دوسری بیعتِ عقبہ: حفاظت کا عہد جس نے ہجرت کا دروازہ کھولا
دوسری بیعتِ عقبہ: حفاظت کا عہد جس نے ہجرت کا دروازہ کھولا
پہلی بیعتِ عقبہ کے بعد یثرب میں اسلام پھیلتا رہا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ لوگوں کو قرآن اور دین کی تعلیم دے رہے تھے۔ اگلے حج کے موسم میں یثرب سے ایک بڑا گروہ مکہ آیا۔ رات کو، جب لوگ اپنے ٹھکانوں پر تھے، وہ خاموشی سے عقبہ کے قریب جمع ہوئے۔ ان کا مقصد سنجیدہ تھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر آنے کی دعوت دینا اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا ذمہ لینا۔
حج کے بعد، رات کی خاموشی میں یثرب کے افراد عقبہ کے پاس جمع ہوئے۔
پہلی اور دوسری بیعت کا فرق
پچھلے سال کی پہلی بیعت میں اللہ کی وحدانیت اور اخلاقی ذمہ داریوں کا وعدہ ہوا تھا (صحیح بخاری 3892)۔ اس دوسری بیعت کا دائرہ زیادہ وسیع تھا: یثرب کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے درمیان بلانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اپنے گھر والوں کی طرح کرنے کو تیار تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملنے والی قبائلی حفاظت، جو ابو طالب کی وفات اور طائف کے انکار کے بعد کمزور ہو چکی تھی، اب ایک نئے شہر کے لوگ اپنے ذمے لے رہے تھے؛ اور اس فیصلے کے اثرات ان کے اپنے خاندانوں تک جا سکتے تھے۔
سیرت کے مشہور بیان میں گروہ کی تعداد تہتر مرد اور دو خواتین بتائی جاتی ہے۔ بعض روایات میں عدد یا فہرست کا فرق ملتا ہے، اس لیے یہ عام طور پر منقول تعداد ہے، ہر تفصیل پر متفق حتمی فہرست نہیں۔ خواتین میں حضرت نسیبہ بنت کعب (ام عمارہ) اور حضرت اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہما کا ذکر آتا ہے۔ یہ واقعہ نبوت کے تیرہویں سال، ہجرت سے تقریباً تین ماہ پہلے، ذوالحجہ کے ایامِ تشریق میں پیش آیا۔
حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی تنبیہ
ابن اسحاق کی سیرت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اس ملاقات میں ساتھ تھے۔ انہوں نے یثرب کے لوگوں کو یاد دلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان کے درمیان عزت اور حفاظت رکھتے ہیں؛ اگر یثرب کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر بلائیں تو انہیں پوری طرح بچانے کے لیے تیار ہونا ہوگا، ورنہ ابھی سے چھوڑ دیں۔ یہ ایک بھاری ذمہ داری تھی، اس لیے فیصلہ جذباتی لمحے میں نہیں، انجام سمجھ کر کرنا تھا۔ روایت انہیں اس وقت مسلمان نہیں بتاتی؛ وہ اپنے بھتیجے کی حفاظت اور یثرب والوں کے عہد کی سنجیدگی کے لیے آئے تھے۔ اس گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ملاقات صرف روحانی جذبے کی نہیں، حقیقی حفاظت اور قبیلے کے خطرے کی بھی تھی۔
یہ صرف اقرار نہیں، حفاظت اور ذمہ داری کا عہد تھا۔
حفاظت کا عہد
مسند احمد میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دوسری بیعت کی تفصیل نقل ہوئی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق انصار نے عرض کیا: «یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے کس بات پر بیعت کریں؟» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ، وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ، وَلَكُمُ الْجَنَّةُ
«تم مجھ سے بیعت کرو: چستی اور سستی دونوں حالتوں میں سننے اور اطاعت کرنے پر؛ تنگی اور آسانی میں خرچ کرنے پر؛ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے پر؛ اللہ کے معاملے میں حق کہنے پر اور اس میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے پر؛ اور اس پر کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو تم میری مدد کرو اور مجھے اس سے بچاؤ جس سے اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہو؛ اور تمہارے لیے جنت ہے۔» (مسند احمد، روایتِ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (حدیث 14456، محققین نے سند کو صحیح کہا)؛ نیز ابن ہشام)
یہ روایت صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں نہیں، مسند احمد اور سیرت کے مآخذ میں ہے، اور محدثین نے اس کی سند کو قابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ اس کا مضمون پہلی بیعت کے بخاری 3892 والے عہد سے الگ ہے: پہلی بیعت میں بنیادی ایمانی اور اخلاقی شرائط تھیں؛ دوسری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی حفاظت کا واضح ذمہ بھی شامل ہوا۔ صحیح بخاری میں اس رات کی شہادت حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی زبانی موجود ہے، جو اس میں شریک تھے:
وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الإِسْلاَمِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا
«میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقبہ کی رات میں حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر پختہ عہد کیا، اور مجھے یہ پسند نہیں کہ اس کے بدلے مجھے بدر کی حاضری مل جائے، اگرچہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3889)
اس بیعت کا مطلب یہ تھا کہ یثرب کے لوگ صرف اپنے شہر میں ایک مہمان قبول نہیں کر رہے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مکہ سے آنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے گھر، اپنی سماجی قوت اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے تھے۔ انہوں نے یہ ذمہ داری سمجھ کر قبول کی؛ اسی لیے قرآن نے انہیں «پناہ دینے اور مدد کرنے والے» کہا (الانفال 8:72)۔
بارہ نقیب اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندے اور ذمہ دار بنے۔
بارہ نقیب اور جماعت کی ذمہ داری
سیرت کے مطابق اس گروہ میں سے بارہ نقیب منتخب کیے گئے: نو خزرج سے اور تین اوس سے۔ نقیب اپنے لوگوں کا نمائندہ اور ذمہ دار ہوتا تھا۔ یہ انتخاب نئے جماعتی رابطے کو منظم کرنے کے لیے تھا: مختلف قبیلوں کے لوگ ایک نظام میں جڑتے اور اپنے اپنے حلقے تک پیغام اور ذمہ داری پہنچاتے۔ نقیبوں کے ناموں میں حضرت اسعد بن زرارہ، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت براء بن معرور اور حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ جیسے نام آتے ہیں؛ پوری فہرست ابن اسحاق کے بیان میں ہے۔ اس کا اثر یہ تھا کہ یثرب میں اسلام صرف افراد کا ایمان نہ رہا؛ ایک ایسی جماعت تیار ہو رہی تھی جو اپنے شہر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کو پناہ دینے کا ذمہ سمجھ رہی تھی۔
رات کے بعد نیا دور
بیعت کے بعد یثرب کے افراد اپنے قافلوں اور لوگوں کے درمیان واپس چلے گئے۔ سیرت کے مطابق اگلی صبح قریش کو خبر لگی؛ انہوں نے یثرب کے قافلے سے پوچھ گچھ کی، اور بعد میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو مکہ میں پکڑ کر تکلیف دی گئی، جنہیں ان کے تجارتی تعلق دار قریشیوں نے چھڑایا۔ دباؤ بڑھا، لیکن عہد میں شامل لوگ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اگلے مرحلے میں مکہ کے مسلمانوں کو یثرب ہجرت کی اجازت ملی، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہجرت فرمائی۔
دوسری بیعتِ عقبہ اس لیے سیرت کا موڑ ہے کہ یہاں یثرب کے لوگوں نے دعوت سننے سے آگے بڑھ کر اس کے ذمہ دار نگہبان بننے کا فیصلہ کیا۔ مکہ کے غم اور مخالفت کے بعد اب ایک شہر نے اپنے دروازے اور دل کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
اس بیعت نے مکہ سے یثرب ہجرت کا راستہ کھولا۔
عملی سبق
- کسی کی حفاظت کا وعدہ صرف الفاظ نہیں؛ اس کے ساتھ ذمہ داری اور قربانی بھی آتی ہے۔
- جماعتی کام مشورے، نمائندگی اور واضح ذمہ داریوں (نقیب) سے مضبوط ہوتا ہے۔
- اپنے شہر یا خاندان میں نئے آنے والوں کے لیے امن اور عزت کا ماحول بنانا ایمانی اخلاق کا حصہ ہے۔
- جذبے کے ساتھ انجام سمجھنا بھی ضروری ہے؛ یثرب والوں نے پہلے ذمہ داری کو سمجھا، پھر عہد کیا۔
- حق بات کہنے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا اس بیعت کی شرط تھی۔
خلاصہ
عقبہ کی رات یثرب والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنے شہر آنے کی دعوت نہیں دی؛ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور ساتھیوں کی مدد کا ذمہ قبول کیا۔ ان کے عہد میں سننا، اطاعت، خرچ، نیکی کا حکم، حق گوئی اور گھر والوں جیسی حفاظت سب شامل تھے (مسند احمد)؛ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس رات کو بدر سے بھی عزیز کہا (بخاری 3889)۔ بارہ نقیب مقرر ہوئے۔ یہ واقعہ مکی دور کی تکلیف سے ہجرت کے نئے مرحلے تک کا پل بنا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ دوسری بیعتِ عقبہ میں کتنے لوگ تھے؟
سیرت کی مشہور روایت میں تہتر مرد اور دو خواتین؛ مختلف نقلوں میں عدد اور فہرست کا کچھ فرق ملتا ہے۔
۲۔ اس بیعت میں کیا نیا تھا؟
ایمان اور نیک عمل کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو یثرب میں اپنے گھر والوں کی طرح حفاظت دینے کا عہد شامل ہوا۔
۳۔ کیا اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں ہے؟
عہد کی تفصیلی روایت مسند احمد اور سیرت کی کتابوں میں ہے۔ صحیح بخاری 3889 میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اس رات میں شرکت کی گواہی ہے، اور 3892 پہلی بیعت کا عہد بیان کرتی ہے۔
۴۔ بارہ نقیب کون تھے؟
اوس اور خزرج کے منتخب نمائندے (نو خزرج، تین اوس)، جن کا کام اپنے قبائل میں عہد اور جماعتی رابطے کی نگرانی تھا؛ نام سیرت میں ہیں۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری 3889: حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی عقبہ کی رات کی گواہی۔
- مسند احمد، حدیث 14456 (روایتِ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما): دوسری بیعت کے مضامین؛ مختلف نسخوں میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے۔
- صحیح بخاری 3892: پہلی بیعت کا عہد (موازنے کے لیے)۔
- القرآن الکریم، سورۃ الانفال 8:72: مہاجرین اور پناہ دینے والوں کا ذکر۔
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ (ابن اسحاق): دوسری بیعت، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی گفتگو، نقیبوں کے نام؛ ابن سعد، الطبقات۔
صحیح بخاری کی گواہی، مسند احمد کے مضامین اور سیرت کی تفصیلات کو ان کے درجے پر رکھا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment