حجرِ اسود نصب کرنے کا واقعہ: کعبہ کی تعمیر اور نبوت سے پہلے حکمت کا فیصلہ
حجرِ اسود نصب کرنے کا واقعہ: کعبہ کی تعمیر اور نبوت سے پہلے حکمت کا فیصلہ
کعبہ کی تعمیر کے دوران جب حجرِ اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف حاصل کرنے پر قبائل میں اختلاف ہوا تو جوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حل دیا جس سے ہر فریق کا احترام بھی رہا اور خون ریزی کا خطرہ بھی ٹل گیا۔
مکہ کا مقدس گھر قریش کے لیے دینی اور سماجی مرکز تھا۔
کعبہ کی تعمیر کا پس منظر
یہ واقعہ نبوت سے پہلے کے مکہ کا ہے۔ کعبہ قریش اور عرب کے دوسرے قبائل کے لیے نہایت مقدس مرکز تھا؛ قرآن نے اسے لوگوں کے لیے مرجع اور امن کی جگہ کہا (البقرہ 2:125) اور بتایا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے اس کی بنیادیں اٹھائیں (البقرہ 2:127)۔ سیرت کی روایت کے مطابق ایک سیلاب اور عمارت کی کمزوری کے بعد قریش نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا فیصلہ کیا۔ اس کام میں مختلف قبائل نے حصہ لیا۔ اس دور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوان تھے اور مکہ میں امانت، سچائی اور اچھے رویے کے لیے جانے جاتے تھے۔
تعمیر کے واقعات کی مکمل تفصیل حدیث کی صحیح کتابوں میں ایک مسلسل روایت کے طور پر نہیں آتی۔ اس کا بنیادی بیان ابن اسحاق کی سیرت میں ملتا ہے، جو بعد میں ابنِ ہشام کے ذریعے مشہور ہوئی؛ طبری اور دوسرے مؤرخین نے بھی مکہ کے اس مرحلے کا ذکر کیا۔ اس لیے واقعے کو سیرت کی روایت کے طور پر سمجھنا چاہیے، نہ کہ قرآن یا کسی متفق علیہ صحیح حدیث کے متن کے طور پر۔ البتہ صحیح بخاری میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت موجود ہے کہ جب کعبہ تعمیر ہو رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے (صحیح بخاری 1582)؛ یعنی تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے۔
کعبہ کی تعمیر کے لیے ہر قبیلے نے اپنی ذمہ داری لی۔ روایت بتاتی ہے کہ عمارت کا کام آگے بڑھا، مگر جب حجرِ اسود کو اس کے مقام پر واپس رکھنے کا وقت آیا تو قبائل کے درمیان اختلاف ابھر آیا۔ حجرِ اسود کو رکھنے کا شرف کس کو ملے؛ یہ سوال صرف تعمیر کا عملی مسئلہ نہ رہا، بلکہ قبائلی عزت کا معاملہ بن گیا۔
تعمیر کے کام کے ساتھ قبائل کے درمیان شرف کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
اختلاف کا بڑھنا
ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ اسے یہ عظیم کام کرنے کا شرف ملے۔ جب ہر طرف سے اپنا حق جتایا گیا تو فیصلہ آسان نہ رہا۔ سیرت کی مشہور روایت کے مطابق تناؤ کئی روز جاری رہا اور جنگ کا خطرہ بڑھنے لگا؛ ابن اسحاق کے بیان میں بنو عبد الدار کا خون سے بھرا پیالہ لا کر مرنے مارنے کی قسم کھانا بھی آتا ہے۔ عین مدت اور ہر قبیلے کے رویے کی تفصیل بعد کی روایات میں مختلف ہو سکتی ہے؛ مگر بنیادی صورت یہ تھی کہ ایک مقدس کام کے شرف پر قبائل کا اختلاف صلح کو مشکل بنا رہا تھا۔
مکہ کا قبائلی معاشرہ اپنے عہد، عزت اور حمایت کے نظام سے چلتا تھا؛ حربِ فجار جیسی لڑائیاں اسی مزاج کا نتیجہ تھیں۔ ایسے میں کسی ایک قبیلے کو ترجیح دینا باقی قبائل کو شکایت کا سبب دے سکتا تھا۔ حجرِ اسود کو نصب کرنے کا شرف ظاہراً ایک چھوٹا کام لگ سکتا ہے، لیکن اس وقت کے سیاسی اور سماجی تناظر میں یہ قبائلی فخر سے جڑا تھا۔ اگر فیصلہ کسی ایک طرف جاتا تو دوسرے اسے اپنی توہین سمجھ سکتے تھے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حَکم چننا
سیرت کے مشہور بیان کے مطابق قبائل نے فیصلہ کیا کہ جو شخص اگلے دن سب سے پہلے حرم کے دروازے سے داخل ہو، اسے حَکم بنا دیا جائے۔ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت اور سچائی کو پہچان کر آپ کے فیصلے کو قبول کرنے پر رضامندی دی؛ ابن اسحاق کے الفاظ میں لوگوں نے کہا: «ھذا الأمین، رضینا» (یہ امین ہیں، ہم راضی ہیں)۔ یہ منظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت سے پہلے مکہ میں حاصل کردہ اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تمام فریقوں کی بات سمجھی، پھر ایسا حل پیش کیا جس میں کسی ایک قبیلے کو تنہا شرف نہ ملے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر منگوائی اور حجرِ اسود کو اس کے درمیان رکھ دیا۔ پھر ہر قبیلے کے نمائندے کو چادر کا ایک کنارہ پکڑنے کو کہا۔ سب نے مل کر چادر اٹھائی اور پتھر کو اس مقام تک لے آئے۔ جب وہ جگہ تک پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے حجرِ اسود کو اس کی جگہ نصب کر دیا۔ اس طرح قبائل نے مشترکہ طور پر کام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری مرحلہ مکمل کیا۔ روایت میں چادر کی قسم اور قبائل کے نمائندوں کی تعداد کے بارے میں مختلف تفصیل مل سکتی ہے؛ اصل حکمت یہ تھی کہ شرف تقسیم ہوا، کام مل کر ہوا اور ہر فریق کو فیصلے میں عزت دی گئی۔
چادر کے ذریعے سب قبائل نے حجرِ اسود کو ساتھ اٹھانے میں حصہ لیا۔
فیصلے کی دانش مندی
اس حل کی خوبی یہ تھی کہ اس نے صرف عملی مسئلہ نہیں سلجھایا، بلکہ ہر قبیلے کی عزت کا لحاظ بھی رکھا۔ اگر پتھر کو صرف ایک قبیلے کا نمائندہ اٹھاتا تو دوسرے قبائل محروم محسوس کر سکتے تھے۔ مشترکہ عمل نے سب کو شریک بنایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی جگہ رکھ کر ذمہ داری کو انجام تک پہنچایا۔ یہ طریقہ نہ کسی کو الگ کرتا تھا اور نہ فیصلہ لٹکاتا تھا۔ اسی امانت اور انصاف کی شہرت نے آگے چل کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تجارت اور نکاح کا راستہ بھی ہموار کیا، اور حلف الفضول میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت بھی اسی مزاج کا حصہ تھی۔
واقعہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ امانت داری اور انصاف کا اعتماد ایک دن میں نہیں بنتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کے بارے میں مکہ کے لوگوں کا بھروسہ اس فیصلے کی قبولیت کے لیے اہم تھا۔ جب جماعت ایسے شخص کو حَکم بنائے جسے ہر فریق سچا اور منصف سمجھے تو مشکل اختلاف کا حل ممکن ہوتا ہے۔
حجرِ اسود کی تعظیم کا صحیح مفہوم
حجرِ اسود کا احترام اور اسے بوسہ دینا سنت سے ثابت ہے، مگر اس کی حیثیت کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صاف لفظوں میں بیان کیا۔ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا اور فرمایا:
إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ
«میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع؛ اور اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔» (صحیح بخاری، حدیث 1597؛ صحیح مسلم 1270)
یہ الفاظ توحید اور اتباعِ سنت کا توازن سکھاتے ہیں: حجرِ اسود کی تعظیم اللہ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی وجہ سے ہے، پتھر کی اپنی کسی طاقت کی وجہ سے نہیں۔ اس لیے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے نہ پتھر کے بارے میں غیر ثابت کرامات پھیلائی جائیں اور نہ اس کے سنت سے ثابت احترام کو کم سمجھا جائے۔
عمر اور تاریخ کے حوالے سے احتیاط
سیرت کی مشہور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اس واقعے کے وقت پینتیس سال بتائی جاتی ہے اور اسے نبوت سے کچھ سال پہلے کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ لیکن پرانے مآخذ میں عمر اور ترتیب کے بارے میں اختلاف ملتا ہے۔ اس لیے پینتیس سال یا کسی متعین عیسوی سال کو مطلق یقینی طور پر پیش کرنا ٹھیک نہیں۔ بہتر ہے کہنا کہ یہ واقعہ نبوت سے پہلے، جوانی اور مکہ کے سماجی دور میں پیش آیا۔ اسی طرح کعبہ کی اس وقت کی تعمیر اور بعد کے ادوار (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور حجاج کے زمانے) کی تعمیر کو آپس میں نہ ملایا جائے؛ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ قریش کے پاس خرچ کم پڑ گیا تھا، اس لیے انہوں نے کعبہ کو ابراہیمی بنیادوں سے چھوٹا بنایا اور حطیم کا حصہ باہر رہ گیا (صحیح بخاری 1584)۔
انصاف بھرا حل قبائلی ٹکراؤ کو مشترکہ ذمہ داری میں بدل سکتا ہے۔
آج کے لیے سبق
- اختلاف کو انا اور گروہی فخر کا معاملہ بنانے کے بجائے انصاف کے اصول سے حل کریں۔
- فیصلے میں سب کو حصہ دینا لوگوں کو اس فیصلے کا شریک بناتا ہے۔
- بہترین قیادت وہ ہے جو شرف تقسیم کرے اور نتیجے کی ذمہ داری خود لے۔
- پہلے سے قائم کردار کا بھروسہ مشکل وقت میں قوت بنتا ہے؛ «الامین» کا لقب روزمرہ سچائی سے بنا۔
- مقدس نشانی کی حرمت اور انسانوں کے درمیان انصاف ایک دوسرے کے مقابل نہیں؛ حجرِ اسود کی تعظیم اتباعِ سنت کی وجہ سے ہے (بخاری 1597)۔
خلاصہ
کعبہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کو نصب کرنے کے شرف پر قریش کے قبائل میں اختلاف ہوا۔ سیرت کی مشہور روایت کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر بچھا کر پتھر اس پر رکھا، ہر قبیلے کے نمائندے کو کنارہ پکڑا کر مشترکہ طور پر اٹھوایا، پھر اپنے ہاتھ سے اسے مقام پر رکھ دیا۔ یہ نبوت سے پہلے کے مکہ کا سیرتی واقعہ ہے؛ عین عمر، تاریخ اور گفتگو کی تفصیل مآخذ میں مختلف ہے۔ کعبہ کی تعمیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت صحیح بخاری 1582 سے، اور حجرِ اسود کی تعظیم کا صحیح مفہوم بخاری 1597 سے ثابت ہے۔ پیغام انصاف، مشورہ، امانت اور ٹکراؤ کو حکمت سے سلجھانے میں ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ حجرِ اسود نصب کرنے کا واقعہ کب ہوا؟
سیرت کی روایت اسے نبوت سے پہلے، قریش کے ذریعے کعبہ کی تعمیر کے دوران رکھتی ہے۔ عین تاریخ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر (مشہور: پینتیس سال) پر مآخذ میں اختلاف ہے۔
۲۔ قبائل میں اختلاف کس بات پر تھا؟
ہر قبیلے کو حجرِ اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف چاہیے تھا۔ اختلاف بڑھنے سے ٹکراؤ کا خطرہ پیدا ہوا۔
۳۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسئلہ کیسے حل فرمایا؟
مشہور سیرت کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر چادر پر رکھا، قبائل کے نمائندوں سے اسے مل کر اٹھوایا، پھر خود اسے مقام پر رکھ دیا۔
۴۔ کیا یہ واقعہ صحیح بخاری یا مسلم میں ہے؟
چادر والے فیصلے کا مشہور بیان سیرت اور تاریخ کی کتابوں (ابن اسحاق/ابن ہشام) میں آتا ہے۔ صحیح بخاری 1582 میں تعمیرِ کعبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پتھر اٹھانے کا ذکر ہے، اور بخاری 1597 میں حجرِ اسود کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول۔
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: البقرہ 2:125، 2:127: بیت اللہ کا مقام اور ابراہیمی بنیادیں۔
- صحیح بخاری 1582: کعبہ کی تعمیر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر اٹھانا (جابر رضی اللہ عنہ)۔
- صحیح بخاری 1597؛ صحیح مسلم 1270: حجرِ اسود کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول۔
- صحیح بخاری 1584: قریش کی تعمیر میں خرچ کی کمی اور حطیم کا باہر رہ جانا (عائشہ رضی اللہ عنہا)۔
- ابن اسحاق، السیرۃ (ابن ہشام کا نسخہ، السیرۃ النبویۃ): کعبہ کی تعمیر اور حجرِ اسود کے فیصلے کا سیرتی بیان۔
- طبری، تاریخ الرسل والملوک؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ: مکہ کے ابتدائی دور کی تاریخی روایات۔
چادر والے فیصلے کی تفصیل سیرت کی تاریخی روایت پر مبنی ہے؛ مختلف فیہ ترتیب اور تفصیلات کو قطعی حدیث نہ سمجھیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment