وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ، وصیت اور بیعت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ، وصیت اور بیعت

نAuthor Nawab
اسلامی تاریخ • خلافتِ راشدہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ، وصیت اور بیعت

سقیفہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ امت کے پہلے خلیفہ بنے۔ ان کی خلافت کے آخری دنوں میں ایک نیا سوال سامنے آیا: ان کے بعد قیادت کس کے سپرد ہو؟ یہ مضمون حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی کو صحیح حدیث کی گواہی اور تاریخی روایت کے فرق کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

سادہ کمرے میں نیچی میز، کاغذ اور گدے

مشورے اور وصیت کا علامتی منظر؛ یہ کسی خاص روایت کی اصل تصویر نہیں۔

صحیح حدیث میں اس واقعے کی گواہی

نامزدگی کی گفتگو اور وصیت کی تفصیل صحیح بخاری کی کسی ایک حدیث میں مکمل نہیں آتی؛ وہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ہے۔ مگر یہ بنیادی حقیقت کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنا جانشین مقرر کیا، خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی صحیح بخاری میں موجود ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ کسی کو خلیفہ مقرر کیوں نہیں کرتے، تو فرمایا:

إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو بَكْرٍ، وَإِنْ أَتْرُكْ فَقَدْ تَرَكَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
«اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو مجھ سے بہتر، ابو بکر، نے مقرر کیا تھا؛ اور اگر چھوڑ دوں تو مجھ سے بہتر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نے چھوڑا تھا» (صحیح بخاری، حدیث 7218)

اسی حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ذمہ داری سے برابر چھوٹ جائیں، نہ ثواب ہو نہ عذاب۔ اس سے خلافت کے بارے میں صحابہ کا تصور واضح ہوتا ہے: یہ عزت یا منصب نہیں، ایک بھاری امانت تھی۔ قرآن کا حکم ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ «بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو سونپو» (النساء 4:58)۔

آخری بیماری میں مشورہ

ابن سعد کی الطبقات الکبریٰ اور طبری کی تاریخ کی روایات کے مطابق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی آخری بیماری میں بزرگ صحابہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں رائے لی؛ ان میں حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کا ذکر آتا ہے۔ بعض روایتوں میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سختی کا اندیشہ بھی بیان ہوا اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ جواب کہ ذمہ داری آنے پر یہ سختی اعتدال میں آ جائے گی۔ ان گفتگوؤں کے الفاظ اور ترتیب تمام ماخذوں میں ایک جیسی نہیں؛ اس لیے انہیں لفظ بہ لفظ مکالمہ نہیں بلکہ تاریخی بیان سمجھنا چاہیے۔

شام کے وقت مدینہ کا خالی صحن اور کھجور کے درخت

مدینہ کا صحن، جہاں نئی قیادت کا اعلان لوگوں تک پہنچا۔

یہ مشورہ اس وقت ہوا جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی صحت اور امت کے مستقبل، دونوں کا سوال تھا۔ سقیفہ میں ان کی اپنی بیعت ایک اچانک پیدا ہونے والے نازک وقت میں ہوئی تھی؛ اب اگلے انتخاب کے بارے میں پہلے سے سوچنے کا موقع تھا۔ تاریخی روایت اسے فتنے اور انتشار سے بچانے کی کوشش کے طور پر بیان کرتی ہے، اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اصول پہلے گزر چکا کہ بیعت مسلمانوں کے مشورے سے ہو (صحیح بخاری 6830)۔

وصیت اور نامزدگی

تاریخی روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور وصیت لکھوائی؛ بعض روایتوں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اسے لکھنے کا ذکر ہے۔ پھر مدینہ کے لوگوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور ان سے اسے قبول کرنے کی درخواست کی۔ اعلان اور عوامی رضامندی کی تفصیل روایتوں میں مختلف ہے، اس لیے یہاں کسی لفظی خطبے یا ایک ہی طے شدہ طریقۂ کار کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔

مہر لگا ہوا لپٹا ہوا کاغذ اور دوات

وصیت کی تحریر: روایت میں نامزدگی سے پہلے مشورے کا ذکر ہے۔

نامزدگی اور بیعت: دو الگ مرحلے

نامزدگی کا مطلب یہ نہیں کہ بیعت کا کوئی مقام نہ رہا۔ تاریخی بیانات میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت کو امت کی بیعت اور قبولیت کے ذریعے آگے بڑھنے کا ذکر ہے۔ اس واقعے کو سقیفہ جیسا بھی نہیں کہا جا سکتا: وہاں وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے فوراً بعد مشورے اور بیعت کا عمل تھا؛ یہاں خلیفہ نے اپنے بعد کے لیے ایک نام پیش کیا اور پھر امت نے اس کی تصدیق کی۔ اور خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخر میں تیسرا راستہ اختیار کیا: چھ صحابہ کی شوریٰ (صحیح بخاری 3700)۔ تینوں طریقے ایک ہی اصول کی مختلف صورتیں ہیں: ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾ (الشوریٰ 42:38)۔

کھجور کے باغ اور کچے راستے پر نئے دن کی روشنی

ایک نئے دور کی صبح اور ذمہ داری کا بوجھ۔

نئی ذمہ داری کا آغاز

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کے دور کے اہم اقدامات، جیسے ہجری تقویم کا آغاز اور بیت المال اور دیوان، الگ مضامین میں بیان ہوئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے مناقب صحیح بخاری اور مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، مگر ان روایات کو نامزدگی کے تاریخی طریقۂ کار کا ثبوت سمجھنا دو الگ مسئلوں کو ملا دینا ہوگا۔

احتیاط: ماخذ کا درجہ

مسلم تاریخ میں خلیفہ کی نامزدگی، بیعت اور قیادت کے اصولوں پر مختلف مکاتبِ فکر نے اپنی تشریحات پیش کی ہیں۔ اس مضمون کا دائرہ ان کلامی بحثوں کا فیصلہ نہیں۔ ہم اتنا بیان کرتے ہیں کہ صحیح بخاری 7218 سے نامزدگی کی اصل ثابت ہے، اور تاریخی تذکروں میں مشورے، وصیت اور بعد کی بیعت کا سلسلہ ملتا ہے؛ ان کی جزئیات الگ تحقیق کا موضوع ہیں۔ کسی بعد کے سیاسی نظریے کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی نیت کہہ کر پیش کرنا احتیاط سے دور ہوگا۔

عملی سبق

  • اہم فیصلوں سے پہلے اہلِ رائے سے مشورہ؛ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بزرگ صحابہ سے رائے لی۔
  • قیادت عزت نہیں، امانت ہے؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے برابر چھوٹ جانے کی تمنا کی (بخاری 7218)۔
  • اپنے بعد کے لیے سوچنا دانش مندی ہے، تاکہ جماعت انتشار سے بچے۔
  • نامزدگی کے بعد بھی امت کی رضامندی اور بیعت کا مقام باقی رہا۔
  • جس روایت کا درجہ تاریخ کا ہو اسے صحیح حدیث کا لفظ نہ کہیں؛ ماخذ کا احترام علم کا حصہ ہے۔

خلاصہ

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی آخری بیماری میں صحابہ سے مشورے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین نامزد کیا اور لوگوں نے ان کی قیادت کو بیعت کے ذریعے تسلیم کیا۔ نامزدگی کی اصل صحیح بخاری 7218 میں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی ثابت ہے؛ تفصیلات ابن سعد اور طبری کی تاریخی روایتوں میں ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کب نامزد کیا؟

تاریخی روایات کے مطابق اپنی آخری بیماری کے دوران، وصال سے پہلے (13 ہجری)۔

۲۔ کیا اس واقعے کا ذکر صحیح بخاری میں ہے؟

مکمل تفصیل نہیں، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ «ابو بکر نے جانشین مقرر کیا» صحیح بخاری 7218 میں موجود ہے۔

۳۔ مشورے میں کن صحابہ کا نام ملتا ہے؟

ابن سعد اور طبری کی روایتوں میں حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عثمان بن عفان اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر ہے۔

۴۔ کیا نامزدگی اور بیعت ایک ہی چیز تھی؟

نہیں۔ پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نام پیش کیا، پھر امت نے بیعت کے ذریعے قیادت تسلیم کی۔

کتابیں اور حوالے

  • صحیح بخاری 7218: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جانشین مقرر کیا۔
  • صحیح بخاری 3700: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شوریٰ کا طریقہ۔
  • صحیح بخاری 6830: بیعت میں مشورے کا اصول اور سقیفہ کی روایت۔
  • القرآن الکریم: الشوریٰ 42:38؛ النساء 4:58۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ طبری، تاریخ الرسل والملوک: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وصیت اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی کے تاریخی بیانات (سند اور روایت کے فرق کے ساتھ)۔

تفصیلی مکالمے تاریخی روایت کے طور پر رکھے گئے ہیں؛ مختلف روایتوں کے الفاظ اور تشریح میں فرق ہو سکتا ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments