وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور شوریٰ کا فیصلہ: صحیح بخاری 3700 کی روشنی میں

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور شوریٰ کا فیصلہ: صحیح بخاری 3700 کی روشنی میں

نAuthor Nawab
اسلامی تاریخ • خلافتِ راشدہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور شوریٰ کا فیصلہ: صحیح بخاری 3700 کی روشنی میں

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت امت کے لیے بڑا صدمہ تھی، مگر ان کے آخری لمحات کی روایت یہ بھی بتاتی ہے کہ شدید زخمی حالت میں ان کی فکر کیا تھی: نماز، قرض، دفن کی اجازت، جانشینی کا طریقہ اور لوگوں کے حقوق۔ یہ مضمون صحیح بخاری کی روایت (حدیث 3700) کے دائرے میں رہتے ہوئے ان لمحات کو بیان کرتا ہے۔

مسجد کے محرابی ستونوں کا ہال اور ایک چراغ

مسجدِ نبوی کی فجر: شہادت کا واقعہ نماز کے دوران پیش آیا۔

فجر کی نماز اور حملہ

حضرت عمرو بن میمون کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ صفوں کے درمیان گزرتے ہوئے فرماتے: «سیدھے ہو جاؤ»، اور جب کوئی خلل نہ دیکھتے تو آگے بڑھ کر تکبیر کہتے۔ اس صبح راوی ان کے قریب کھڑے تھے، درمیان میں صرف حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ تکبیر کے ساتھ ہی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے دو دھاری خنجر سے حملہ کیا اور صفوں میں کئی لوگوں کو زخمی کیا؛ روایت کے مطابق تیرہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے سات وفات پا گئے، اور حملہ آور نے پکڑے جانے پر خود کو ہلاک کر لیا۔

زخمی ہونے کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جماعت کا انتظام نہ چھوڑا؛ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے کیا، جنہوں نے مختصر نماز پڑھائی۔ گھر لائے جانے کے بعد پہلا سوال یہی تھا کہ نماز کا کیا ہوا؛ پھر وضو کر کے نماز ادا کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن کی یاد تازہ ہوتی ہے: ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ «ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے» (آلِ عمران 3:185)۔

سادہ کمرے میں کرسی، چراغ اور چٹائی

آخری ساعتوں کی سادگی: قرض اور وصیت کی فکر۔

قرض کی فکر اور دفن کی اجازت

جب معلوم ہوا کہ حملہ آور ایک مجوسی غلام ہے تو آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں آئی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔ ایک نوجوان نے تسلی دی کہ آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت، اسلام میں سبقت، خلافت اور عدل، اور اب شہادت ملی؛ آپ نے فرمایا: «میری خواہش ہے کہ یہ سب برابر سرابر چھوٹ جائے، نہ میرے خلاف ہو نہ میرے حق میں»۔ اس نوجوان کا تہبند زمین سے لگ رہا تھا تو نرمی سے فرمایا: «بھتیجے، کپڑا اوپر کر لو؛ یہ کپڑے کو بھی بچاتا ہے اور تمہارے رب کے تقویٰ کے قریب ہے»۔ پھر بیٹے سے کہا:

يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَىَّ مِنَ الدَّيْنِ. فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سِتَّةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ
«اے عبد اللہ بن عمر! دیکھو مجھ پر کتنا قرض ہے۔ لوگوں نے حساب کیا تو چھیاسی ہزار یا اس کے قریب نکلا» (صحیح بخاری، حدیث 3700)

حکم دیا کہ قرض پہلے آلِ عمر کے مال سے ادا ہو؛ کافی نہ ہو تو بنی عدی بن کعب سے، پھر قریش سے مانگا جائے، ان سے آگے نہ بڑھا جائے۔ پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ کہو «عمر سلام کہتا ہے»، امیر المومنین نہ کہنا، «کیونکہ آج میں مومنوں کا امیر نہیں»؛ اور درخواست کرو کہ عمر کو اپنے دونوں ساتھیوں کے پاس دفن ہونے کی اجازت دیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «میں نے یہ جگہ اپنے لیے رکھی تھی، مگر آج میں عمر کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں»۔ اجازت مل گئی، تو آپ نے وصیت کی کہ وفات کے بعد دوبارہ اجازت لی جائے؛ اجازت دی جائے تو لے جایا جائے ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔

میز پر چھ کنکر اور ایک خالی کاغذ

چھ رکنی شوریٰ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نام لیے اور طریقہ طے کیا۔

جانشینی: چھ رکنی شوریٰ

لوگوں نے عرض کیا: «امیر المومنین! وصیت کیجیے، کسی کو خلیفہ مقرر کیجیے»۔ آپ نے فرمایا:

مَا أَجِدُ أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْ هَؤُلاَءِ النَّفَرِ أَوِ الرَّهْطِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ عَنْهُمْ رَاضٍ. فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ
«میں اس معاملے کا ان لوگوں سے زیادہ حق دار کسی کو نہیں پاتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں رخصت ہوئے کہ ان سے راضی تھے۔ پھر علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبد الرحمن (رضی اللہ عنہم) کے نام لیے» (صحیح بخاری، حدیث 3700)

ساتھ یہ بھی فرمایا کہ عبد اللہ بن عمر مشورے میں شریک ہوں گے مگر خلافت میں ان کا کوئی حصہ نہیں؛ اگر امارت سعد کو ملے تو ٹھیک، ورنہ جو بھی امیر بنے ان سے مدد لے، «کیونکہ میں نے انہیں عاجزی یا خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا»۔ یہ انتخاب مسجد میں اعلان شدہ تھا، نہ خفیہ، نہ خاندانی۔ قرآن حکمرانوں کو مشورے کا حکم دیتا ہے: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ (آلِ عمران 3:159)۔ شوریٰ کا نتیجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کی صورت میں سامنے آیا۔

کھجوروں کے باغ کا پرسکون منظر

پُرسکون انتقال: آخری وصیتیں مہاجرین، انصار، شہروں کے لوگوں، دیہاتیوں اور ذمیوں کے حق میں۔

آخری وصیتیں

أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَيَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالأَنْصَارِ خَيْرًا ... أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَأَنْ يُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ
«میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو مہاجرینِ اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کا حق پہچانے اور ان کی حرمت کی حفاظت کرے؛ اور انصار کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ... کہ ان کے نیکوکار کی بات قبول کی جائے اور ان کے خطاکار سے درگزر کیا جائے» (صحیح بخاری، حدیث 3700)

اسی روایت میں شہروں کے باشندوں کے بارے میں وصیت ہے کہ وہ اسلام کے مددگار، مال جمع کرنے والے اور دشمن کے لیے غیظ کا سبب ہیں، ان سے ان کی رضامندی کے ساتھ صرف زائد مال لیا جائے؛ دیہاتیوں کے بارے میں کہ وہ عرب کی اصل ہیں؛ اور ذمیوں کے بارے میں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے لڑا جائے اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ وفات کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دوبارہ اجازت مانگی، اجازت ملی اور آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

سبق

سب سے گہرا سبق اختیار کے ساتھ احساسِ ذمہ داری ہے۔ دس سال کی خلافت کے بعد آخری خواہش یہ تھی کہ حساب برابر چھوٹ جائے۔ دوسرا، قرض اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی فکر خاندان اور قبیلے تک محدود رکھی گئی، بیت المال پر بوجھ نہ ڈالا گیا۔ تیسرا، جانشینی خاندان پر نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا والے صحابہ کی شوریٰ پر رکھی گئی۔ چوتھا، دفن کی جگہ کے لیے بھی اجازت کو دو بار یقینی بنایا گیا۔ یاد رکھیں: حملہ آور ایک فرد تھا؛ اس روایت کی بنیاد پر کسی قوم یا گروہ کے خلاف عمومی رائے قائم کرنا نہ انصاف ہے نہ حدیث کا منشا۔

عملی سبق

  • زخمی حالت میں بھی نماز کی فکر: فرائض کی اہمیت کبھی کم نہ ہو۔
  • قرض اور لوگوں کے حقوق سب سے پہلے؛ اپنے مال سے ادائیگی کا انتظام کریں۔
  • دوسروں کے حق میں اجازت کو دو بار یقینی بنانا؛ طاقت کے باوجود حق مانگنے کا ادب۔
  • قیادت کا فیصلہ مشورے اور اہلیت پر، خاندان پر نہیں۔
  • کمزور طبقوں اور ذمیوں کے عہد کی حفاظت کی وصیت۔

خلاصہ

صحیح بخاری 3700 کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں زخمی ہوئے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت دی، اپنے قرض (تقریباً چھیاسی ہزار) کی ادائیگی کا انتظام کیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دفن کی اجازت لی، چھ صحابہ کی شوریٰ مقرر کی اور مہاجرین، انصار، شہروں کے لوگوں، دیہاتیوں اور ذمیوں کے بارے میں وصیت کی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کب ہوا؟

فجر کی نماز کے آغاز میں، تکبیر کے فوراً بعد؛ راوی حضرت عمرو بن میمون صف میں قریب کھڑے تھے (بخاری 3700)۔

۲۔ شوریٰ کے چھ ارکان کون تھے؟

حضرت علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم؛ عبد اللہ بن عمر مشورے میں شریک، امیدوار نہیں۔

۳۔ دفن کی اجازت کیوں دو بار مانگی گئی؟

آپ نے وصیت کی کہ وفات کے بعد دوبارہ اجازت لی جائے تاکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر کوئی دباؤ نہ ہو۔

۴۔ آخری وصیتیں کس کے بارے میں تھیں؟

مہاجرینِ اولین، انصار، شہروں کے باشندوں، دیہاتیوں اور ذمیوں کے حقوق کے بارے میں۔

کتابیں اور حوالے

  • صحیح بخاری 3700: حضرت عمرو بن میمون کی طویل روایت: حملہ، قرض، اجازت، شوریٰ، وصیتیں اور دفن۔
  • القرآن الکریم: آلِ عمران 3:185؛ آلِ عمران 3:159۔
  • تاریخی تفصیلات (شہادت کی تاریخ، حملہ آور کا نام) کے لیے ابن سعد اور طبری؛ یہاں صرف صحیح بخاری کی روایت پر اعتماد کیا گیا ہے۔

یہ مضمون صحیح بخاری 3700 کے متن کے دائرے میں لکھا گیا ہے؛ شہادت کی تاریخ اور دیگر تفصیلات تاریخی ماخذوں میں ہیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments