شقِ صدر کا واقعہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی صحیح روایت
شقِ صدر کا واقعہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کی صحیح روایت
ایک معجزہ جو صحیح مسلم میں محفوظ ہے — اور وہ تفصیلات جو بعد کی سیرت نے جوڑیں؛ دونوں کو الگ پہچاننا ضروری ہے۔
«شقِ صدر» کا لفظی مطلب سینہ کھولنا ہے۔ سیرت میں یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن اور حلیمہ سعدیہ کے ہاں قیام کے ساتھ بیان ہوتا ہے۔ اس کی سب سے مضبوط بنیاد صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہ ہے کہ حدیث جتنا بتاتی ہے اتنا بیان کیا جائے، اپنی طرف سے منظر، گفتگو یا طبی تشریح نہ جوڑی جائے، اور یہ بھی واضح رہے کہ سینہ کھولنے کا ایک دوسرا واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
صحیح مسلم کی روایت
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ جِبْرِيلُ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ. ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ. فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ. قَالَ أَنَسٌ وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ
«حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل آئے جب آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آپ کو پکڑ کر لٹایا، آپ کا سینہ چاک کیا، دل نکالا، اس میں سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا: یہ تم میں شیطان کا حصہ تھا۔ پھر دل کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، جوڑا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی ماں — یعنی دودھ پلانے والی — کے پاس گئے اور کہا: محمد قتل کر دیے گئے! لوگ آپ کی طرف آئے تو آپ کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ انس کہتے ہیں: میں آپ کے سینے پر اس سلائی کا نشان دیکھا کرتا تھا۔» (صحیح مسلم 162)
روایت میں چار باتیں صاف ہیں: (1) یہ بچپن کا واقعہ ہے — آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے؛ (2) جبرائیل علیہ السلام نے سینہ کھول کر دل سے «شیطان کا حصہ» نکالا؛ (3) دل زمزم سے دھویا گیا؛ (4) نشان باقی رہا جسے انس رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ روایت میں آپ کی عمر، حلیمہ کا نام یا بنو سعد کے علاقے کا ذکر نہیں — صرف «ظئر» (دودھ پلانے والی) کا لفظ ہے۔ یہ تفصیلات سیرت (ابنِ اسحاق) سے آتی ہیں، جہاں عمر چار یا پانچ سال اور جگہ بنو سعد کی بستی بتائی گئی ہے، اور حلیمہ کے خوف زدہ ہو کر آپ کو والدہ کے پاس واپس لے آنے کا ذکر ہے۔
روایت میں کیا نہیں ہے
حدیث میں نہ تاریخ ہے، نہ دن، نہ بچوں کے نام، نہ یہ کہ یہ واقعہ کس سال کا ہے۔ اس لیے «آپ چار سال کے تھے» جیسی بات کو حدیث کا جملہ کہنا درست نہیں؛ اسے سیرت کی نسبت کے ساتھ کہنا چاہیے۔ اسی طرح اس معجزے کی کوئی طبی یا «سائنسی» تشریح اپنی طرف سے پیش کرنا مناسب نہیں — واقعہ معجزہ ہے، اور معجزہ عام تجربے کے پیمانے پر نہیں تولا جاتا۔ «حظّ الشیطان» کے الفاظ اسی واقعے کے لیے ہیں؛ ان سے بچوں کی فطرت یا گناہ کے بارے میں کوئی عام عقیدہ کشید نہ کیا جائے؛ علما نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو وسوسے کے اس ذریعے سے بھی پاک کر دیا جس سے عام انسان محفوظ نہیں۔
معراج کی رات کا دوسرا شقِ صدر
سینہ کھولنے کا ایک اور واقعہ اسراء و معراج کی رات کا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: «میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھلی، جبرائیل اترے، میرا سینہ کھولا، زمزم کے پانی سے دھویا، پھر حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا سونے کا طشت لائے، اسے میرے سینے میں انڈیل کر بند کر دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف چڑھے» (صحیح بخاری 349)۔ مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی حطیم میں سینہ کھولنے اور زمزم سے دھونے کا ذکر ہے (صحیح بخاری 3887)۔ یہ الگ وقت، الگ سیاق کا واقعہ ہے — بچپن کا شقِ صدر تطہیر کے لیے تھا، معراج کا شقِ صدر آسمانی سفر اور وحی کے بوجھ کی تیاری کے لیے۔ علما نے دونوں (بعض نے تین یا چار) واقعات پر الگ الگ بحث کی ہے؛ انہیں ملا کر ایک قصہ بنانا درست نہیں۔
سورۂ شرح اور «شرحِ صدر»
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
«کیا ہم نے آپ کا سینہ آپ کے لیے کشادہ نہیں کیا؟» (الشرح 94:1)
قرآن کی یہ آیت «شرحِ صدر» یعنی سینے کی کشادگی — ہدایت، اطمینان اور نبوت کا بوجھ اٹھانے کی قوت — کا ذکر کرتی ہے۔ بعض مفسرین نے اس کے تحت شقِ صدر کا واقعہ بھی ذکر کیا ہے، مگر آیت خود کسی جسمانی واقعے کی تفصیل بیان نہیں کرتی، اور اس کا سیاق (وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ… وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ) معنوی انعامات کا ہے۔ اس لیے آیت کو واقعے کا براہِ راست تاریخی حوالہ بنانے کے بجائے اس کے اپنے سیاق میں پڑھنا چاہیے؛ واقعے کی تفصیل صحیح مسلم کی حدیث سے ملتی ہے۔
اس واقعے کو کیسے سمجھیں
- درجہ: بچپن کا شقِ صدر صحیح مسلم میں ہے — یہ محض لوک قصہ نہیں؛ مگر اس کی عمر اور جگہ سیرت سے ہے۔
- حکمت: اللہ نے اپنے آخری نبی کو ابتدا ہی سے خاص حفاظت اور تطہیر میں رکھا (القلم 68:4 — «وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ»)۔
- ادب: معجزے کو فلمی منظر کی طرح «تصور» کرانے کے بجائے روایت کے الفاظ اور اس کے معنی پر توجہ دیں۔
- علم کی امانت: جو حدیث میں نہیں، اسے حدیث کا حصہ نہ کہیں — یہی محبت کا تقاضا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا بچپن کا شقِ صدر صحیح ہے؟
جی ہاں، اس کی بنیادی روایت انس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم 162 میں ہے۔
اس وقت آپ کی عمر کیا تھی؟
صحیح مسلم میں عمر نہیں؛ سیرت کے مطابق چار یا پانچ سال، حلیمہ کے ہاں قیام کے دوران۔
کیا معراج کی رات بھی سینہ کھولا گیا؟
جی، صحیح بخاری 349 اور 3887 میں اس کا ذکر ہے؛ یہ الگ واقعہ ہے۔
کیا سورۂ شرح 94:1 اسی واقعے کا ذکر ہے؟
آیت سینے کی کشادگی کا ذکر کرتی ہے؛ بچپن کے واقعے کی تفصیل اس میں نہیں۔ دونوں کو بلا دلیل ایک نہ سمجھا جائے۔
خلاصہ
شقِ صدر اللہ کی قدرت اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص حفاظت کا واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں محفوظ ہے۔ اسے بیان کرنے کا ادب یہ ہے کہ روایت کے الفاظ سے آگے نہ بڑھا جائے، معراج کے واقعے سے الگ رکھا جائے، اور قرآن کی آیت کو اس کے اپنے سیاق میں پڑھا جائے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment