عام الرمادہ: قحط، دعائے استسقا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری
عام الرمادہ: قحط، دعائے استسقا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حجاز کو سخت قحط اور خشک سالی کا سامنا ہوا، جسے تاریخ میں «عام الرمادہ» کہا گیا۔ یہ مضمون قحط کی تاریخی روایت اور دعائے استسقا کی صحیح حدیث کو الگ الگ درجے کے ساتھ بیان کرتا ہے، تاکہ ایک مشکل انسانی مرحلے میں حکمرانی، مدد اور توکل کے پہلو سمجھے جا سکیں۔
قحط سالی میں سوکھا کنواں اور بنجر زمین کی علامتی تصویر۔
قحط کا اثر اور نام کی روایت
بعد کے مسلمان مؤرخین عام الرمادہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور (تقریباً 18 ہجری) کے ایک سخت قحط کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ «رمادہ» کا لفظ راکھ یا زمین کی راکھ جیسی رنگت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ روایات میں مدینہ اور گرد و نواح کے لوگوں پر کھانے اور پانی کی تنگی، چراگاہوں کی خشکی اور دور دراز سے مدد کی ضرورت کا ذکر ملتا ہے۔ یہ تفصیلات ابن سعد اور طبری جیسے تاریخی ماخذوں میں آتی ہیں؛ قحط کے مہینے، اس کی مدت اور روزمرہ کے مناظر پر یقینی تاریخیں یا ڈرامائی مکالمے جوڑنا احتیاط کے خلاف ہوگا۔
قحط کا مطلب صرف فصل کم ہونا نہیں۔ جب بارش رک جائے، چارہ نہ اگے اور اناج کم ہو تو غریب گھرانے، مسافر اور جانور سب متاثر ہوتے ہیں۔ تاریخی بیانات کے مطابق آس پاس کے لوگ مدینہ کی طرف مدد کے لیے آئے۔ ایسے حالات میں خوراک ڈھونڈنا اور اسے انصاف سے تقسیم کرنا حکمران اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی مخصوص راشن، کیمپ کی گنتی یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منسوب کسی غیر مستند مشہور جملے کو قطعی واقعہ کہہ کر نہیں لکھتے۔
اناج کا احتیاطی ذخیرہ: مشکل وقت میں وسائل کو منظم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
استسقا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی دعا
اس قحط کے پس منظر میں بارش کی دعا کا ایک مضبوط حدیثی حوالہ صحیح بخاری میں ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کرتے:
اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا. قَالَ فَيُسْقَوْنَ
«اے اللہ! پہلے ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے دعا کرتے تھے اور تو ہمیں بارش دیتا تھا؛ اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعے تجھ سے دعا کرتے ہیں، پس ہمیں سیراب فرما۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہیں بارش دی جاتی» (صحیح بخاری، حدیث 1010)
حدیث سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دعا کروائی اور اللہ سے بارش مانگی، اور بارش ہوئی۔ اس متن کے الفاظ کی تشریح علما نے مختلف پہلوؤں سے کی ہے؛ اس مضمون کا مقصد روایت کو اس کے متن تک محدود رکھنا ہے: قحط، دعا اور بارش۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کا آپ کے اہلِ بیت کے بزرگ سے دعا کروانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اہلِ بیت کے احترام کی ایک جھلک بھی ہے۔
نمازِ استسقا اور بارش کی دعا: روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا واقعہ۔
ریاستی جواب اور سماجی مدد
تاریخی بیانات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے دوسرے علاقوں سے خوراک منگوانے، مدد تلاش کرنے اور لوگوں کی ضرورت دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں؛ بیت المال کے وسائل اسی مقصد کے لیے تھے۔ طبری اور ابن سعد کی تفصیلات کو صحیح حدیث کے متن کے برابر نہیں رکھنا چاہیے، مگر ان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قحط کو صرف فرد کے صبر پر نہیں چھوڑا گیا؛ اجتماعی مدد اور عوامی وسائل بھی اہم تھے۔ انتظامی تفصیلات میں روایتوں کا فرق موجود ہے۔
دعا اور عملی کوشش ایک دوسرے کے مقابل نہیں۔ استسقا اللہ سے بارش مانگنے کی عبادت ہے؛ خوراک اور ضروری مدد کا انتظام انسانی ذمہ داری۔ قرآن بارش کو اللہ کی رحمت کہتا ہے: ﴿فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ﴾ «پھر جب وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں» (الروم 30:48)۔ قحط زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے حکمرانی کا انصاف، وسائل کا حساب اور ضرورت مند تک رسائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
بارش کی پہلی بوندیں اور خشک زمین پر رحمت کا منظر۔
آزمائش میں صبر کا قرآنی اصول
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
«اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے؛ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو» (سورۃ البقرہ 2:155)
اگلی آیات میں صبر کرنے والوں کی پہچان بتائی گئی کہ مصیبت پر «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» کہتے ہیں، اور انہی پر ان کے رب کی رحمتیں ہیں (البقرہ 2:156–157)۔ عام الرمادہ میں صحابہ کا رویہ اسی اصول کی عملی تصویر تھا: دعا، صبر اور ایک دوسرے کی مدد۔
عام الرمادہ کے سبق
پہلا سبق یہ کہ قدرتی مصیبت ایک جگہ تک محدود نہیں رہتی؛ خوراک، چارہ، پانی اور سفر کے ذریعے پورا معاشرہ متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسرا، قحط میں سب سے پہلے کمزور طبقوں کی حفاظت ضروری ہے۔ تیسرا، دعا اور استسقا توکل کا اظہار ہیں جبکہ وسائل کا منظم استعمال انسانی فرض۔ چوتھا، تاریخ پڑھتے وقت ماخذ کا درجہ سمجھنا چاہیے: صحیح بخاری 1010 دعائے استسقا کا حدیثی حوالہ ہے؛ قحط کی تفصیلی روایت تاریخی کتابوں سے آتی ہے۔ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی ایک سخت آزمائش یاد دلاتا ہے، مگر ہر مشہور قصے کو یقینی سمجھنا ضروری نہیں۔ اسی دور کی ایک اور آزمائش طاعونِ عمواس تھی۔
عملی سبق
- مصیبت میں پہلے اللہ کی طرف رجوع؛ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعائے استسقا کا اہتمام کیا۔
- دعا کے ساتھ منصوبہ بندی اور تقسیم؛ خوراک منگوانا اور ضرورت مندوں تک پہنچانا حکمران کی ذمہ داری ہے۔
- اہلِ بیتِ نبوی کا احترام؛ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے دعا کروائی گئی۔
- آزمائش میں صبر اور «إِنَّا لِلَّهِ» کا رویہ (البقرہ 2:155–157)۔
- تاریخی واقعے کو صحیح روایت کے دائرے میں رکھیں؛ غیر مستند قصے نہ پھیلائیں۔
خلاصہ
عام الرمادہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کا سخت قحط تھا۔ صحیح بخاری 1010 کے مطابق انہوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کروائی اور اللہ نے بارش عطا کی؛ ساتھ ہی تاریخی روایات کے مطابق دوسرے علاقوں سے خوراک منگوا کر لوگوں کی مدد کی گئی۔ دعا، صبر اور عملی مدد کا یہ امتزاج آج بھی رہنما ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ عام الرمادہ کیا تھا؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں حجاز کے سخت قحط کا سال، جسے تاریخی ماخذوں میں عام الرمادہ کہا گیا۔
۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارش کے لیے کس سے دعا کروائی؟
صحیح بخاری 1010 کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے۔
۳۔ کیا قحط کی تمام تفصیل صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
نہیں۔ استسقا کا واقعہ بخاری میں ہے؛ قحط کی مدت اور انتظامی تفصیلات تاریخی کتابوں سے آتی ہیں۔
۴۔ اس واقعے سے کیا سبق ملتا ہے؟
دعا کے ساتھ عملی مدد، انصاف سے وسائل کی تقسیم اور کمزور لوگوں کی حفاظت۔
کتابیں اور حوالے
- صحیح بخاری 1010: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت؛ حضرت عمر اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعے دعائے استسقا۔
- القرآن الکریم: البقرہ 2:155–157: خوف، بھوک اور نقصان کی آزمائش میں صبر؛ الروم 30:48: بارش اللہ کی رحمت۔
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ طبری، تاریخ الرسل والملوک: عام الرمادہ کے تاریخی بیانات (روایت کے درجے کے مطابق)۔
عام الرمادہ کی زمانی ترتیب اور تفصیلات تاریخی ماخذوں میں مختلف ہیں؛ اس مضمون میں حدیث اور تاریخی روایت کو الگ رکھا گیا ہے۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment