عبدالمطلب کی وفات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت
عبدالمطلب کی وفات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت
بچپن میں پہلے والد، پھر والدہ اور پھر دادا کی سرپرستی سے محروم ہونا؛ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی کے وہ مرحلے ہیں جنہیں سیرت نگاروں نے درد اور وقار کے ساتھ محفوظ کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ کی وفات ہوئی تو دادا عبدالمطلب نے اپنے یتیم پوتے کو اپنی نگرانی میں لیا۔ یہ سرپرستی تقریباً دو سال رہی؛ پھر عبدالمطلب کی وفات کے بعد ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کو ملی۔
حجاز کی وادیوں میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
اس مضمون کا دائرہ
اس کہانی میں غم کا پہلو اپنی جگہ ہے، لیکن جو بات سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے وہ ایک بچے کی لگاتار دیکھ بھال ہے۔ ولادت، حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے پاس پرورش اور شقِ صدر کے واقعات الگ مضامین میں بیان ہو چکے ہیں؛ یہاں صرف والدہ کی وفات کے بعد دادا کی سرپرستی سے چچا کی کفالت تک کا مرحلہ لیا گیا ہے۔ اس مرحلے کی عمریں اور تفصیلات سیرت کے حوالوں سے آتی ہیں؛ انہیں قرآن یا صحیح حدیث کا لفظ کہہ کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
حضرت آمنہ کی وفات کے بعد
سیرت کی مشہور روایت کے مطابق حضرت آمنہ بنت وہب اپنے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر یثرب گئیں۔ اس سفر کا مقصد رشتہ داروں سے ملاقات اور حضرت عبداللہ کی قبر سے وابستہ جگہ دیکھنا بتایا جاتا ہے۔ واپسی پر ابواء کے مقام پر حضرت آمنہ کی وفات ہوئی۔ اس سفر، مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت کی عمر (چھ سال) کا بیان کتبِ سیرت میں آتا ہے۔ روایت کے بعض جزوی پہلو مختلف طور پر نقل ہوئے ہیں؛ اس لیے بنیادی واقعہ بیان کرتے ہوئے غیر ضروری تفصیل سے بچنا مناسب ہے۔
والدہ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ لوٹے اور دادا عبدالمطلب کی سرپرستی میں آئے۔ پرانے عرب معاشرے میں خاندانی ذمہ داری اور قبیلے کے بزرگ کی نگرانی بچے کی حفاظت کا اہم ذریعہ تھی۔ عبدالمطلب بنو ہاشم کے معزز بزرگ تھے۔ ان کی نگرانی نے یتیم پوتے کو قریبی خاندانی پناہ دی۔ اس سے زیادہ کسی خاص وقتی منظر یا گفتگو کو قطعی طور پر بیان کرنے کے لیے الگ سند درکار ہوتی ہے۔
قرآن کی یاددہانی: یتیم کو پناہ
سورۃ الضحیٰ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیمی اور پناہ کی نعمت یاد دلاتا ہے۔ آیت میں کسی سرپرست کا نام نہیں لیا گیا؛ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان ہے۔ سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے اس مرحلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال دادا عبدالمطلب نے کی۔
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ
«کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر پناہ دی؟» (سورۃ الضحیٰ 93:6)
یہ آیت صرف گزرے ہوئے بچپن کی یاد نہیں دلاتی؛ اسی سورت میں آگے حکم آتا ہے:
فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
«پس یتیم پر سختی نہ کرو۔» (سورۃ الضحیٰ 93:9)
اپنی زندگی میں یتیمی کا تجربہ رکھنے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے پناہ دی، اور سورۃ الضحیٰ کا پیغام مسلمان کو یتیم کے ساتھ نرمی اور انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
مکہ کا پرانا ماحول — ایک احترام بھرا تصور۔
دادا عبدالمطلب کی سرپرستی
ابن سعد کی طبقات اور ابن اسحاق کی روایت، جو ابن ہشام کی سیرت میں محفوظ ہے، عبدالمطلب کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی کا ذکر کرتی ہیں۔ ان تاریخی بیانات میں آتا ہے کہ دادا نے اپنے پوتے کو اپنے قریب رکھا اور اس کی دیکھ بھال کی۔ کچھ روایتوں میں کعبہ کے قریب ان کے لیے بچھائے جانے والے خاص فرش کا بھی ذکر ہے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں بیٹھنے اور عبدالمطلب کے آپ کو روکنے کے بجائے قریب رکھنے کی تفصیل بھی منقول ہے۔ یہ روایت سیرت اور طبقات کے حوالوں سے ہے، اس لیے اسے اسی نسبت سے سمجھنا چاہیے۔
اس قصے کی اصل بات سادہ ہے: گھرانے کے بزرگ نے یتیم پوتے کو اپنی نگاہ سے دور نہیں کیا۔ ایسے بیان کے اندر اپنائیت کا اثر محسوس ہوتا ہے، لیکن کسی خاص جذبے یا اندرونی سوچ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا عبدالمطلب کی طرف منسوب کرنا تبھی درست ہے جب روایت خود اسے بیان کرے۔ یہاں ہمیں سرپرستی اور خاص توجہ کا تاریخی بیان ملتا ہے؛ اسی پر اکتفا بہتر ہے۔
عبدالمطلب کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً آٹھ سال بتائی جاتی ہے۔ یہ عمر سیرت کی مشہور ترتیب کا حصہ ہے، کوئی ایسا سال یا تاریخ نہیں جو قرآن میں دی گئی ہو۔ قدیم سیرت نگاروں نے اس واقعے کو والدہ کی وفات کے بعد کے مرحلے میں رکھا ہے؛ عام طور پر دونوں واقعات کے درمیان تقریباً دو سال بتائے جاتے ہیں۔
عبدالمطلب کی وفات اور ابو طالب کو وصیت
جب عبدالمطلب کی وفات قریب آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی کا سوال پیدا ہوا۔ کتبِ سیرت میں بیان ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹے ابو طالب کے سپرد کیا۔ ابو طالب، حضرت عبداللہ کے سگے بھائی تھے (دونوں کی والدہ ایک تھیں) اور بنو ہاشم کے خاندان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ سیرت کی روایت میں اسی رشتے کو ابو طالب کے انتخاب کی وجہ بتایا گیا ہے۔ بعض تاریخی متون میں وصیت کے الفاظ بھی نقل ہیں، لیکن مختلف روایتوں کے الفاظ کو ملا کر ایک لفظی خطبہ بنانا درست نہیں؛ بنیادی نکتہ ذمہ داری کا انہیں سونپا جانا ہے۔
عبدالمطلب کے انتقال کے بعد ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال اپنے ذمے لی۔ یہ بچپن کی سرپرستی کا اگلا مرحلہ تھا۔ آگے چل کر ابو طالب کا کردار سیرت کے اور بھی اہم واقعات میں سامنے آتا ہے، جن کی تفصیل ابو طالب کی کفالت والے مضمون میں ہے۔ اس مضمون کا مرکز دادا کی سرپرستی سے چچا کی نگرانی تک کا یہ انتقال ہے۔
ایک بچے کی زندگی میں سرپرست کا بدلنا آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔ تاریخ ہمیں اتنا بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا وفات پا گئے اور ابو طالب نے ذمہ داری سنبھالی۔ اس سے آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لمحے میں کیا محسوس کیا، یا گھر کے اندر کس طرح کی گفتگو ہوئی؛ جب تک معتبر روایت نہ ہو، ہم اسے اپنی طرف سے بیان نہیں کرتے۔ واقعے کی سنجیدگی کو سمجھنے کے لیے بناوٹی منظر کی ضرورت نہیں۔
گھر کی پناہ اور دیکھ بھال کا سادہ منظر۔
والدہ کی قبر کی زیارت: صحیح حدیث
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے میں اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي
«میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی والدہ کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہ دی گئی، اور میں نے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دی گئی۔» (صحیح مسلم، حدیث 976a)
اسی باب کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم والدہ کی قبر پر روئے اور آس پاس موجود لوگ بھی رو دیے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے (صحیح مسلم 976b)۔ یہ حدیث والدہ کی وفات کے بعد کے غم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بعد کے مرحلے میں دکھاتی ہے؛ اسے بچپن کے وقت کا واقعہ نہ سمجھا جائے۔
اس روایت کو شامل کرنے کا سبب یہ ہے کہ یہ والدہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق اور بعد کی زیارت کا صحیح حوالہ دیتی ہے۔ مگر اس سے ابواء کے سفر، وفات کے وقت کی عمر، یا عبدالمطلب کی سرپرستی کی تمام تفصیل ثابت نہیں ہوتی۔ ان تفصیلات کے لیے سیرت کی کتابوں کا حوالہ الگ سے دیا جاتا ہے۔
ایک سرپرست سے دوسرے سرپرست تک — بچپن کا ایک اور مرحلہ۔
یتیم کی پرورش: آج کے لیے غور
- اس مرحلے کا سب سے عملی سبق یتیم بچوں کی عزت اور حفاظت ہے۔ قرآن یتیم پر قہر نہ کرنے کا حکم دیتا ہے (93:9)۔
- نرمی کا مطلب صرف مہربانی کے الفاظ نہیں: بچے کی ضرورت سننا، اس کی تعلیم اور مال کی حفاظت کرنا، اور اسے احسان جتائے بغیر گھر کا محترم فرد سمجھنا بھی اس میں شامل ہے۔
- عبدالمطلب اور پھر ابو طالب کی سرپرستی سیرت کے تاریخی بیان میں دکھاتی ہے کہ خاندانی ذمہ داری بچے کی زندگی میں کتنی اہم ہو سکتی ہے۔ ہر یتیم کا پس منظر ایک جیسا نہیں ہوتا، مگر ہر بچے کو امن، مستحکم دیکھ بھال اور عزت کی ضرورت ہوتی ہے۔
- مسجد، رشتہ دار اور معاشرہ مل کر یہ ذمہ داری نبھا سکتے ہیں؛ سب سے پہلے یتیم کو اپنی کمزوری کا احساس دلانے سے بچنا چاہیے۔
خلاصہ
سیرت کی روایت کے مطابق حضرت آمنہ کی وفات (ابواء، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً چھ سال) کے بعد دادا عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی کی، جو تقریباً دو سال رہی۔ ان کی وفات (عمر تقریباً آٹھ سال) پر ذمہ داری چچا ابو طالب کو ملی۔ قرآن (93:6) یتیمی میں پناہ کی نعمت یاد دلاتا ہے اور صحیح مسلم 976 والدہ کی قبر کی زیارت کا صحیح حوالہ دیتا ہے۔ عمریں اور تفصیلات سیرت سے ہیں؛ انہیں قرآن یا صحیح حدیث کا لفظ نہ کہا جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت آمنہ کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کس نے کی؟
سیرت کی مشہور روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب نے سرپرستی کی۔
۲۔ عبدالمطلب کی وفات کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
سیرت کی عام ترتیب میں تقریباً آٹھ سال بتائی جاتی ہے۔ یہ تاریخی روایت ہے، قرآن کی دی ہوئی تاریخ نہیں۔
۳۔ عبدالمطلب کے بعد سرپرست کون بنے؟
سیرت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔
۴۔ کیا عبدالمطلب کی خاص توجہ صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
ان کی سرپرستی اور خاص توجہ کا تفصیلی بیان سیرت اور طبقات کی کتابوں میں ملتا ہے؛ اسے صحیح بخاری یا مسلم کی روایت کہنا درست نہیں۔
۵۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ کی قبر کی زیارت کی تھی؟
جی ہاں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم 976 میں ہے۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم، سورۃ الضحیٰ 93:6 اور 93:9: یتیمی میں پناہ اور یتیم پر سختی نہ کرنے کا حکم۔
- صحیح مسلم 976a اور 976b: والدہ کی قبر کی زیارت۔
- ابن اسحاق، سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، بروایت ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: حضرت آمنہ کی وفات، عبدالمطلب کی سرپرستی اور ابو طالب کو وصیت۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ: بچپن کے مرحلوں کی طبقاتی روایات۔
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ / السیرۃ النبویۃ: روایات کا جائزہ۔
قرآن کی آیت، صحیح مسلم کی حدیث اور سیرت کی عمریں و تفصیلات الگ الگ درجے کے ماخذ ہیں؛ انہیں ملا کر ایک درجہ نہ سمجھا جائے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment