وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت موسیٰ علیہ السلام: فرعون کے مقابلے میں حق کی آواز

حضرت موسیٰ علیہ السلام: فرعون کے مقابلے میں حق کی آواز

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت موسیٰ علیہ السلام

حضرت موسیٰ علیہ السلام: فرعون کے مقابلے میں حق کی آواز

بچپن کی حفاظت، مدین کی ہجرت، طور کی ندا اور بنی اسرائیل کی نجات — قرآن اور صحیح روایات کی روشنی میں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام ان پیغمبروں میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن میں سب سے زیادہ تفصیل سے آیا ہے۔ ان کی زندگی میں فرعون کے ظلم کے درمیان بچپن کی حفاظت، مدین کی ہجرت، طور پر وحی، فرعون کے سامنے حق کی دعوت، بنی اسرائیل کی نجات اور اللہ کے کلام سے نوازا جانا شامل ہے۔ قرآن انہیں «مُخْلَصًا» — چنا ہوا بندہ — رسول اور نبی کہتا ہے (مریم 19:51)، اور فرماتا ہے کہ اللہ نے موسیٰ سے براہِ راست کلام فرمایا: «وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» (النساء 4:164)۔

اس مضمون میں پہلے قرآن کی بیان کردہ بنیادی سیرت اور پھر صحیح بخاری کی مناسب روایات رکھی گئی ہیں۔ قرآن ان کی والدہ، فرعون، مدین کے بزرگ یا فرعون کی بیوی کے ذاتی نام نہیں بتاتا؛ اس لیے تفسیری اور تاریخی اقوال کو قرآنی یقین یا صحیح حدیث کا درجہ نہیں دیا گیا۔ فرعون کا اصل تاریخی نام اور زمانہ بھی قطعی طور پر معین نہیں۔

ظلم کے دور میں پیدائش اور بچپن کی حفاظت

سورۂ قصص فرعون کے ظلم کا ذکر کرتی ہے: اس نے زمین میں سرکشی کی، لوگوں کو گروہوں میں بانٹا اور بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرواتا اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑتا تھا (القصص 28:4)۔ انہی حالات میں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا:

وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
«اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو الہام کیا کہ اسے دودھ پلاؤ؛ پھر جب تمہیں اس کے بارے میں خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور نہ ڈرو نہ غم کرو؛ بے شک ہم اسے تمہاری طرف لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔» (القصص 28:7)

یہ وحی کا واقعہ ہے مگر اس سے ان کی والدہ کا نبی ہونا لازم نہیں آتا۔ وہ حکم کے مطابق بچے کو صندوق میں رکھ کر پانی کے حوالے کرتی ہیں۔ فرعون کے گھر والے اسے نکال لیتے ہیں۔ فرعون کی بیوی کہتی ہے: یہ میرے اور تمہارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے؛ اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں (القصص 28:8–9)۔ موسیٰ علیہ السلام کسی دودھ پلانے والی کا دودھ قبول نہیں کرتے؛ ان کی بہن دور سے خبر رکھتی ہیں اور ایک ایسے گھر کا پتہ دیتی ہیں جو بچے کی پرورش کرے۔ یوں اللہ انہیں ان کی ماں کے پاس لوٹا دیتا ہے تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے (القصص 28:10–13)۔

دریا کے کنارے سرکنڈوں میں خالی ٹوکری — آبی رنگوں کی تصویر
پانی پر بہتا خالی صندوق — موسیٰ علیہ السلام کے بچپن کی حفاظت کا علامتی منظر

بنی اسرائیل کے مصری پس منظر کا تعارف حضرت یوسف علیہ السلام کی سیرت میں ملتا ہے؛ اور ان کے نسب کے لیے حضرت یعقوب علیہ السلام کا مطالعہ مفید ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کو کسی خاص مصری بادشاہ کا نام دینے کے لیے قرآن یا صحیح حدیث سے کوئی سند نہیں۔

جوانی، ایک واقعہ اور مدین کی طرف ہجرت

جب موسیٰ علیہ السلام جوانی اور قوت کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور علم عطا فرمایا (القصص 28:14)۔ ایک دن وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوئے جب لوگ بے خبر تھے؛ وہاں ایک اسرائیلی اور ایک مصری میں جھگڑا تھا۔ اپنی قوم کے آدمی کی مدد کی پکار پر انہوں نے مصری کو مکا مارا جس سے وہ مر گیا۔ قرآن اسے شیطانی عمل کہتا ہے اور موسیٰ علیہ السلام کی ندامت اور دعا نقل کرتا ہے:

قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
«کہا: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔ تو اس نے اسے بخش دیا؛ بے شک وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔» (القصص 28:15–16)

اس واقعے کو نہ چھپانا چاہیے نہ غیر ضروری ڈرامائی تفصیل سے بھرنا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ قتل غیر ارادی تھا، موسیٰ علیہ السلام نے نادم ہو کر مغفرت مانگی اور اللہ نے معاف فرمایا۔ اگلے دن خطرہ بڑھنے پر ایک خیر خواہ نے انہیں نکل جانے کا مشورہ دیا، اور وہ خوف کے ساتھ مگر اللہ سے ہدایت مانگتے ہوئے مصر سے نکلے (28:18–21)۔

مدین پہنچ کر انہوں نے ایک کنویں پر لوگوں کو پانی پلاتے اور دو خواتین کو الگ کھڑے دیکھا۔ وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ چرواہوں کے جانے کے بعد پانی پلاتی ہیں اور ان کے والد بوڑھے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کے جانوروں کو پانی پلایا، پھر سائے میں جا کر دعا کی: «رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ» — اے میرے رب! تو جو بھلائی بھی میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں (القصص 28:23–24)۔

قَالَتْ إِحْدَىٰهُمَا يَـٰٓأَبَتِ ٱسْتَـْٔجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ ٱسْتَـْٔجَرْتَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْأَمِينُ
«ان دونوں میں سے ایک نے کہا: اے میرے والد! اسے اجرت پر رکھ لیجیے؛ بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔» (القصص 28:26)

بزرگ نے موسیٰ علیہ السلام کی پوری بات سنی، تسلی دی، اور آٹھ یا دس سال خدمت کے عوض اپنی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کی (28:27–28)۔ قرآن ان بزرگ کا نام نہیں لیتا؛ تفسیر اور قصص میں انہیں حضرت شعیب علیہ السلام کہا گیا ہے، مگر قرآن یا صحیحین اس شناخت کی تصریح نہیں کرتے۔

مدین کا کنواں اور چرواہوں کا سامان — آبی رنگوں کی تصویر
مدین کا کنواں — «بہترین اجیر وہ جو طاقتور اور امانت دار ہو» (28:26)

طور پر ندا، نبوت اور ہارون علیہ السلام کی مدد

مدت پوری کر کے موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر والوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ طور کے قریب انہوں نے آگ دیکھی اور گھر والوں کو ٹھہرا کر وہاں گئے۔ وہاں ندا آئی:

فَلَمَّآ أَتَىٰهَا نُودِىَ يَـٰمُوسَىٰٓ ۝ إِنِّىٓ أَنَا۠ رَبُّكَ فَٱخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ۝ وَأَنَا ٱخْتَرْتُكَ فَٱسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰٓ ۝ إِنَّنِىٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعْبُدْنِى وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكْرِىٓ
«پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو پکارا گیا: اے موسیٰ! بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں، سو اپنے جوتے اتار دو؛ تم مقدس وادی طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں چن لیا ہے، سو جو وحی کی جاتی ہے اسے سنو۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔» (طٰہٰ 20:11–14)

اللہ نے انہیں عصا اور روشن ہاتھ کی نشانیاں عطا فرمائیں: عصا زمین پر ڈالتے تو سانپ بن کر دوڑتا؛ ہاتھ بغل میں رکھ کر نکالتے تو بغیر کسی بیماری کے روشن نکلتا (طٰہٰ 20:17–23)۔ یہ اللہ کی نشانیاں تھیں، جادو یا ذاتی قوت نہیں۔ پھر حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سرکشی کی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے وہ دعا مانگی جو آج بھی ہر مشکل کام سے پہلے مانگی جاتی ہے:

قَالَ رَبِّ ٱشْرَحْ لِى صَدْرِى ۝ وَيَسِّرْ لِىٓ أَمْرِى ۝ وَٱحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِى ۝ يَفْقَهُوا۟ قَوْلِى ۝ وَٱجْعَل لِّى وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِى ۝ هَـٰرُونَ أَخِى ۝ ٱشْدُدْ بِهِۦٓ أَزْرِى ۝ وَأَشْرِكْهُ فِىٓ أَمْرِى
«کہا: اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے، اور میری زبان کی گرہ کھول دے، تاکہ وہ میری بات سمجھیں۔ اور میرے گھر والوں میں سے میرے لیے ایک وزیر بنا دے: ہارون، میرا بھائی؛ اس سے میری کمر مضبوط کر، اور اسے میرے کام میں شریک کر۔» (طٰہٰ 20:25–32)

اللہ نے درخواست قبول فرمائی (20:36) اور ہارون علیہ السلام کو نبی بنا کر ان کا مددگار بنایا (19:53)۔ دونوں کو حکم ہوا: «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ» — اس سے نرم بات کہو، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈرے (طٰہٰ 20:43–44)۔ یہ آیت دعوت کے اسلوب کا اصول ہے: سب سے بڑے سرکش کے سامنے بھی پہلا قدم نرمی ہے۔

رات کے پہاڑوں میں دور سے چمکتی روشنی — آبی رنگوں کی تصویر
طور کی وادی میں آگ کا منظر — وحی اور نبوت کے آغاز کا علامتی منظر

فرعون کے سامنے دعوت اور جادوگروں کا ایمان

موسیٰ اور ہارون علیہما السلام نے فرعون کو رب ہونے کا دعویٰ چھوڑنے، اللہ کو پہچاننے اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی دعوت دی۔ فرعون نے تکبر اور دھمکی سے جواب دیا اور جادوگروں کو جمع کر کے مقابلے کا دن مقرر کیا (الاعراف 7:103–126؛ طٰہٰ 20:47–73)۔ جادوگروں نے رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور لوگوں کی نظر بندی کی؛ اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کے بنائے ہوئے جھوٹے منظر کو نگل گیا۔

جادوگر اپنے فن کو پہچانتے تھے۔ حقیقت سامنے آتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور کہا: «آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ»۔ فرعون نے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی، مگر انہوں نے کہا کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور واضح دلائل کے بعد ایمان سے نہیں پلٹ سکتے (20:70–73)۔ ان کی تعداد اور نام آیات میں نہیں۔ پھر مصر پر قحط، پھلوں کی کمی، طوفان، ٹڈی، جوئیں، مینڈک اور خون کی نشانیاں آئیں؛ ہر بار فرعون اور اس کے سردار وعدہ کر کے مکر گئے (الاعراف 7:130–136)۔

سمندر کا راستہ اور فرعون کا انجام

اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر نکلنے کا حکم دیا۔ فرعون لشکر لے کر پیچھے آیا۔ جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بولے کہ ہم تو پکڑے گئے۔ ان کا جواب قرآن میں یقین کا مختصر مگر عظیم جملہ ہے:

فَلَمَّا تَرَٰٓءَا ٱلْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَـٰبُ مُوسَىٰٓ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ ۝ قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ
«پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: ہم تو پکڑے گئے۔ کہا: ہرگز نہیں؛ بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔» (الشعراء 26:61–62)

اللہ نے عصا سمندر پر مارنے کا حکم دیا؛ پانی پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی پار ہوئے، اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوا (الشعراء 26:63–68؛ طٰہٰ 20:77–79)۔ اللہ نے فرمایا: «فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً» — آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو (یونس 10:92)۔ سمندر کا موجودہ مقام، واقعے کا سال یا فرعون کی لاش کی کسی موجودہ ممی سے قطعی شناخت قرآن اور صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ عاشورا کے روزے کا تعلق اسی نجات سے ہے (صحیح بخاری 2004)۔

پھٹا ہوا سمندر اور خشک راستہ — آبی رنگوں کی تصویر
«ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا» (26:63) — بنی اسرائیل کی نجات کا علامتی منظر

طور، تورات اور بنی اسرائیل کے امتحان

نجات کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو مقررہ مدت کے لیے طور پر بلایا گیا جہاں انہیں تورات ملی۔ اللہ نے فرمایا: «يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي» — اے موسیٰ! میں نے تمہیں اپنے پیغامات اور اپنے کلام کے ساتھ لوگوں پر چن لیا (الاعراف 7:144)۔ اسی دوران سامری کے بہکانے پر قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی؛ ہارون علیہ السلام نے روکا مگر انہوں نے نہ مانا (طٰہٰ 20:85–94)۔ موسیٰ علیہ السلام واپس آئے، سخت رنج کا اظہار کیا، سامری کو الگ کیا اور بچھڑے کو جلا کر سمندر میں بکھیر دیا (20:95–98)۔

سفر کے دوران بنی اسرائیل کو من و سلویٰ ملا، اور پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشمے پھوٹے (البقرہ 2:57–60)۔ قرآن ان کی نافرمانیوں اور اللہ کی نعمتوں کا ذکر ساتھ ساتھ کرتا ہے؛ موسیٰ علیہ السلام بار بار انہیں اللہ کے حکم کی طرف بلاتے رہے۔

علم کی طلب: موسیٰ علیہ السلام اور خضر

صحیح بخاری میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں۔ اللہ نے اس پر ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف نہیں لوٹایا، اور بتایا کہ دو سمندروں کے سنگم پر میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ جاننے والا ہے (صحیح بخاری 3401؛ 74)۔ قرآن اس بندے کا نام نہیں لیتا؛ حدیث انہیں خضر کہتی ہے۔ سورۂ کہف 18:60–82 میں اس سفر اور ملاقات کا قصہ ہے۔

إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ
«میرے پاس اللہ کے علم میں سے وہ علم ہے جو اللہ نے مجھے سکھایا اور آپ نہیں جانتے؛ اور آپ کے پاس اللہ کے علم میں سے وہ علم ہے جو اللہ نے آپ کو سکھایا اور میں نہیں جانتا۔» (صحیح بخاری 3401 — خضر کے الفاظ)

ملاقات کے بعد تین واقعات پیش آئے: کشتی میں سوراخ، ایک لڑکے کا قتل، اور گرتی دیوار کی بلا معاوضہ مرمت۔ موسیٰ علیہ السلام ہر بار ظاہری عمل پر سوال کرتے رہے۔ آخر میں خضر نے بتایا کہ کشتی غریبوں کی تھی اور آگے ایک ظالم بادشاہ ہر صحیح کشتی چھین لیتا تھا؛ لڑکے کے والدین مومن تھے اور اس کے مستقبل کے فتنے کا اللہ کو علم تھا؛ دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ تھا؛ «وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي» — میں نے یہ اپنی مرضی سے نہیں کیا (الکہف 18:79–82)۔ اس قصے سے کوئی عام شخص اپنے خواب یا کشف کی بنیاد پر شریعت کے خلاف عمل کا جواز نہیں لے سکتا؛ ہدایت کا عام راستہ قرآن و سنت ہے۔

صحیح حدیث میں موسیٰ علیہ السلام کی حیا اور وفات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نہایت حیا دار اور بدن ڈھانپنے والے تھے؛ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے ان پر جسمانی عیب کا الزام لگایا، اور اللہ نے انہیں اس تہمت سے بری کیا۔ یہی سورۂ احزاب کی آیت کا پس منظر ہے: «فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا» (الاحزاب 33:69؛ صحیح بخاری 3404)۔

وفات کے بارے میں صحیح بخاری میں ہے کہ ملک الموت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے؛ پھر اللہ نے انہیں اختیار دیا کہ بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھیں اور جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں اتنے سال اور جئیں۔ انہوں نے پوچھا: پھر کیا؟ فرمایا: پھر موت۔ کہا: تو ابھی۔ اور اللہ سے دعا کی کہ انہیں ارضِ مقدس کے قریب کر دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے کنارے سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا (صحیح بخاری 3407)۔ اس حدیث سے کسی موجودہ مقام کو یقینی قبر کہنا ثابت نہیں ہوتا۔

عملی سبق

  1. اللہ پر بھروسا، ذمہ داری کے ساتھ: سمندر کے سامنے «كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ» (26:62)۔
  2. غلطی پر فوری رجوع: «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» (28:16) — انبیا کی سیرت میں اعترافِ خطا نمایاں ہے۔
  3. علم میں تواضع: خضر کے واقعے میں سب سے بڑے نبی نے سیکھنے کے لیے سفر کیا؛ انسان کا علم اللہ کے علم کا چھوٹا سا حصہ ہے۔
  4. مظلوم کی مدد اور امانت: مدین کے کنویں پر بلا معاوضہ خدمت؛ قرآن نے انہیں «الْقَوِيُّ الْأَمِينُ» کہا۔
  5. دعوت میں نرمی: فرعون جیسے سرکش کے لیے بھی حکم «قَوْلًا لَّيِّنًا» کا تھا (20:44)۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے براہِ راست ہم کلام ہوئے؟

جی ہاں۔ «وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا» (النساء 4:164)؛ اسی لیے انہیں «کلیم اللہ» کہا جاتا ہے۔

۲۔ فرعون کا نام اور زمانہ معلوم ہے؟

قرآن اور صحیح حدیث فرعون کو نام سے معین نہیں کرتے اور واقعات کا سال نہیں بتاتے؛ کسی خاص بادشاہ کو یقینی کہنا دلیل سے زیادہ دعویٰ ہے۔

۳۔ مدین کے بزرگ کیا حضرت شعیب علیہ السلام تھے؟

قرآن (28:23–28) ان کا نام نہیں لیتا۔ تفسیر میں یہ قول مشہور ہے مگر قرآن یا صحیحین سے قطعی ثابت نہیں۔

۴۔ کیا خضر کے عمل کی پیروی عام لوگ کر سکتے ہیں؟

نہیں۔ قرآن نے صراحت کی کہ وہ اللہ کے خاص حکم اور علم سے تھا (18:82)۔ عام مسلمان کے لیے شریعت کا ظاہری حکم ہی راستہ ہے۔

۵۔ عاشورا کا موسیٰ علیہ السلام سے کیا تعلق ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور فرعون کو غرق کیا؛ اس لیے آپ نے اس دن روزہ رکھا اور رکھنے کا حکم دیا (صحیح بخاری 2004)۔

دعا

اے اللہ! ہمارے سینے کھول دے، ہمارے کام آسان کر، ہماری زبانوں کی گرہیں کھول دے، اور ہر مشکل میں ہمیں یہ یقین عطا فرما کہ «إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ»۔ «رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي»۔ آمین۔

حوالے

ماخذ کی وضاحت: اس مضمون میں قرآن اور صحیح بخاری کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ فرعون کا نام، مدین کے بزرگ کی شناخت، سمندر اور قبر کے مقامات قرآن و صحیح حدیث میں نہیں؛ انہیں یقینی دین نہ سمجھا جائے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments