حضرت صالح علیہ السلام اور قومِ ثمود: اللہ کی اونٹنی، نو سرغنے اور عبرت کی بستیاں
حضرت صالح علیہ السلام اور قومِ ثمود: اللہ کی اونٹنی، نو سرغنے اور عبرت کی بستیاں
حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے، جو عاد کے بعد زمین میں بسائی گئی، میدانوں میں محل بناتی اور پہاڑ تراش کر گھر بناتی تھی۔ انہوں نے نشانی مانگی تو اللہ نے ایک اونٹنی کو «اللہ کی اونٹنی» بنا کر بھیجا اور پانی کی باری مقرر کی۔ قوم نے اسے کاٹ ڈالا اور تین دن بعد ایک چیخ نے انہیں ان کے گھروں میں اوندھا گرا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک میں ان کی بستیوں سے گزرے اور صحابہ کو روتے ہوئے گزرنے کا حکم دیا۔ یہ مضمون قرآن اور صحیح حدیث پر مبنی ہے۔
«اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے» (حجر 15:82)۔
ثمود کون تھے؟
قرآن ثمود کو «اصحابِ حجر» بھی کہتا ہے (15:80)۔ حجر مدینہ اور تبوک کے درمیان کا علاقہ ہے جو آج العُلا کے قریب «مدائنِ صالح» کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو یاد دلایا:
وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
«اور یاد کرو جب اس نے تمہیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور زمین میں ٹھکانا دیا؛ تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔» (سورۃ الاعراف 7:74)
قرآن حضرت صالح علیہ السلام کو ثمود کا «بھائی» کہتا ہے، یعنی وہ اسی قوم کے فرد تھے (7:73)۔ ان کے والدین کے نام یا نسب کی تفصیل قرآن اور صحیح حدیث میں نہیں؛ کتابوں میں جو نام ملتے ہیں وہ بے سند ہیں۔ قوم نے کہا: «اے صالح! اس سے پہلے تم ہم میں امیدوں کا مرکز تھے؛ کیا تم ہمیں اس سے روکتے ہو جس کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے تھے؟» (11:62)۔ آپ علیہ السلام نے دعوت کے بدلے کوئی اجر نہ مانگا (26:145) اور قوم کو ان کے باغوں، چشموں، کھیتوں، کھجوروں اور تراشے ہوئے گھروں کی نعمتیں یاد دلائیں (26:146–149)۔
اللہ کی اونٹنی: نشانی اور آزمائش
قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
«تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آ چکی ہے: یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے؛ اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے، اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا۔» (سورۃ الاعراف 7:73)
اونٹنی کے لیے پانی کی باری مقرر کی گئی: «ایک دن پانی اس کا اور ایک مقرر دن تمہارا» (26:155؛ 54:28)۔ سورۃ الاسراء کہتی ہے کہ ثمود کو اونٹنی «کھلی نشانی» کے طور پر دی گئی مگر انہوں نے اس پر ظلم کیا (17:59)۔ قرآن یہ نہیں بتاتا کہ اونٹنی کس طرح ظاہر ہوئی؛ چٹان سے نکلنے، اس کے حمل اور بچے کی تفصیلات تفسیر اور قصص کی کتابوں میں ہیں، ان کی سند مضبوط نہیں۔ نشانی کا مقصد ایک تھا: قوم کو آزمانا کہ وہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حد کا احترام کرتی ہے یا نہیں (54:27)۔
«پانی ان کے درمیان بانٹا گیا ہے؛ ہر باری پر حاضری ہو» (القمر 54:28)۔
نو مفسد سردار اور اونٹنی کا کاٹا جانا
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
«اور شہر میں نو آدمی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر حملہ کریں گے، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم سچے ہیں۔» (سورۃ النمل 27:48–49)
قوم کے متکبر سرداروں نے کمزور ایمان والوں سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کا بھیجا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا؛ متکبرین بولے: ہم اس کے منکر ہیں (7:75–76)۔ پھر انہوں نے اپنے ساتھی کو پکارا، اس نے ہاتھ بڑھایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں (54:29)۔ سورۃ الشمس میں اللہ فرماتا ہے: «جب ان کا سب سے بدبخت اٹھا» (91:12)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے میں اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی:
انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ
«اس (اونٹنی) کے لیے ایک ایسا آدمی اٹھا جو طاقتور، شریر اور اپنے قبیلے میں بااثر تھا، ابو زمعہ جیسا۔» (صحیح بخاری، حدیث 4942)
حدیث اس شخص کا نام نہیں لیتی؛ تفسیر میں «قدار بن سالف» کا نام آتا ہے، جو تفسیری روایت ہے۔ قوم نے اونٹنی کاٹ کر گستاخی سے کہا: «اے صالح! جس عذاب کا تم وعدہ کرتے ہو وہ لے آؤ، اگر تم رسولوں میں سے ہو» (7:77)۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: «اپنے گھروں میں تین دن فائدہ اٹھا لو؛ یہ وعدہ جھوٹا نہیں» (11:65)۔
چیخ اور زلزلے کا عذاب
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ
«پھر انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو صالح ان سے منہ موڑ کر چلے گئے اور کہا: اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیرخواہی کی، لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔» (سورۃ الاعراف 7:78–79)
سورۃ ہود اسی عذاب کو «الصیحۃ» (چیخ) کہتی ہے (11:67) اور سورۃ القمر کہتی ہے کہ ہم نے ان پر ایک ہی چیخ بھیجی تو وہ باڑ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑ جیسے ہو گئے (54:31)۔ زلزلہ اور چیخ ایک ہی عذاب کے دو پہلو ہیں۔ حضرت صالح علیہ السلام اور ایمان والوں کو اللہ نے اپنی رحمت سے اس دن کی رسوائی سے بچا لیا (11:66)۔ اللہ نے عذاب کے انجام سے «نہیں ڈرتا» کہہ کر اپنی قدرت کا اعلان کیا (91:14–15)۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجر سے گزرے
غزوۂ تبوک (9 ہجری) کے سفر میں لشکر ثمود کی بستیوں کے پاس اترا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
«ان لوگوں کے گھروں میں، جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، داخل نہ ہو مگر روتے ہوئے؛ کہیں تمہیں بھی وہ نہ پہنچے جو انہیں پہنچا۔» (صحیح بخاری، حدیث 3381؛ صحیح مسلم 2980)
لوگوں نے وہاں کے کنویں سے پانی بھرا اور آٹا گوندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ پانی بہا دیں، آٹا اونٹوں کو کھلا دیں، اور صرف اس کنویں سے پانی لیں جس پر اونٹنی آتی تھی (صحیح بخاری 3379؛ 3378)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹنی کے کنویں کی پہچان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک محفوظ تھی۔ آج مدائنِ صالح کے آثار عالمی ورثے میں شامل ہیں اور لوگ وہاں سیر کے لیے جاتے ہیں؛ مومن کے لیے سنت یہ ہے کہ ایسی جگہوں سے عبرت اور خوف کے ساتھ گزرا جائے، تفریح کے انداز میں نہیں۔
جن باتوں میں احتیاط ضروری ہے
حضرت صالح علیہ السلام کے والد کا نام، اونٹنی کا چٹان سے نکلنا، اس کا دس ماہ کا حمل، اس کے بچے کا پہاڑ میں غائب ہونا، سازش کرنے والی عورتوں کے نام، اور قوم کے چہروں کا تین دن میں زرد، سرخ اور سیاہ ہونا؛ یہ سب تفسیر اور قصص کی روایات ہیں جن کی سند مضبوط نہیں۔ انہیں قصے کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے، مگر «قرآن میں ہے» یا «حدیث میں ہے» کہنا درست نہیں۔ اسی طرح سورۃ آلِ عمران 3:8 کی دعا کا ثمود سے کوئی تعلق نہیں۔ عاد اور ثمود کے قصے قرآن میں اکثر ساتھ آتے ہیں؛ حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کا مضمون اس کا پس منظر دیتا ہے۔
عملی سبق
- اللہ کی مقرر کردہ حدود کا احترام ایمان کا امتحان ہے؛ ایک اونٹنی کی حرمت پر پوری قوم آزمائی گئی۔
- فساد کرنے والے چند افراد (نو سردار) پوری بستی کو تباہی تک لے جا سکتے ہیں اگر باقی خاموش رہیں۔
- نعمتوں کی یاد دہانی اور خیرخواہی دعوت کا طریقہ ہے (26:146–152؛ 7:79)۔
- عبرت کی جگہوں سے روتے ہوئے گزرنا سنت ہے؛ ماضی کی تباہی کو سیر کا منظر نہ بنائیں (بخاری 3381)۔
- قصے کی تفصیل میں قرآن و صحیح حدیث اور بے سند روایت کا فرق قائم رکھیں۔
خلاصہ
حضرت صالح علیہ السلام ثمود کے بھائی تھے جو حجر میں پہاڑ تراش کر گھر بناتے تھے (7:74؛ 15:82)۔ اللہ نے اونٹنی کو نشانی بنایا اور پانی کی باری مقرر کی (7:73؛ 26:155)؛ نو مفسد سرداروں نے سازش کی اور قوم کے سب سے بدبخت نے اسے کاٹ ڈالا (27:48؛ 91:12؛ بخاری 4942)۔ تین دن بعد زلزلے اور چیخ نے انہیں ہلاک کیا، مومن بچ گئے (7:78؛ 11:65–67)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے راستے میں ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرنے کا حکم دیا (بخاری 3381؛ مسلم 2980)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ قومِ ثمود کہاں رہتی تھی؟
حجر میں، جو مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے؛ آج العُلا کے قریب مدائنِ صالح کے نام سے معروف ہے (قرآن 15:80؛ بخاری 3379)۔
۲۔ اونٹنی کس طرح ظاہر ہوئی؟
قرآن اسے «اللہ کی اونٹنی» اور «کھلی نشانی» کہتا ہے (7:73؛ 17:59)، مگر اس کے ظاہر ہونے کا طریقہ بیان نہیں کرتا۔ چٹان سے نکلنے کی تفصیل تفسیری روایات میں ہے۔
۳۔ اونٹنی کس نے کاٹی؟
قرآن کہتا ہے «ان کا سب سے بدبخت اٹھا» (91:12)؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبیلے کا بااثر شریر آدمی کہا (بخاری 4942)۔ نام (قدار) تفسیر سے ہے۔
۴۔ کیا مدائنِ صالح جانا جائز ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی جگہوں میں روتے ہوئے، عبرت کے ساتھ داخل ہونے کا حکم دیا اور وہاں کے کنویں کا پانی استعمال کرنے سے روکا (بخاری 3381، 3379)۔ عبرت کی نیت سے جانا سنت کے مطابق ہے، تفریح کا انداز نہیں۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الاعراف 7:73–79؛ ہود 11:61–68؛ الشعراء 26:141–159؛ النمل 27:45–53؛ القمر 54:23–31؛ الشمس 91:11–15؛ الحجر 15:80–84؛ الاسراء 17:59۔
- صحیح بخاری 3381 اور صحیح مسلم 2980: روتے ہوئے داخل ہونے کا حکم۔
- صحیح بخاری 3378 اور 3379: حجر کا کنواں، آٹا اور اونٹنی کا کنواں۔
- صحیح بخاری 4942: «انبعث اشقاها» کی نبوی تفسیر۔
- ابن کثیر، تفسیر / قصص الانبیاء: تفسیری روایات (اونٹنی کی تفصیل، قدار) کے لیے، ان کے درجے کے ساتھ۔
فرضی حدیث نمبر اور غیر متعلق مراجع حذف کیے گئے؛ قرآن اور صحیحین بنیاد ہیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment