ہجری تقویم کا آغاز: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا فیصلہ اور محرم پہلا مہینہ کیوں؟
ہجری تقویم کا آغاز: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا فیصلہ اور محرم پہلا مہینہ کیوں؟
آج دنیا بھر کے مسلمان رمضان، حج اور محرم کو ہجری تقویم سے پہچانتے ہیں۔ مگر سن کی باقاعدہ گنتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شروع نہیں ہوئی تھی؛ یہ نظام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں صحابہ کے مشورے سے مقرر ہوا۔ یہ مضمون اس فیصلے کی ضرورت، مشورے اور قرآنی اصولوں کو الگ الگ بیان کرتا ہے۔
بے تاریخ خط اور لکھنے کا سامان: تاریخ لگانے کی ضرورت کا علامتی منظر۔
بے تاریخ خطوں سے پیدا ہونے والی الجھن
ہجری کیلنڈر کے آغاز کی مشہور روایت کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں پہلے کے تاریخی راویوں کے حوالے سے نقل کیا ہے: بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ان کے پاس ایسے خط آتے ہیں جن پر تاریخ نہیں ہوتی، جس سے عملی الجھن ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ سال کس واقعے سے گنا جائے۔ یہ صحیحین کی حدیث نہیں بلکہ ایک تاریخی روایت ہے جسے بعد کے محدث نے سند کے ساتھ نقل کیا؛ یہ فرق یاد رکھنا ضروری ہے۔
جب قرض، حکم یا کسی خط کا جواب وقت پر دینا ہو تو صرف «شعبان میں لکھا گیا» کہنا کافی نہیں؛ کس سال کا شعبان؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلم معاشرہ تیزی سے پھیل رہا تھا اور مختلف علاقوں کے ادارے مدینہ سے خط و کتابت کرتے تھے۔ تاریخ لگانے کا نظام اسی انتظامی ضرورت کا جواب بنا۔
چاند کی منزلوں سے مہینوں کا حساب: ہجری کیلنڈر قمری سال پر مبنی ہے۔
سن کی گنتی ہجرت سے: صحیح بخاری کی گواہی
یہ بات کہ مسلمانوں نے سال کی گنتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت یا وفات سے نہیں بلکہ مدینہ آمد سے کی، صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
مَا عَدُّوا مِنْ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مِنْ وَفَاتِهِ، مَا عَدُّوا إِلاَّ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ
«انہوں نے (سن کی گنتی) نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کی اور نہ آپ کی وفات سے؛ انہوں نے صرف آپ کی مدینہ آمد سے گنتی کی» (صحیح بخاری، حدیث 3934)
تاریخی روایت میں مشورے کے دوران مختلف تجاویز کا ذکر ہے: کچھ نے بعثت سے، کچھ نے ولادت یا وفات سے، اور کچھ نے ہجرت سے سال گننے کی رائے دی۔ آخرکار ہجرت کو بنیاد بنایا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول بات کا مفہوم یہ ہے کہ ہجرت نے حق اور باطل کے درمیان ایک نمایاں فرق قائم کیا اور مسلم جماعت کے نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ یہ فیصلہ قرآن کی کسی آیت یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نہیں بلکہ صحابہ کے انتظامی مشورے سے ہوا۔
ہجرت کا انتخاب گہرا تاریخی معنی رکھتا تھا۔ اسلام کی دعوت مکہ میں پہلے سے جاری تھی، مگر ہجرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ میں آمد کے بعد مسلمان ایک مستقل جماعت اور معاشرے کی حیثیت سے اپنی زندگی منظم کرنے لگے۔ کیلنڈر کا آغاز اس واقعے سے کرنا کسی فرد کی پیدائش یا وفات کو نشان بنانا نہیں بلکہ ایک امت کے نئے سفر کو یاد رکھنا تھا۔
ہجرت نے اسلامی سن کو نام اور مرکزی تاریخی نقطہ دیا۔
ہجرت ربیع الاول میں ہوئی، پھر محرم پہلا مہینہ کیوں؟
ایک عام سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد ربیع الاول میں ہوئی تو ہجری سال محرم سے کیوں شروع ہوتا ہے؟ تاریخی روایات کے مطابق ہجرت کو سن کا نقطۂ آغاز بنایا گیا، مگر سال کا پہلا مہینہ محرم مقرر ہوا۔ روایت میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے محرم کو پہلا مہینہ رکھنے کی رائے کا ذکر ہے، کیونکہ محرم حج کے بعد آتا ہے اور لوگ اپنے سفروں سے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہجری کیلنڈر کا نقطۂ آغاز ہجرت ہے، مگر ہر سال کا پہلا دن ہجرت کی اصل تاریخ کا دن نہیں۔
یہ مشورہ عام طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں تقریباً 17 ہجری سے منسوب کیا جاتا ہے؛ ٹھیک سال کے بارے میں ماخذوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ ہجری سال چاند کی منزلوں پر مبنی ہے اور شمسی سال سے تقریباً گیارہ دن چھوٹا ہے؛ اس لیے رمضان اور محرم ہر سال عیسوی مہینوں میں کچھ پہلے آ جاتے ہیں۔ ہجری کیلنڈر کو شمسی کیلنڈر کی طرح ایک مقررہ موسمی نظام سمجھنا درست نہیں۔
نیا ہلال ہجری مہینے کے آغاز کی علامت ہے۔
قرآن اور چاند کے مہینے
قرآن نے مہینوں کی تعداد اور چاند کی منزلوں کا اصول بیان کیا ہے:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ
«بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا؛ ان میں چار حرمت والے ہیں» (سورۃ التوبہ 9:36)
هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ
«وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان سکو» (سورۃ یونس 10:5)
یہ آیات چاند اور مہینوں کی اہمیت کے قرآنی اصول بتاتی ہیں؛ مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہجرت کو سنِ آغاز بنانے کا واقعہ قرآن میں بیان نہیں ہوا۔ دونوں قسم کے دلائل اپنی جگہ سمجھنے چاہییں: قرآن دین کے اصول دیتا ہے، جبکہ انتظامی کیلنڈر کی شروعات تاریخی روایت میں ملتی ہے۔ مہینے کی ابتدا ہلال کی رؤیت اور فقہی اصولوں کے مطابق سمجھی جاتی ہے؛ رؤیت کے فقہی اختلافات اس مضمون کا موضوع نہیں۔
ہجری تقویم کا سیرتی پیغام
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک عملی انتظامی مشکل کا حل مشورے سے نکالا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم معاشرے میں وقت کی پابندی اور ریکارڈ کو اہمیت دی گئی۔ ہجرت کو سنِ آغاز بنانے سے ہر سال امت اس عظیم واقعے کو یاد کرتی ہے جہاں ایمان کے ساتھ قربانی، وطن سے جدائی اور نئی جماعت کی تعمیر کا سفر شروع ہوا۔ آج ہجری تاریخ دیکھتے وقت یہ فرق یاد رکھیں: ہجرت کا واقعہ 622 عیسوی کے لگ بھگ ہوا، مگر اس سے سال گننے کا باقاعدہ نظام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بعد میں مقرر ہوا۔
عملی سبق
- انتظامی مسائل کا حل بھی مشورے سے نکالا جائے؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے رائے لی۔
- وقت اور ریکارڈ کی پابندی دین داری کے منافی نہیں بلکہ امانت کا حصہ ہے۔
- ہجری سال ہمیں ہر سال ہجرت کی قربانی اور نئی شروعات یاد دلاتا ہے۔
- قرآن کے اصول اور تاریخی روایت کو الگ الگ درجہ دیں؛ ہر بات کو آیت یا حدیث نہ کہیں۔
- ہجری مہینوں کو قمری نظام کے مطابق سمجھیں اور حرمت والے مہینوں کا احترام کریں (التوبہ 9:36)۔
خلاصہ
ہجری تقویم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بے تاریخ خطوں کی الجھن دور کرنے کے لیے صحابہ کے مشورے سے مقرر ہوئی۔ سن کی گنتی ہجرت (مدینہ آمد) سے رکھی گئی، جس کی تصدیق صحیح بخاری 3934 سے ہوتی ہے، اور سال کا پہلا مہینہ محرم رکھا گیا۔ قرآن نے بارہ مہینوں اور چاند کی منزلوں کا اصول دیا ہے (التوبہ 9:36، یونس 10:5)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ ہجری کیلنڈر کس کے دور میں باقاعدہ ہوا؟
تاریخی روایات کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت میں، عام طور پر 17 ہجری کے قریب۔
۲۔ ہجری سال کس واقعے سے گنا جاتا ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت اور مدینہ آمد سے (صحیح بخاری 3934)۔
۳۔ ہجری سال محرم سے کیوں شروع ہوتا ہے؟
مشورے میں محرم کو سال کا پہلا مہینہ رکھنے کا فیصلہ ہوا، حالانکہ ہجرت خود ربیع الاول میں ہوئی تھی۔
۴۔ کیا ہجری کیلنڈر کا آغاز قرآن میں بیان ہوا ہے؟
نہیں۔ قرآن بارہ مہینوں اور چاند کی منزلوں کا اصول دیتا ہے؛ سنِ آغاز مقرر کرنے کا واقعہ تاریخی روایت ہے۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری 3934: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ؛ سن کی گنتی مدینہ آمد سے۔
- القرآن الکریم: التوبہ 9:36: بارہ مہینوں کا اصول؛ یونس 10:5: چاند کی منزلیں اور برسوں کا حساب۔
- ابن حجر عسقلانی، فتح الباری (کتاب مناقب الانصار، باب التاریخ): حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے خط اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کی تاریخی روایت۔
- ابو ریحان البیرونی، الآثار الباقیہ عن القرون الخالیہ: پرانے کیلنڈروں اور ہجری سن پر تاریخی گفتگو۔
مشورے کی تفصیلی کہانی تاریخی روایت ہے، صحیحین کی حدیث نہیں؛ 17 ہجری اور جزئیات کو روایتی زمانی ترتیب کے طور پر سمجھا جائے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment