ہجرتِ مدینہ کا آغاز: مہاجرین کا سفر، گھر چھوڑنے کی قربانی اور انصار کی پناہ
ہجرتِ مدینہ کا آغاز: مہاجرین کا سفر، گھر چھوڑنے کی قربانی اور انصار کی پناہ
دوسری بیعتِ عقبہ نے یثرب کے دروازے کھول دیے تھے۔ اب مکہ کے مسلمانوں کے پاس ایک ایسی جگہ تھی جہاں وہ اپنا ایمان آزادی سے جی سکتے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امن سے رہ سکتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو وہاں ہجرت کی اجازت دی۔ رخصتیاں آہستہ آہستہ شروع ہوئیں: کسی نے گھر چھوڑا، کسی نے کاروبار، اور کسی نے اپنے عزیز پیچھے چھوڑے۔ یہ سفر صرف شہر بدلنے کا نہیں، نئے مستقبل پر بھروسا کرنے کا تھا۔
سفر کے لیے ضروری اسباب ایک چھوٹے سے بنڈل میں باندھے جا رہے تھے۔
یثرب کا راستہ کھلنا
دوسری بیعت کے بعد اوس اور خزرج کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مکہ کے مسلمانوں کی حفاظت کا وعدہ کر چکے تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طویل روایت بتاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا:
إِنِّي أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لاَبَتَيْنِ. فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، وَرَجَعَ عَامَّةُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَتَجَهَّزَ أَبُو بَكْرٍ قِبَلَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: عَلَى رِسْلِكَ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي
«مجھے تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے: کھجوروں والی زمین دو پتھریلے میدانوں (حرّوں) کے درمیان۔» تو جس نے ہجرت کرنی تھی مدینہ کی طرف کی، اور حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں سے اکثر مدینہ لوٹ آئے۔ ابو بکر نے بھی مدینہ کی تیاری کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ٹھہرو، مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دی جائے گی۔» (صحیح بخاری، حدیث 3905)
روایت کے مطابق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو روک لیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سفر بنیں اور دو سواریوں کو چار مہینے ببول کے پتے کھلا کر تیار رکھا۔ اس طرح ہجرت ایک منظم فیصلہ تھا: مہاجرین کے چھوٹے چھوٹے گروہ رخصت ہوئے؛ ایک ہی دن سب روانہ نہیں ہوئے۔ کچھ پہلے چلے گئے، کچھ گھر والوں یا سامان کے انتظام کے بعد، اور کچھ مجبوریوں کی وجہ سے مکہ میں رہ گئے۔ حبشہ کے مہاجرین میں سے بھی اکثر اب مدینہ کا رخ کرنے لگے۔
پہلے پہنچنے والے
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ مدینہ کی طرف سے منظر بیان کرتے ہیں:
أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَا يُقْرِئَانِ النَّاسَ، فَقَدِمَ بِلاَلٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، ثُمَّ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
«سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابنِ ام مکتوم آئے، اور وہ دونوں لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔ پھر بلال، سعد اور عمار بن یاسر آئے، پھر عمر بن الخطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیس ساتھیوں کے ساتھ آئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3925)
یہ ترتیب صحیح سند سے ثابت ہے اور بتاتی ہے کہ ہجرت کی پہلی لہر قرآن کی تعلیم کے ساتھ آئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کھلے عام ہجرت کرنے کا مشہور قصہ (کعبہ کے پاس اعلان) سیرت کی بعض کتابوں میں ہے مگر اس کی سند کمزور ہے؛ صحیح بخاری ان کے بیس ساتھیوں کے ساتھ آنے کا ذکر کرتی ہے۔
مکہ کا گھر چھوڑنا مشکل تھا، مگر راستہ کھل چکا تھا۔
رخصتی کے الگ الگ امتحان
ہجرت کرنے والوں کے لیے صرف راستہ طے کرنا مشکل نہیں تھا۔ مکہ ان کا گھر تھا؛ وہاں یادگار جگہیں، رشتہ دار اور روزگار تھے۔ سیرت کے بیانات میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی جدائی کا واقعہ آتا ہے: ان کے سسرال والوں نے ان کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو روک لیا اور ان کے اپنے قبیلے نے بچے کو چھین لیا؛ وہ ایک سال تک روزانہ ابطح میں جا کر روتی رہیں، پھر انہیں جانے دیا گیا اور وہ اکیلی نکلیں، راستے میں حضرت عثمان بن طلحہ (جو ابھی مسلمان نہ تھے) نے انہیں قبا تک پہنچایا۔ یہ واقعہ ابن اسحاق کی سیرت سے ہے۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ قریش نے انہیں روکا تو انہوں نے اپنا سارا مال ان کے حوالے کر کے ہجرت کی؛ سیرت میں اس پر «ربح البیع» (سودا نفع کا رہا) کے الفاظ منقول ہیں؛ یہ روایت مستدرک حاکم اور سیرت میں ہے، صحیحین میں نہیں۔
ہر مہاجر کی کہانی ایک جیسی نہیں تھی، اس لیے ایک ہی قصے کو سب پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن نے ان لوگوں کو تنبیہ بھی کی جو قدرت کے باوجود ظلم کی سرزمین میں رہے، اور کمزوروں، عورتوں اور بچوں کو مستثنیٰ رکھا (النساء 4:97–99)، اور وعدہ کیا کہ «جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور کشادگی پائے گا» (4:100)۔ ہجرت کو صرف دکھ کا سفر سمجھنا بھی پوری تصویر نہیں؛ مہاجرین ایک امید کے ساتھ نکل رہے تھے کہ یثرب میں عبادت، تعلیم اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے نئی زندگی بن سکے گی۔
نیت کا اصول
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لاِمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
«اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے؛ اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کے لیے ہو، اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔» (صحیح مسلم 1907؛ صحیح بخاری 1)
یہ حدیث ہجرت کے پس منظر میں وارد ہوئی اور بتاتی ہے کہ ایک ہی سفر نیت کے فرق سے عبادت یا محض نقلِ مکانی بن سکتا ہے۔
یثرب کی طرف سفر نے ایک نئی مسلم جماعت کو جنم دیا۔
مہاجرین اور انصار کا نیا رشتہ
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
«اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں؛ ان کے لیے بخشش اور عزت کا رزق ہے۔» (سورۃ الانفال 8:74؛ نیز 8:72)
آیت ان دونوں گروہوں کے درمیان دوستی اور ذمہ داری کا رشتہ واضح کرتی ہے: یثرب والے مددگار، یعنی انصار، اور مکہ سے ہجرت کرنے والے، یعنی مہاجرین۔ انصار نے اپنے گھروں اور معاشرے میں آنے والوں کے لیے جگہ بنائی؛ مہاجرین نے نئے شہر میں اپنی زندگی دوبارہ سنواری۔ اس طرح ہجرت صرف ایک طرف کی قربانی نہیں رہی: آنے والوں نے گھر چھوڑا، اور میزبانوں نے اپنے دروازے اور دل کھولے۔ آگے مدینہ میں اسی بھائی چارے کی بنیاد پر مؤاخات ہوئی۔ سورۃ النحل میں اللہ نے وعدہ کیا: «جنہوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کی، ہم انہیں دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر اس سے بڑا ہے» (16:41)۔
ہجرتِ مدینہ کا مقصد
ہجرت کا مقصد صرف ظلم سے بچ کر نکلنا نہیں تھا۔ یثرب میں امن کے ساتھ دین پر عمل، قرآن کی تعلیم، جماعتی زندگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ بنانے کا موقع بھی تھا۔ اسی لیے قرآن نے ایمان، ہجرت اور پناہ دینے والوں کو ایک ہی آیت میں یاد کیا؛ ہر گروہ کا اپنا کردار، لیکن ایک دوسرے کے لیے ذمہ داری۔ صحابہ کی الگ الگ رخصتیوں اور ان کے ناموں کی تفصیل سیرت میں ملتی ہے؛ روانگی کی قطعی ترتیب اور ہر شخص کا سفر ہر مأخذ میں ایک جیسا نہیں۔
انصار کے گھروں نے مہاجرین کے لیے اپنی جگہ کھولی۔
عملی سبق
- دین اور ضمیر کی حفاظت کے لیے کبھی مشکل فیصلہ اور نئی شروعات ضروری ہوتی ہے۔
- ہجرت کا تجربہ دکھاتا ہے کہ گھر چھوڑنا صرف سفر نہیں؛ رشتوں، روزگار اور یادوں سے جدائی بھی ہے۔
- نیت عمل کی روح ہے؛ ایک ہی کام نیت سے عبادت یا دنیا بن جاتا ہے (مسلم 1907)۔
- میزبان کی طرف سے جگہ دینا اور مدد کرنا کسی نئے آنے والے کو دوبارہ کھڑا ہونے کا موقع دیتا ہے۔
- اپنی سہولت سے دوسروں کی قربانی ناپنے کے بجائے ان کی مجبوریاں سمجھنے کی کوشش کریں۔
خلاصہ
دوسری بیعت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دکھائی گئی «کھجوروں والی زمین» کی طرف ہجرت کی اجازت دی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ کے لیے روکا (بخاری 3905)۔ مہاجرین مرحلہ وار روانہ ہوئے؛ سب سے پہلے حضرت مصعب اور ابنِ ام مکتوم، پھر بلال، سعد، عمار، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیس ساتھیوں کے ساتھ (بخاری 3925)۔ ام سلمہ اور صہیب رضی اللہ عنہما جیسے واقعات ہجرت کی قیمت بتاتے ہیں (سیرت)۔ قرآن نے مہاجرین اور انصار دونوں کو سچے مومن کہا (الانفال 8:72–74)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ صحابہ نے مدینہ ہجرت کب شروع کی؟
دوسری بیعتِ عقبہ (نبوت کا تیرہواں سال) کے بعد؛ سب ایک ساتھ نہیں گئے، روانگی مرحلہ وار ہوئی۔
۲۔ مدینہ سب سے پہلے کون پہنچا؟
صحیح بخاری 3925 کے مطابق حضرت مصعب بن عمیر اور ابنِ ام مکتوم رضی اللہ عنہما، جو لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔
۳۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو فوراً جانے سے کیوں روکا؟
صحیح بخاری 3905 کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بھی اجازت ملنے کی امید ہے؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انتظار کیا اور پھر ہم سفر بنے۔
۴۔ کیا قرآن میں مہاجرین اور انصار کا ذکر ہے؟
جی ہاں۔ سورۃ الانفال 8:72–74 ایمان لانے، ہجرت کرنے، پناہ دینے اور مدد کرنے والوں کا ذکر کرتی ہے؛ النساء 4:97–100 اور النحل 16:41 میں بھی ہجرت کا بیان ہے۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الانفال 8:72–75؛ النساء 4:97–100؛ النحل 16:41۔
- صحیح بخاری 3905: دارِ ہجرت کا خواب، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تیاری اور انتظار۔
- صحیح بخاری 3925: مدینہ پہنچنے والوں کی ترتیب۔
- صحیح مسلم 1907 / صحیح بخاری 1: نیت کی حدیث۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: ام سلمہ، ابو سلمہ، صہیب رضی اللہ عنہم اور مہاجرین کے مراحل؛ ابن سعد، الطبقات۔
صحیح روایات اور سیرت کی تفصیلات الگ درجے پر رکھی گئی ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment