام کی امید رکھتی تھیں۔ حلیمہ کہتی ہیں: جب سب کو بچے مل گئے اور مجھے کوئی نہ ملا تو میں نے شوہر سے کہا: خدا کی قسم، میں خالی ہاتھ لوٹنا پسند نہیں کرتی؛ میں اس یتیم کو لے لیتی ہوں۔ شوہر نے کہا: کوئی حرج نہیں، شاید اللہ اس میں ہمارے لیے برکت رکھ دے۔ (سیرتِ ابنِ ہشام)

برکت کی روایت

اسی بیان میں حلیمہ کہتی ہیں کہ جیسے ہی انہوں نے بچے کو گود میں لیا، ان کا سینہ دودھ سے بھر گیا؛ بچے نے پیا اور ان کا اپنا بیٹا بھی سیر ہو کر سویا؛ ان کی اونٹنی نے دودھ دیا؛ واپسی پر ان کی کمزور سواری سب سے آگے نکل گئی؛ اور بنو سعد کے قحط زدہ علاقے میں ان کی بکریاں شام کو پیٹ بھری اور دودھ سے لدی لوٹتیں جب کہ دوسروں کی بھوکی آتیں۔ یہ تفصیلات سیرت کی مشہور روایت ہیں؛ ان کا مجموعی مضمون — کہ آپ کی آمد اس گھر کے لیے خیر بنی — اہلِ سیرت کے ہاں متفقہ طور پر قبول ہے، مگر انہیں صحیح حدیث کے درجے میں پیش کرنا درست نہیں۔

ریگستان میں نخلستان اور دور پہاڑ
بنو سعد کی چراگاہیں (تصویر علامتی ہے)

دو سال بعد واپسی اور پھر دوبارہ

رضاعت کے دو سال پورے ہوئے تو حلیمہ آپ کو والدہ آمنہ کے پاس مکہ لائیں، مگر اس بچے کی برکت دیکھ چکی تھیں، اس لیے درخواست کی کہ بچے کو کچھ عرصہ اور رہنے دیں — مکہ کی وبا کا خوف بھی ایک وجہ بنا — اور آمنہ نے اجازت دے دی۔ یوں آپ مزید عرصہ بنو سعد میں رہے۔ سیرت کے مطابق چار یا پانچ سال کی عمر کے لگ بھگ شقِ صدر کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد حلیمہ اور ان کے شوہر خوف زدہ ہو کر آپ کو والدہ کے پاس واپس لے آئے۔ اس واقعے کی بنیادی اصل صحیح مسلم میں ہے (اگلا عنوان)۔

بنو سعد میں آپ کے رضاعی بہن بھائی بھی تھے — عبداللہ، انیسہ اور شیماء (حذافہ) — اور سیرت میں ہے کہ شیماء آپ کو کھلاتی تھیں۔ برسوں بعد غزوۂ حنین کے قیدیوں میں بنو سعد کے لوگ آئے تو آپ نے رضاعت کا حق پہچانا اور ان کے ساتھ نرمی کی (سیرت)۔ سنن ابی داؤد میں ہے کہ حنین کے موقع پر آپ کی رضاعی ماں آئیں تو آپ نے اپنی چادر بچھا کر انہیں بٹھایا (سنن ابی داؤد 5144)۔ آپ خود فرمایا کرتے تھے: «أَنَا أَعْرَبُكُمْ، أَنَا قُرَشِيٌّ وَاسْتُرْضِعْتُ فِي بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ» — میں تم سب سے زیادہ فصیح عربی ہوں؛ قریشی ہوں اور بنو سعد میں میری رضاعت ہوئی (سیرت؛ اس جملے کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے)۔

شقِ صدر: حدیث اور سیرت کا فرق

حلیمہ کے پاس قیام کا سب سے مشہور واقعہ شقِ صدر ہے۔ اس کی بنیاد صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے جب آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے؛ آپ کو لٹایا، سینہ کھولا، دل نکالا، اس سے ایک لوتھڑا نکال کر کہا: یہ تم میں شیطان کا حصہ تھا؛ پھر دل کو زمزم کے پانی سے سونے کے طشت میں دھویا اور واپس رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے «اپنی دودھ پلانے والی ماں» کے پاس گئے کہ محمد کو قتل کر دیا گیا؛ لوگ آئے تو آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کا نشان دیکھا کرتا تھا (صحیح مسلم 162)۔ حدیث میں حلیمہ کا نام یا آپ کی عمر نہیں؛ «ظئر» (دودھ پلانے والی) کا لفظ ہے — نام اور جگہ سیرت سے آتی ہے۔ تفصیل الگ مضمون میں ہے۔

بدوی خیمے کا اندرونی منظر، قالین اور لکڑی کا پالنا
خیمے کا اندرونی منظر (تصویر علامتی ہے)

یتیمی اور قرآن کی یاد دہانی

أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَـَٔاوَىٰ
«کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر ٹھکانا دیا؟» (الضحیٰ 93:6)

قرآن نے حلیمہ کا نام نہیں لیا، مگر «ٹھکانا دینے» کی یہ آیت آپ کے پورے بچپن پر محیط ہے: ماں کی گود، حلیمہ کے خیمے، دادا کا سایہ اور چچا کا گھر — ہر مرحلے پر اللہ نے اپنے یتیم نبی کے لیے کوئی نہ کوئی سہارا پیدا کیا۔ حلیمہ کی کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خیر کا دروازہ کبھی اس فیصلے سے کھلتا ہے جو دنیا کی نظر میں گھاٹے کا ہو — یتیم کو لینا۔

اس مرحلے کا پیغام

  • یتیم کی کفالت: آپ نے فرمایا: «میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں یوں ہوں گے» اور دو انگلیاں ملائیں (صحیح بخاری 5304)۔
  • رضاعت کا حق: آپ نے بنو سعد کی خاتون کے لیے چادر بچھائی — رشتوں کی قدر۔
  • روایت کا درجہ: سیرت کی خوبصورت تفصیل اور صحیح حدیث کا فرق قائم رکھیں۔
  • سادہ ماحول: آپ کی پرورش شہر کے عیش میں نہیں، صحرا کی سادگی میں ہوئی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا حلیمہ کے گھر کی برکت کے واقعات صحیح حدیث میں ہیں؟

نہیں؛ یہ ابنِ اسحاق/ابنِ ہشام کی سیرت کی روایت ہیں۔ شقِ صدر کا اصل واقعہ البتہ صحیح مسلم (162) میں ہے۔

آپ حلیمہ کے پاس کتنا عرصہ رہے؟

سیرت کے مطابق تقریباً چار سے پانچ سال — دو سال رضاعت اور پھر مزید قیام۔

کیا حلیمہ سعدیہ مسلمان ہوئیں؟

سیرت اور طبقات میں ان کے اور ان کے شوہر کے اسلام لانے کا ذکر ہے، اسی لیے «رضی اللہ عنہا» کہا جاتا ہے؛ یہ تاریخی روایت ہے۔

خلاصہ

حلیمہ سعدیہ کے پاس پرورش سیرت کا نرم اور پُراثر باب ہے: ایک غریب گھر جو یتیم کو لینے سے بھر گیا۔ اس کی تفصیل سیرت سے ہے اور اس کا ایک معجزہ — شقِ صدر — صحیح مسلم سے؛ دونوں کو اپنی اپنی جگہ رکھ کر پڑھیں تو یہ باب اور زیادہ روشن ہو جاتا ہے۔

غروبِ آفتاب میں صحرا کی بستی اور قافلے کا راستہ
مکہ کی طرف واپسی (تصویر علامتی ہے)
یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments