حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کے صحیفوں کی جمع (صحیح بخاری 4986)
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کے صحیفوں کی جمع (صحیح بخاری 4986)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن کے لکھے ہوئے اجزا کو ایک مجموعے کی صورت میں جمع کرنے کا عظیم کام ہوا۔ اس کی پوری تفصیل صحیح بخاری 4986 میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی زبانی محفوظ ہے۔
قرآن کے لکھے ہوئے اجزا اور لکھنے کے سادہ وسائل کی علامتی تصویر۔
ایک ضروری فرق: حفظ، کتابت اور جمع
قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے سینوں میں یاد بھی تھا اور کاتبینِ وحی کے ہاتھوں لکھا بھی جاتا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور کا قدم یہ تھا کہ ان بکھرے ہوئے لکھے اجزا کو ایک جگہ، ایک مجموعے (صحف) کی صورت میں جمع کیا جائے۔ اللہ کا وعدہ ہے: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ «بے شک ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں» (الحجر 15:9)۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ کام اسی حفاظت کا ایک انسانی سبب بنا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشورہ
جنگِ یمامہ میں قرآن کے بہت سے قاری شہید ہوئے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھے تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا:
إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ
«عمر میرے پاس آئے اور کہا: یمامہ کے دن قرآن کے قاریوں میں بہت قتل ہوا؛ مجھے ڈر ہے کہ دوسرے مقامات پر بھی قاری شہید ہوں اور قرآن کا بہت حصہ جاتا رہے؛ میری رائے ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں» (صحیح بخاری، حدیث 4986)
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پہلے سوال اٹھایا: «ایسا کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟» حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللہ کی قسم یہ خیر ہے»، اور بار بار سمجھاتے رہے، یہاں تک کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «اللہ نے میرا سینہ اس کے لیے کھول دیا اور میں نے بھی وہی دیکھا جو عمر نے دیکھا تھا»۔ یہ سوال و جواب اتباعِ سنت کی احتیاط اور مصلحتِ دین کی سمجھ، دونوں کا حسین امتزاج ہے۔
حفظ اور کتابت: قرآنی متن کی حفاظت کے دو پہلو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «تم نوجوان، عقل مند ہو، ہم تم پر کوئی الزام نہیں رکھتے، اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے؛ پس قرآن کو تلاش کر کے جمع کرو»۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَىَّ مِمَّا أَمَرَنِي مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ
«اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کوئی پہاڑ اٹھا کر لے جانے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اس سے بھاری نہ ہوتا جو انہوں نے قرآن جمع کرنے کا حکم دیا» (صحیح بخاری، حدیث 4986)
زید رضی اللہ عنہ نے بھی وہی سوال کیا جو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پہلے اٹھایا تھا، اور پھر اللہ نے ان کا سینہ بھی اسی بات کے لیے کھول دیا۔ یہ منظر علم اور ذمہ داری کے ساتھ مشورے کی مثال ہے: کسی نے جلد بازی میں نیا قدم نہیں اٹھایا؛ پہلے اس کی شرعی اور عملی ضرورت پر بات ہوئی، پھر ایسے شخص کو ذمہ داری دی گئی جو وحی لکھنے کا تجربہ اور امانت کی شہرت رکھتا تھا۔
بکھرے ہوئے لکھے اجزا کو جمع کر کے صحیفوں کی صورت دینے کا کام۔
کھجور کی شاخیں، پتھر کی تختیاں اور سینے
روایت کے الفاظ ہیں: «فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ» یعنی میں نے قرآن کو کھجور کی شاخوں، پتلے سفید پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کیا۔ یہاں دو ذرائع ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں: لکھا ہوا متن اور حفاظ کا حفظ۔ بخاری کی یہ روایت جمع کے عمل کا مختصر خاکہ دیتی ہے؛ اس میں گواہوں کی تعداد یا کوئی تفصیلی ضابطہ بیان نہیں، اس لیے الگ حوالے کے بغیر ایسی تفصیلات کو اس حدیث کے الفاظ نہ کہا جائے۔
زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سورۃ التوبہ کی آخری آیات کا لکھا ہوا حصہ انہیں صرف حضرت ابو خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملا: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ سے سورت کے اختتام تک (التوبہ 9:128–129)۔ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ آیات صرف ایک شخص کو یاد تھیں؛ بات لکھے ہوئے نسخے کی تلاش کی ہے، جبکہ تلاوت اور حفظ پوری جماعت میں موجود تھا۔ متن سے اس سے زیادہ دعویٰ نہ کیا جائے جو الفاظ سے ثابت ہے۔
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد صحیفے عمر رضی اللہ عنہ، پھر حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہے۔
صحیفے کہاں رہے؟
روایت کے آخر میں ہے کہ یہ صحیفے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی وفات تک رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی بھر ان کے پاس، اور پھر ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس۔ اس مرحلے کو عثمانی مصحف کے کام سے الگ سمجھنا ضروری ہے: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں لکھے اجزا کو ایک مجموعے میں جمع کیا گیا، جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں انہی صحیفوں سے نسخے تیار کر کے شہروں کو بھیجے گئے؛ وہ الگ روایت اور الگ موضوع ہے۔
دین کی حفاظت میں اجتماعی ذمہ داری
اس واقعے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مشکل وقت میں فکر اور فیصلے کا توازن دکھایا؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مستقبل کے خطرے کو پہچانا؛ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے علم، امانت اور محنت سے ذمہ داری اٹھائی۔ قرآن کی حفاظت اللہ کے وعدے کے مطابق ہے، اور امت نے اپنی انسانی ذمہ داری کے طور پر کتابت اور حفظ دونوں ذرائع استعمال کیے۔ توکل اور اسباب کا یہی تعلق ہمارے لیے سبق ہے۔
عملی سبق
- دینی امانت کی حفاظت کے لیے علم، تحقیق، مشورہ اور ذمہ دارانہ کتابت ضروری ہے۔
- نیا قدم اٹھانے سے پہلے پوچھیں: کیا یہ خیر ہے، اور کیا یہ سنت کے خلاف تو نہیں؟ جیسے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا۔
- اہلیت کے مطابق ذمہ داری دیں؛ زید رضی اللہ عنہ کو ان کے تجربۂ وحی اور امانت کی وجہ سے چنا گیا۔
- بھاری ذمہ داری کو ہلکا نہ سمجھیں؛ زید رضی اللہ عنہ نے اسے پہاڑ اٹھانے سے بھاری کہا، پھر بھی نبھایا۔
- روایت سے وہی بات نکالیں جو اس کے الفاظ سے ثابت ہو؛ غیر موجود تفصیلات نہ جوڑیں۔
خلاصہ
یمامہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو قرآن کے لکھے اجزا جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔ زید رضی اللہ عنہ نے کھجور کی شاخوں، پتھر کی تختیوں اور حفاظ کے سینوں سے تلاش کر کے صحیفے تیار کیے، جو ابو بکر، پھر عمر، پھر حفصہ رضی اللہ عنہم کے پاس رہے (صحیح بخاری 4986)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور میں قرآن کیوں جمع کیا گیا؟
یمامہ میں قاریوں کی شہادت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مستقبل کے خطرے کے پیشِ نظر مشورہ دیا (بخاری 4986)۔
۲۔ یہ ذمہ داری کس کو دی گئی؟
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو، کیونکہ وہ کاتبِ وحی تھے اور ان کی امانت اور سمجھ پر بھروسا تھا۔
۳۔ کیا قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لکھا نہیں گیا تھا؟
لکھا بھی گیا تھا اور یاد بھی تھا؛ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور کا قدم ان اجزا کو ایک مجموعے کی صورت دینا تھا۔
۴۔ پہلے صحیفے کہاں رہے؟
ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اور پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس (بخاری 4986)۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری 4986: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت؛ جمعِ قرآن کا پورا واقعہ۔
- القرآن الکریم: الحجر 15:9: ذکر کی حفاظت کا وعدہ؛ التوبہ 9:128–129: روایت میں مذکور آخری آیات۔
یہ مضمون حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور کے جمعِ قرآن تک محدود ہے؛ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کے مصحف کو الگ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment