یثرب کے پہلے مسلمان اور بیعتِ عقبہ اولیٰ: ایمان اور اخلاق کا پہلا عہد
یثرب کے پہلے مسلمان اور بیعتِ عقبہ اولیٰ: ایمان اور اخلاق کا پہلا عہد
طائف کے سخت تجربے کے بعد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل اور حج کے موسموں میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا جاری رکھا۔ ایک ایسے ہی موسم میں یثرب سے آئے چند افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور اسلام قبول کیا۔ وہ اپنے شہر لوٹے تو پیغام بھی ساتھ لے گئے۔ اگلے موسم میں ان میں سے کچھ اور لوگ مکہ آئے اور عقبہ کے مقام پر ایک اہم عہد ہوا۔ سیرت کا یہ لمحہ چھوٹا تھا، مگر اس سے یثرب اور مکہ کے درمیان نیا رشتہ بننے لگا۔
یثرب کے کھجور کے باغات نے ایک نئی مسلم جماعت کو پناہ دینی تھی۔
یثرب کا پس منظر
یثرب، جو بعد میں مدینہ کے نام سے مشہور ہوا، اوس اور خزرج جیسے عرب قبائل کا شہر تھا۔ ان کے درمیان پرانے تنازعات اور لڑائیوں (جن میں آخری جنگِ بعاث تھی) نے معاشرے کو تھکا دیا تھا۔ سیرت کے بیان کے مطابق مکہ کے حج کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبائل کے لوگوں سے ملتے اور اسلام کی دعوت پیش کرتے؛ طائف کے انکار کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ نبوت کے گیارہویں سال یثرب سے آئے چند خزرجی افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنا اور اسے قبول کیا۔
ان کی پہلی ملاقات کا قصہ ابن اسحاق کی سیرت میں آتا ہے۔ روایت میں عام طور پر چھ افراد کا ذکر ہے، جن میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں؛ باقی نام اور سفر کی کچھ تفصیل دوسری نقلوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔ اس گروہ نے اسلام قبول کر کے واپس یثرب کا رخ کیا۔ ان کے لیے یہ صرف ایک نیا عقیدہ نہیں تھا؛ وہ اپنے گھروں اور قبیلوں میں ایک ایسا پیغام لے جا رہے تھے جو توحید، اخلاق اور بھائی چارے کی طرف بلاتا تھا۔
یثرب کے لوگ پہلے سے اپنے شہر کے یہودی قبائل کے ساتھ رہتے تھے۔ سیرت کی روایات میں یہ پس منظر آتا ہے کہ انہوں نے آنے والے نبی کے بارے میں باتیں سنی تھیں۔ اس تفصیل کو ان سب لوگوں کی قبولیت کا واحد سبب نہیں سمجھنا چاہیے؛ بنیادی واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سنی اور اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔
عقبہ کی رات ایک چھوٹی ملاقات سے نیا رشتہ بنا۔
چھ افراد سے بڑھتی ہوئی جماعت
یثرب واپسی پر ان افراد نے اپنے گھر والوں اور دوستوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔ سیرت ان کے ذریعے دعوت کے پھیلنے اور اگلے سال (نبوت کے بارہویں سال) مکہ آنے والے گروہ کا ذکر کرتی ہے۔ اس ملاقات میں عام طور پر بارہ مردوں کی تعداد بیان ہوتی ہے، جن میں اوس اور خزرج دونوں کے لوگ شامل تھے۔ تعداد اور ناموں کی فہرست سیرتی رپورٹوں سے آتی ہے؛ صحیح حدیث کا مرکزی حصہ عہد کے مضامین ہیں۔
بیعتِ عقبہ اولیٰ کا عہد
حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ، جو بدر کے شرکاء اور عقبہ کی رات کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت تھی، فرمایا:
تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُونَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهْوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ. قَالَ: فَبَايَعْتُهُ عَلَى ذَلِكَ
«آؤ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے گھڑ کر کوئی بہتان نہ لاؤ گے، اور نیک کام میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ تم میں سے جس نے پورا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے؛ جس سے ان میں سے کچھ سرزد ہوا اور دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے؛ اور جس سے کچھ سرزد ہوا اور اللہ نے اس پر پردہ رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف کر دے۔» عبادہ کہتے ہیں: میں نے اس پر آپ سے بیعت کی۔ (صحیح بخاری، حدیث 3892؛ نیز 3893)
ان مضامین کی قرآنی بنیاد سورۃ الممتحنہ کی اس آیت میں ہے جس میں ایمان والی عورتوں کی بیعت کے یہی عہد بیان ہوئے؛ اسی لیے سیرت نگار پہلی بیعتِ عقبہ کو «بیعۃ النساء» بھی کہتے ہیں، یعنی وہ بیعت جس میں جنگ کا ذکر نہیں تھا:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعْهُنَّ
«اے نبی! جب آپ کے پاس ایمان والی عورتیں اس بات پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑا ہوا بہتان نہ لائیں گی اور نیک کام میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لیجیے۔» (سورۃ الممتحنہ 60:12)
یعنی اسلام کا پہلا عہد صرف عبادت کا دعویٰ نہیں، بلکہ زندگی میں امانت، پاکدامنی، جان کی حرمت، سچائی اور نیک کام میں اطاعت کا ذمہ بھی تھا۔ اس بیعت میں جنگ یا مکہ سے ہجرت کا وعدہ نہیں تھا؛ وہ الگ اور بعد کا مرحلہ بنا۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے یثرب میں قرآن اور اسلام کی تعلیم دی۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ یثرب جاتے ہیں
سیرت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے بعد حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو یثرب بھیجا تاکہ وہ نئے مسلمانوں کو قرآن پڑھائیں اور دین کی بنیادی تعلیم دیں۔ یثرب میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان کا ساتھ دیا اور گھروں میں دعوت اور تعلیم کا سلسلہ چلا۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نرمی، سمجھداری اور قرآن کی تلاوت سے لوگوں تک پیغام پہنچاتے رہے؛ اسی لیے انہیں «المقرئ» (قرآن پڑھانے والا) کہا گیا۔
روایتی قصوں میں ان کی دعوت سے یثرب کے مختلف گھرانوں تک اسلام پہنچنے کا ذکر ہے۔ کچھ مشہور افراد، جن میں اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما کے نام آتے ہیں، اسی تعلیم کے ذریعے اسلام لائے اور اپنے قبیلے میں اثر رکھا۔ یہ تفصیلات سیرت کے بیان ہیں، لیکن ان سے یہ سمجھ آتا ہے کہ اسلام کا پیغام صرف ایک رات کی بیعت سے نہیں پھیلا؛ اس کے بعد تعلیم، صبر اور معاشرتی رابطوں نے اہم کردار ادا کیا۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کا بھیجا جانا یثرب کے لوگوں پر بھروسا بھی تھا: چھوٹی جماعت کو صرف حکم نہیں دیا گیا، بلکہ قرآن سمجھنے کے لیے ایک معلم دیا گیا۔
پہلی بیعت اور دوسری بیعت میں فرق
بیعتِ عقبہ اولیٰ کا مرکز ایمان اور اخلاقی ذمہ داریاں تھیں۔ اگلے سال ہونے والی دوسری بیعت میں یثرب کے ستر سے زیادہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر آنے کی دعوت دی اور حفاظت کا عہد کیا۔ دونوں واقعات عقبہ سے منسوب ہیں، مگر ان کے مقصد اور عہد کے مضامین ایک جیسے نہیں۔ پہلی بیعت نے ایمان کی بنیاد اور جماعتی رابطہ مضبوط کیا؛ دوسری بیعت نے ہجرتِ مدینہ کے لیے محفوظ راستہ کھولا۔
یہ عہد آگے چل کر ہجرت کے لیے زمین ہموار کرے گا۔
عملی سبق
- ایک چھوٹی ملاقات بھی دور تک اثر کر سکتی ہے جب پیغام سچائی اور حکمت سے دیا جائے؛ چھ افراد سے ایک شہر بدلا۔
- ایمان کا عہد اخلاق سے جدا نہیں؛ امانت، پاکدامنی، جان کی حرمت اور سچائی اس کے بنیادی تقاضے ہیں (بخاری 3892؛ 60:12)۔
- دعوت صرف تقریر سے نہیں پھیلتی؛ تعلیم، گھروں میں رابطہ اور لوگوں کے ساتھ نرمی بھی ضروری ہیں؛ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ اس کی مثال ہیں۔
- قبائلی یا علاقائی مخالفت کے درمیان نئے مشترکہ اصول لوگوں کو جوڑ سکتے ہیں؛ اوس اور خزرج ایک ہی عہد میں شریک ہوئے۔
- سیرت کی تعداد اور ناموں کو تاریخی رپورٹ سمجھیں؛ عہد کے الفاظ صحیح حدیث سے لیں۔
خلاصہ
نبوت کے گیارہویں سال یثرب کے چھ افراد حج کے موسم میں اسلام لائے؛ اگلے سال بارہ افراد نے عقبہ کے مقام پر بیعت کی (تعداد سیرت سے)۔ عہد کے مضامین صحیح بخاری 3892 میں حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں: شرک، چوری، زنا، اولاد کے قتل اور بہتان سے بچنا اور نیک کام میں اطاعت؛ یہی مضامین سورۃ الممتحنہ 60:12 میں ہیں۔ اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے یثرب میں قرآن کی تعلیم دی، اور اگلے سال دوسری بیعت نے ہجرت کا راستہ کھولا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ میں کتنے افراد تھے؟
سیرت کی مشہور فہرست میں بارہ مرد بیان ہوتے ہیں۔ یہ تعداد تاریخی سیرت رپورٹوں سے آتی ہے؛ صحیح بخاری 3892 عہد کے مضامین روایت کرتی ہے۔
۲۔ بیعت میں کیا وعدہ کیا گیا؟
اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، چوری اور زنا سے بچنا، اولاد کو قتل نہ کرنا، بہتان نہ باندھنا اور نیک کام میں نافرمانی نہ کرنا (صحیح بخاری 3892؛ سورۃ الممتحنہ 60:12)۔
۳۔ کیا پہلی بیعت میں مدینہ ہجرت کا وعدہ تھا؟
نہیں۔ پہلی بیعت کا مرکز ایمان اور اخلاقی ذمہ داری تھی۔ حفاظت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یثرب بلانے کا عہد اگلی بیعت سے متعلق ہے۔
۴۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا کردار کیا تھا؟
سیرت کے مطابق وہ پہلی بیعت کے بعد یثرب بھیجے گئے، نئے مسلمانوں کو قرآن پڑھایا اور دین سکھایا؛ ان کی تعلیم سے کئی گھرانے اور اوس کے سردار اسلام لائے۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری 3892 اور 3893: حضرت عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے بیعت کے مضامین۔
- القرآن الکریم، سورۃ الممتحنہ 60:12: بیعت کے وہی مضامین۔
- ابن اسحاق، بروایت ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: یثرب کے چھ افراد، بارہ افراد کی بیعت، حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کی تعلیم۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ: ناموں اور ترتیب کا تاریخی بیان۔
عہد کے الفاظ صحیح حدیث سے، تعداد اور نام سیرت سے؛ دونوں کو الگ درجے پر رکھا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment