وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› مریم کے بیٹے اور آخری زمانے کی بشارت

مریم کے بیٹے اور آخری زمانے کی بشارت

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام: کلمۃ اللہ، مریم کے بیٹے اور آخری زمانے کی بشارت

اللہ کے وہ بندے اور رسول جنہیں بغیر باپ کے پیدا کیا گیا، جنہوں نے گہوارے میں کلام کیا، جنہیں اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا، اور جن کے دوبارہ آنے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآنِ کریم میں پچیس مرتبہ نام سے، اور «المسیح»، «ابنِ مریم»، «کلمۃ اللہ» اور «روحٌ منہ» جیسے القاب سے کئی مرتبہ مذکور ہیں۔ وہ بنی اسرائیل کے آخری رسول ہیں، اولوالعزم انبیا میں سے ہیں، اور ان پر ایمان لانا مسلمان ہونے کی شرط ہے۔ ان کی سیرت پر دو انتہائیں پائی جاتی ہیں: ایک وہ جس نے انہیں خدا یا خدا کا بیٹا بنا دیا، دوسری وہ جس نے ان کی والدہ پر تہمت لگائی۔ قرآن دونوں انتہاؤں کے درمیان حق واضح کرتا ہے: وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں۔

یہ مضمون قرآنِ کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ اہلِ کتاب کے ذرائع اور تفاسیر کی جو باتیں قرآن و صحیح حدیث میں نہیں (جیسے جائے پیدائش، حواریوں کے نام اور تعداد، نبوت کی عمر) انہیں یا تو چھوڑ دیا گیا ہے یا ان کی حیثیت بتا دی گئی ہے۔

زیتون کی پہاڑیوں پر طلوعِ آفتاب اور دور ایک قدیم بستی — سرزمینِ فلسطین کا علامتی منظر
سرزمینِ انبیا کا علامتی منظر — «اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو نشانی بنایا» (23:50)

نسب: آلِ عمران اور حضرت مریم

قرآن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہمیشہ «ابنِ مریم» کہتا ہے، کیونکہ ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی والدہ حضرت مریم عمران کی بیٹی تھیں، جن کی والدہ نے انہیں پیدائش سے پہلے ہی اللہ کے گھر کی خدمت کے لیے نذر کر دیا تھا، اور جن کی کفالت حضرت زکریا علیہ السلام نے کی (آلِ عمران 3:35–37)۔ اللہ نے مریم کو تمام جہانوں کی عورتوں پر چن لیا (آلِ عمران 3:42)، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ
«مردوں میں بہت سے کامل ہوئے، اور عورتوں میں صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کامل ہوئیں۔» (صحیح بخاری 3411)

حضرت مریم کے واسطے سے عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ہیں، یعنی حضرت یعقوب اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کی نسل سے۔ سورۂ تحریم میں اللہ نے مریم کو «صدیقہ» اور «قانتین میں سے» کہا اور یہ کہ انہوں نے اپنے رب کے کلمات اور کتابوں کی تصدیق کی (التحریم 66:12)۔

بشارت اور ولادت: «کُن فَیَکُون»

سورۂ آلِ عمران میں فرشتوں کی زبان سے بشارت نقل ہوئی:

إِذْ قَالَتِ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ يَـٰمَرْيَمُ إِنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ٱسْمُهُ ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ ۝ وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ۝ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
«جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! اللہ تمہیں اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہو گا، دنیا اور آخرت میں باعزت اور مقرب بندوں میں سے۔ وہ گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے بات کرے گا اور نیکوں میں سے ہو گا۔ مریم نے کہا: اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہو گا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا بھی نہیں؟ فرمایا: اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے؛ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے «ہو جا» اور وہ ہو جاتا ہے۔» (آلِ عمران 3:45–47)

سورۂ مریم میں ولادت کا منظر تفصیل سے ہے: روح (جبریل علیہ السلام) انسانی شکل میں آئے، مریم نے رحمٰن کی پناہ مانگی، انہوں نے کہا: «میں تو تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں» (مریم 19:17–21)۔ پھر وہ ایک دور کی جگہ چلی گئیں؛ دردِ زہ نے انہیں کھجور کے تنے کی طرف لا کھڑا کیا؛ نیچے سے آواز آئی کہ غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کا تنا ہلاؤ، تازہ کھجوریں گریں گی (مریم 19:22–26)۔ قرآن نے ولادت کی جگہ کا نام نہیں لیا؛ «بیت اللحم» اہلِ کتاب کی روایت سے ہے۔

ولادت کے بعد شیطان کے چھونے سے حفاظت کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلاَّ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ، غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا
«آدم کی اولاد میں کوئی بچہ ایسا نہیں جسے پیدائش کے وقت شیطان نہ چھوتا ہو، اور وہ اس چھونے سے چیخ کر روتا ہے؛ سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے۔» (صحیح بخاری 3431)

عیسیٰ علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش پر قرآن کا جواب دو ٹوک ہے:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ ٱللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ ۖ خَلَقَهُۥ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
«بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے؛ اسے مٹی سے بنایا پھر اس سے کہا «ہو جا» تو وہ ہو گیا۔» (آلِ عمران 3:59)
طلوعِ آفتاب کے وقت دریا کا پُرسکون کنارہ اور سبزہ — «تمہارے رب نے تمہارے نیچے چشمہ جاری کر دیا» کا علامتی منظر
«تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے» (19:24) — علامتی منظر

گہوارے میں پہلا خطبہ: «میں اللہ کا بندہ ہوں»

جب مریم بچے کو لے کر قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے طعنے دیے۔ انہوں نے بچے کی طرف اشارہ کیا، اور بچے نے کلام کیا:

قَالَ إِنِّى عَبْدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِىَ ٱلْكِتَـٰبَ وَجَعَلَنِى نَبِيًّا ۝ وَجَعَلَنِى مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَـٰنِى بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ۝ وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَتِى وَلَمْ يَجْعَلْنِى جَبَّارًا شَقِيًّا ۝ وَٱلسَّلَـٰمُ عَلَىَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
«بچے نے کہا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا۔ اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں ہوں، اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی جب تک میں زندہ رہوں۔ اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا بنایا اور مجھے سرکش بدبخت نہیں بنایا۔ اور سلام ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں گا۔» (مریم 19:30–33)

غور کیجیے: عیسیٰ علیہ السلام کا پہلا جملہ «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ» تھا۔ ان کی زندگی کا پہلا اور آخری پیغام یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا، ان میں پہلے عیسیٰ علیہ السلام ہیں (صحیح بخاری 3436)۔ اس کے فوراً بعد قرآن نے کہا: «یہ ہیں عیسیٰ ابنِ مریم، سچی بات، جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں۔ اللہ کے لیے لائق نہیں کہ وہ کوئی بیٹا بنائے» (مریم 19:34–35)۔

رسالت، انجیل اور معجزات

اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا، انہیں کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائی (آلِ عمران 3:48)۔ انجیل کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ اس میں «ہدایت اور نور» تھا اور وہ تورات کی تصدیق کرنے والی تھی (المائدہ 5:46)۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
«اور بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر (بھیجا) کہ: میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں؛ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل بناتا ہوں پھر اس میں پھونکتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے؛ اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں؛ اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو۔ بے شک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم مومن ہو۔» (آلِ عمران 3:49)

اس آیت میں چار مرتبہ «بِإِذْنِ اللَّهِ» یا اس کا مفہوم آیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ان کی ذاتی قدرت نہیں تھے، اللہ کے حکم سے تھے؛ یہی بات سورۂ مائدہ میں اللہ نے خود ان کو یاد دلائی: «جب تم میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی شکل بناتے... اور جب تم میرے حکم سے مردوں کو نکالتے تھے» (المائدہ 5:110)۔ ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق نشانیاں دی گئیں؛ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا تعلق شفا اور حیات سے تھا، اور ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اللہ کی قدرت پہچانیں، نہ کہ بندے کو معبود بنا لیں۔

پتھر کی کھڑکی پر مٹی کا بنا ہوا پرندہ اور مٹی کا گھڑا — معجزے کا علامتی منظر، بغیر کسی انسان کے
«میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل بناتا ہوں... تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے» (3:49) — علامتی منظر

حواری اور آسمانی دسترخوان

جب عیسیٰ علیہ السلام نے قوم کے انکار کو محسوس کیا تو پکارا: «اللہ کی راہ میں میرے مددگار کون ہیں؟» حواریوں نے کہا:

۞ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ۝ رَبَّنَآ ءَامَنَّا بِمَآ أَنزَلْتَ وَٱتَّبَعْنَا ٱلرَّسُولَ فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّـٰهِدِينَ
«پھر جب عیسیٰ نے ان سے کفر محسوس کیا تو کہا: اللہ کی راہ میں میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، اور گواہ رہیے کہ ہم فرماں بردار ہیں۔ اے ہمارے رب! جو تو نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور رسول کی پیروی کی، سو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔» (آلِ عمران 3:52–53)

حواریوں کی تعداد اور نام قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں؛ بارہ کی تعداد اور نام اہلِ کتاب کے ذرائع سے ہیں۔ سورۂ صف میں اللہ نے مومنوں کو حواریوں کی طرح «اللہ کے مددگار» بننے کا حکم دیا (الصف 61:14)۔ حواریوں نے ایک مرتبہ آسمان سے دسترخوان اترنے کی درخواست کی؛ عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: «اے اللہ ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان نازل فرما جو ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے نشانی» (المائدہ 5:112–115)۔ اسی واقعے سے سورت کا نام «المائدہ» ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی گواہی: «اللہ میرا اور تمہارا رب ہے»

قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام ہمیشہ خالص توحید ہے:

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ
«یقیناً وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابنِ مریم ہے؛ حالانکہ مسیح نے کہا: اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب اور تمہارا رب ہے۔ بے شک جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے۔» (المائدہ 5:72)

اور قیامت کے دن کا وہ مکالمہ جس میں اللہ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے: «تو پاک ہے! میرے لیے لائق نہیں کہ وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں... میں نے انہیں صرف وہی کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے» (المائدہ 5:116–117)۔ انہوں نے اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت بھی دی:

وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ قَالُوا۟ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
«اور جب عیسیٰ ابنِ مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلے کی تورات کی تصدیق کرنے والا اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔» (الصف 61:6)

نہ قتل، نہ صلیب: «اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا»

بنی اسرائیل کے سرداروں نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی سازش کی۔ قرآن اس کا انجام صاف بتاتا ہے:

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا ۝ بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
«اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم، اللہ کے رسول کو قتل کیا؛ حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے (کسی کو) اس جیسا بنا دیا گیا۔ اور جنہوں نے اس میں اختلاف کیا وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں؛ انہیں اس کا کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کے، اور انہوں نے یقیناً اسے قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا، اور اللہ غالب، حکمت والا ہے۔» (النساء 4:157–158)

سورۂ آلِ عمران میں اللہ کا یہ وعدہ بھی ہے: «اے عیسیٰ! میں تمہیں پورا لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کافروں سے پاک کرنے والا ہوں» (آلِ عمران 3:55)۔ اہلِ سنت کا عقیدہ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے؛ «توفّی» کے لفظ کی تفصیل تفاسیر میں ہے، مگر قتل اور صلیب کی نفی قرآن کی قطعی نص ہے۔

نزولِ عیسیٰ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ
«قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ ابنِ مریم تم میں عادل حاکم بن کر اتریں؛ وہ صلیب توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال اتنا بڑھ جائے گا کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔» (صحیح بخاری 2222؛ صحیح مسلم 155)

صحیح مسلم کی طویل حدیث (حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ) میں ہے کہ دجال کے فتنے کے دوران اللہ مسیح ابنِ مریم کو بھیجے گا؛ وہ دمشق کے مشرق میں سفید منارے کے پاس دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے اتریں گے، دجال کا پیچھا کریں گے اور اسے «بابِ لُد» پر جا لیں گے (صحیح مسلم 2937)۔ قرآن میں بھی اشارہ ہے: «اور بے شک وہ قیامت کی ایک نشانی ہے، سو اس میں شک نہ کرو» (الزخرف 43:61)۔ اور اہلِ کتاب کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے گا (النساء 4:159)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام سے اپنے تعلق کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَالأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ
«میں دنیا اور آخرت میں عیسیٰ ابنِ مریم کے سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں؛ انبیا علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ اور دین ایک ہے۔» (صحیح بخاری 3443)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم — خطاطی کارڈ
«إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا» (19:30)

مسلمان کا عقیدہ: نہ غلو، نہ تنقیص

يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ إِنَّمَا ٱلْمَسِيحُ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ ٱللَّهِ وَكَلِمَتُهُۥٓ أَلْقَىٰهَآ إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ ۖ فَـَٔامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۖ وَلَا تَقُولُوا۟ ثَلَـٰثَةٌ ۚ ٱنتَهُوا۟ خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا ٱللَّهُ إِلَـٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ سُبْحَـٰنَهُۥٓ أَن يَكُونَ لَهُۥ وَلَدٌ ۘ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلًا
«اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم تو صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے مریم کی طرف ڈالا، اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں۔ سو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور «تین» نہ کہو؛ باز آ جاؤ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اللہ تو صرف ایک معبود ہے؛ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو۔» (النساء 4:171)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور عیسیٰ اللہ کے بندے، رسول، اس کا کلمہ جو اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں، اور جنت و دوزخ حق ہیں — اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا خواہ اس کے اعمال کچھ بھی ہوں (صحیح بخاری 3435)۔ یہی وہ متوازن عقیدہ ہے جس پر مسلمان قائم ہیں: عیسیٰ علیہ السلام کی تعظیم بندے اور رسول کی حیثیت سے، نہ خدا بنا کر، نہ گھٹا کر۔

نوٹ: اس مضمون میں ہر حدیث صحیح بخاری یا صحیح مسلم سے ہے اور ہر آیت کے ساتھ لنک موجود ہے۔ ولادت کی جگہ، حواریوں کے نام اور نبوت کی عمر جیسی باتیں اہلِ کتاب کے ذرائع سے ہیں؛ انہیں دین کا یقینی حصہ نہ سمجھا جائے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیرت سے سبق

  1. سب سے پہلے بندگی: گہوارے کا پہلا جملہ «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ» (19:30) — ہر عظمت اللہ کی بندگی کے اندر ہے۔
  2. معجزہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے: بار بار «بِإِذْنِ اللَّهِ» (3:49) — نشانیاں دینے والے کو معبود نہ بنایا جائے۔
  3. ماں کے ساتھ نیکی: «وَبَرًّا بِوَالِدَتِي» (19:32) ایک نبی کی زبان سے۔
  4. انصار اللہ بنو: حواریوں کا جواب «نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ» (3:52؛ 61:14) آج کے مومن کے لیے بھی حکم ہے۔
  5. غلو سے بچو: «لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ» (4:171) — محبت کو عبادت میں بدلنا ہی پچھلی امتوں کی گمراہی تھی۔
  6. تمام انبیا ایک دین کے داعی ہیں: «الأنبیاء إخوۃ لعلات» (بخاری 3443) — عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

خلاصہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا کلمہ، مریم کے بیٹے، بنی اسرائیل کے آخری رسول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دینے والے ہیں۔ انہیں بغیر باپ کے پیدا کیا گیا، گہوارے میں بولے، اللہ کے حکم سے مردے زندہ کیے، قوم کی سازش سے بچا کر آسمان پر اٹھا لیے گئے، اور قیامت سے پہلے عادل حاکم بن کر اتریں گے۔ ان کی پوری سیرت ایک جملے کا تفصیلی بیان ہے: «اللہ میرا رب اور تمہارا رب ہے، سو اسی کی عبادت کرو؛ یہی سیدھا راستہ ہے» (مریم 19:36)۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments