وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› طاعونِ عمواس: سرغ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشورہ اور وبا کے بارے میں نبوی ہدایت

طاعونِ عمواس: سرغ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشورہ اور وبا کے بارے میں نبوی ہدایت

نAuthor Nawab
اسلامی تاریخ • خلافتِ راشدہ

طاعونِ عمواس: سرغ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مشورہ اور وبا کے بارے میں نبوی ہدایت

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کے سفر پر تھے کہ سرغ کے مقام پر خبر ملی کہ شام میں وبا پھیلی ہوئی ہے۔ صحیح بخاری 5729 میں یہ منظر تفصیل سے محفوظ ہے: مشورہ، اختلافِ رائے، تقدیر پر سوال اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہدایت جس نے فیصلہ طے کر دیا۔ یہی وبا تاریخ میں طاعونِ عمواس کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔

پہاڑی علاقے میں دو راستوں کا سنگِ میل

سرغ کے قریب دو راستوں کا منظر: فیصلے سے پہلے خبر کی تصدیق اور سوچ ضروری تھی۔

سرغ میں وبا کی خبر اور مشورہ

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکلے اور سرغ پہنچے تو لشکروں کے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً فیصلہ نہیں سنایا۔ پہلے مہاجرینِ اولین کو بلایا اور مشورہ کیا؛ ان میں اختلاف ہوا: کچھ نے کہا کہ آپ ایک مقصد کے لیے نکلے ہیں، لوٹنا مناسب نہیں؛ دوسروں نے کہا کہ آپ کے ساتھ لوگ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہیں، انہیں وبا میں لے جانا مناسب نہیں۔ پھر انصار کو بلایا؛ ان میں بھی ویسا ہی اختلاف ہوا۔

آخر میں قریش کے ان بزرگ مہاجرین کو بلایا جو فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کر کے آئے تھے؛ ان میں سے کسی دو نے بھی اختلاف نہیں کیا اور سب نے کہا کہ لوگوں کو لے کر لوٹ جائیں اور انہیں وبا کے سامنے نہ کریں۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا: «میں صبح سواری پر ہوں گا، تم بھی تیار رہو»۔ یہ قیادت کا اہم پہلو ہے: خبر ملتے ہی اپنی پسند سب پر تھوپنے کے بجائے مختلف جماعتوں سے رائے لی گئی، جیسا قرآن کا اصول ہے ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ﴾ (الشوریٰ 42:38)۔

زیتون کے درختوں والا صحن اور چٹائیاں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مختلف گروہوں کے بزرگوں سے مشورہ کیا۔

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا سوال اور تقدیر کا جواب

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: «کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟» حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی، اے ابو عبیدہ!» پھر سمجھایا:

نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ هَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ، إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ
«ہاں، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ ہی کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ بتاؤ، اگر تمہارے اونٹ ایسی وادی میں اتریں جس کے دو کنارے ہوں، ایک سرسبز اور دوسرا بنجر؛ تو کیا سرسبز میں چراؤ گے تو اللہ کی تقدیر سے نہیں چراؤ گے، اور بنجر میں چراؤ گے تو اللہ کی تقدیر سے نہیں چراؤ گے؟» (صحیح بخاری، حدیث 5729)

یعنی سبب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں؛ احتیاط بھی اللہ کی تقدیر کے دائرے میں ہے۔ قرآن کا حکم بھی یہی ہے: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ «اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو» (البقرہ 2:195)۔

پتھر کی محراب والا بند دروازہ اور گاؤں کا راستہ

وبا سے متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہونے کی نبوی ہدایت کا علامتی منظر۔

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور نبوی ہدایت

اسی گفتگو کے دوران حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے، جو کسی کام سے غیر حاضر تھے، اور کہا: «اس بارے میں میرے پاس علم ہے؛ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:»

إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلاَ تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ
«جب تم کسی زمین میں اس (وبا) کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ؛ اور جب وہ کسی زمین میں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو» (صحیح بخاری، حدیث 5729؛ 5730؛ صحیح مسلم 2219)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد کی اور واپس لوٹ گئے۔ یہاں دیکھیے کہ مشورے سے جو فیصلہ ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نے اس کی تصدیق کر دی؛ اور خلیفہ نے حدیث سن کر شکر ادا کیا، نہ کہ اپنی رائے پر فخر۔

کھلے میدان سے بستی کی طرف جاتا راستہ

مشورے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ واپسی کا فیصلہ کیا۔

طاعونِ عمواس کا تاریخی پس منظر

طاعونِ عمواس کا نام شام کے مقام عمواس سے منسوب ہے۔ تاریخی روایات اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور، عام طور پر 18 ہجری کے قریب، سے جوڑتی ہیں، اور بتاتی ہیں کہ اس وبا میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما سمیت کئی جلیل القدر صحابہ کی وفات ہوئی۔ مریضوں کی تعداد، روزانہ کے واقعات اور ہر مشہور قصہ ایک ہی درجے کی سند سے نہیں آتے؛ اس لیے یہاں غیر تصدیق شدہ اعداد یا ڈرامائی مناظر شامل نہیں کیے گئے۔ صحیح بخاری 5729 میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سفر سرغ تک ہے؛ یہ روایت پوری وبا کی تاریخ کا ماخذ نہیں۔ احتیاط یہ ہے کہ سرغ کا فیصلہ اور وبا کے بارے میں نبوی ہدایت صحیح حدیث سے ثابت ہیں، جبکہ عمواس کی وبا کی تفصیل تاریخ کی کتابوں سے آتی ہے۔

توکل، احتیاط اور مشورہ

اس واقعے کا پیغام یہ نہیں کہ ہر مشکل سے بھاگ جانا چاہیے، اور نہ یہ کہ ہر خطرے میں بے سوچے قدم رکھ دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت وبا کے بارے میں ہے: وبا کی جگہ بلا ضرورت داخل نہ ہونا اور وہاں موجود لوگوں کا بھاگ کر وبا پھیلانے سے رکنا۔ فقہا نے اس حدیث کی شرح میں اس کے مقاصد اور حالات پر بحث کی ہے۔ آج کے طبی احکام متعلقہ ماہرین اور اداروں سے لیے جائیں؛ اس حدیث کو ہر وبا کے مکمل طبی ضابطے کا بدل نہ کہا جائے۔ دوسرا سبق تقدیر اور تدبیر کا تعلق ہے: انسان اسباب اختیار کرتے ہوئے بھی اللہ کی تقدیر کے دائرے میں رہتا ہے۔ تیسرا، مشکل فیصلوں میں مشورہ ضروری ہے؛ رائیں مختلف تھیں، فیصلہ مشورے اور حدیث سننے کے بعد ہوا۔ وبا سے متاثر ہونے والوں کے دکھ کو بھی یاد رکھیں؛ ریکارڈ کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا درد کم تھا۔

عملی سبق

  • وبا کے علاقے میں بلا ضرورت نہ جائیں اور وہاں سے بھاگ کر وبا نہ پھیلائیں؛ یہ نبوی ہدایت ہے (بخاری 5729)۔
  • احتیاط توکل کے خلاف نہیں؛ «اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف»۔
  • بڑے فیصلے مشورے سے کریں اور مختلف رائے سننے کا حوصلہ رکھیں۔
  • جب حدیث سامنے آ جائے تو اپنی رائے پر اصرار نہ کریں؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد کی۔
  • مصیبت میں مبتلا لوگوں کے لیے دعا اور عملی مدد دونوں کریں۔

خلاصہ

سرغ میں وبا کی خبر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین، انصار اور قریش کے بزرگوں سے مشورہ کیا اور واپسی کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے سوال پر تقدیر اور تدبیر کا فرق سمجھایا، اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائی: وبا والی زمین میں نہ جاؤ اور وہاں سے بھاگ کر نہ نکلو (صحیح بخاری 5729، مسلم 2219)۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ سرغ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کیا خبر ملی؟

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور لشکروں کے امیروں نے بتایا کہ شام میں وبا پھیلی ہوئی ہے (بخاری 5729)۔

۲۔ واپسی کا فیصلہ کیسے ہوا؟

مہاجرین، انصار اور فتحِ مکہ کے مہاجرین سے مشورے کے بعد؛ آخری گروہ نے متفقہ طور پر واپسی کا مشورہ دیا۔

۳۔ وبا کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کیا ہے؟

جس زمین میں وبا ہو وہاں نہ جاؤ؛ اور اگر وہاں ہو تو بھاگ کر نہ نکلو (بخاری 5729، مسلم 2219)۔

۴۔ کیا طاعونِ عمواس کی تمام تفصیل حدیث میں ہے؟

نہیں۔ سرغ کا فیصلہ اور وبا کا اصول صحیح حدیث میں ہے؛ عمواس کی وبا کی تفصیل تاریخی روایات سے آتی ہے۔

کتابیں اور حوالے

  • صحیح بخاری 5729: سرغ، مشورہ، تقدیر کا جواب اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث۔
  • صحیح بخاری 5730؛ صحیح مسلم 2219: وبا والے علاقے میں داخل نہ ہونے اور وہاں سے نہ بھاگنے کی ہدایت۔
  • القرآن الکریم: الشوریٰ 42:38؛ البقرہ 2:195۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ طبری، تاریخ الرسل والملوک: طاعونِ عمواس کا تاریخی پس منظر (حدیث سے الگ درجہ)۔

صحیح حدیث اور تاریخی کتابوں کو الگ ماخذ کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ وبا کی زمانی ترتیب میں اختلاف ہو سکتا ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments