وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Anbiya-e-Kiram› حضرت نوح علیہ السلام: ساڑھے نو سو سال کی دعوت، کشتی اور طوفان

حضرت نوح علیہ السلام: ساڑھے نو سو سال کی دعوت، کشتی اور طوفان

نAuthor Nawab
قصص الانبیاء • حضرت نوح علیہ السلام

حضرت نوح علیہ السلام: ساڑھے نو سو سال کی دعوت، کشتی اور طوفان

حضرت نوح علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں۔ قرآن ان کا نام تینتالیس بار لیتا ہے اور ایک پوری سورت ان کے نام سے ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال توحید کی دعوت دی؛ قوم نے مذاق اڑایا، دھمکیاں دیں اور بتوں کو نہ چھوڑا۔ پھر اللہ کے حکم سے خشکی پر کشتی بنی، طوفان آیا اور ایمان والوں کو نجات ملی۔ یہ مضمون قرآن اور صحیح حدیث کے مطابق ان کا قصہ بیان کرتا ہے اور ان مشہور باتوں کی نشاندہی کرتا ہے جو سند کے بغیر پھیلی ہوئی ہیں۔

خشک میدان میں زیرِ تعمیر بڑی لکڑی کی کشتی، آس پاس لکڑی اور اوزار — علامتی منظر

خشکی پر کشتی کی تعمیر: قوم گزرتی اور مذاق اڑاتی تھی (ہود 11:38)۔

پہلے رسول اور ان کی قوم کا شرک

حضرت آدم علیہ السلام کے بعد انسان ایک عرصے تک توحید پر رہے؛ پھر شرک آیا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ نوح کے پانچ بتوں کی وضاحت کرتے ہیں:

أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ، فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنِ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمُ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ، فَفَعَلُوا، فَلَمْ تُعْبَدْ، حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ
«(ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر) قومِ نوح کے نیک لوگوں کے نام تھے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں ڈالا کہ جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کی یادگاریں نصب کرو اور انہیں ان کے ناموں سے پکارو۔ انہوں نے ایسا کیا؛ ابھی ان کی پوجا نہ ہوتی تھی، یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی گزر گئے اور علم مٹ گیا تو ان کی پوجا ہونے لگی۔» (صحیح بخاری، حدیث 4920)

یعنی شرک کا آغاز بزرگوں کی محبت میں غلو اور ان کی یادگاروں سے ہوا؛ یہ سبق آج بھی زندہ ہے۔ قیامت کے دن کی شفاعت والی طویل حدیث میں لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آ کر کہیں گے: «آپ زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو شکر گزار بندہ کہا» (صحیح بخاری 3340)؛ قرآن میں «عبداً شکوراً» کے الفاظ ہیں (17:3)۔ اللہ نے آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو جہانوں پر چن لیا (3:33)۔

ساڑھے نو سو سال کی دعوت

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
«اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس کم ہزار سال رہا؛ پھر انہیں طوفان نے پکڑ لیا اور وہ ظالم تھے۔» (سورۃ العنکبوت 29:14)

قرآن یہ مدت دعوت کی بتاتا ہے، ان کی پوری عمر نہیں؛ طوفان سے پہلے اور بعد کی عمر کے بارے میں قرآن اور صحیح حدیث خاموش ہیں، اس لیے «ڈھائی ہزار سال عمر» جیسے اقوال بے سند ہیں۔ سورۃ نوح میں خود حضرت نوح علیہ السلام اپنی محنت بیان کرتے ہیں: رات دن بلایا، کھلے عام اور چپکے سے بلایا، مگر قوم نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، کپڑے لپیٹ لیے اور تکبر کیا (71:5–9)۔ آپ علیہ السلام نے استغفار کی ترغیب دی اور اس کے دنیاوی ثمرات بھی بتائے:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ۝ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۝ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا
«میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے؛ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش بھیجے گا، مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ بنائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔» (سورۃ نوح 71:10–12)

قوم کے سرداروں کے اعتراض وہی تھے جو ہر دور کے منکرین کے رہے: تم ہم جیسے بشر ہو، تمہارے پیروکار «رذیل» لوگ ہیں، تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں (ہود 11:27)۔ حضرت نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ایمان والوں کو دھتکار نہیں سکتا، میں تم سے مال نہیں مانگتا، میرا اجر اللہ پر ہے (11:29–31؛ الشعراء 26:109–115)۔ آخر قوم نے کہا: «اے نوح! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کیا؛ اب لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو» (11:32)، اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی (26:116)۔

طوفانی سمندر کی بلند موجوں پر کشتی، آسمان سے موسلا دھار بارش — علامتی منظر

«پہاڑوں جیسی موجوں» میں کشتی: بسم اللہ مجریٰها ومرسٰها (ہود 11:41–42)۔

کشتی کا حکم اور قوم کا مذاق

جب اللہ نے خبر دی کہ جو ایمان لا چکے ان کے سوا اب کوئی ایمان نہ لائے گا (11:36)، تو حضرت نوح علیہ السلام نے دعا کی: «اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ» (71:26)۔ حکم ہوا: «ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا؛ وہ ضرور غرق ہوں گے» (11:37)۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ
«اور وہ کشتی بناتے رہے؛ جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے، ان کا مذاق اڑاتے۔ انہوں نے کہا: اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے جیسے تم اڑاتے ہو۔» (سورۃ ہود 11:38)

قرآن کشتی کو «تختوں اور کیلوں والی» کہتا ہے (القمر 54:13)۔ اس کی لمبائی، چوڑائی، تین منزلیں، تعمیر کی مدت (سو سال، درخت لگانا) اور لکڑی کی قسم کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے وہ تفسیر اور قصص کے اقوال ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں؛ انہیں «حدیث میں آتا ہے» کہنا غلط ہے۔

تنور ابلا اور طوفان آیا

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ
«یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا: اس میں ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کر لو، اور اپنے گھر والوں کو، سوائے اس کے جس کے بارے میں بات پہلے طے ہو چکی، اور جو ایمان لائے۔ اور اس کے ساتھ تھوڑے ہی لوگ ایمان لائے تھے۔» (سورۃ ہود 11:40)

ایمان والوں کی تعداد قرآن نے «قلیل» کہی ہے۔ اسّی افراد کی تعداد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تفسیری روایت میں آتی ہے اور بعض اقوال میں اس سے کم؛ یہ تفسیر کا قول ہے، صحیح مرفوع حدیث نہیں۔ آسمان کے دروازے کھلے، زمین سے چشمے پھوٹے اور پانی «ایک طے شدہ کام پر» مل گیا (54:11–12)۔ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں میں چلی اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پکارا جو الگ کھڑا تھا:

يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ ۝ قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَن رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ
«اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔ اس نے کہا: میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا: آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے۔ اور دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں ہو گیا۔» (سورۃ ہود 11:42–43)
پہاڑ کی چوٹی پر ٹھہری ہوئی کشتی، نیچے وادیوں میں اترتا پانی اور بادلوں سے چھنتی روشنی — علامتی منظر

«اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی» (ہود 11:44)۔

«اے زمین! اپنا پانی نگل لے»

وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
«اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا۔ پانی خشک کر دیا گیا، کام تمام ہوا اور کشتی جودی پر ٹھہر گئی؛ اور کہا گیا: ظالم قوم کے لیے دوری ہو۔» (سورۃ ہود 11:44)

جودی کے مقام کے بارے میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں؛ مشہور قول موصل (عراق) کے قریب جزیرہ ابن عمر کے علاقے کا پہاڑ ہے، جو آج ترکی کی سرحد کے اندر ہے۔ قرآن اور حدیث نے جگہ متعین نہیں کی، اس لیے کسی ایک قول کو «صحیح روایت» کہنا درست نہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بیٹے کے بارے میں عرض کیا: «میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے»؛ جواب ملا: «وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں، وہ تو ناشائستہ عمل ہے؛ جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کا سوال مجھ سے نہ کر» (11:45–47)۔ یہ نسب پر ایمان کی فوقیت کا سب سے واضح درس ہے۔ ان کی بیوی بھی کافر تھی اور اللہ نے اسے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ کافروں کے لیے مثال بنایا (التحریم 66:10)۔ پھر حکم ہوا: «اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اترو» (11:48)۔

«سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ»

وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ ۝ وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ۝ وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ ۝ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ ۝ سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ
«اور نوح نے ہمیں پکارا تو ہم کیا ہی اچھے جواب دینے والے ہیں۔ ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑے غم سے نجات دی، اور اسی کی اولاد کو باقی رہنے والا بنایا، اور بعد والوں میں اس کا ذکرِ خیر چھوڑا: سلام ہو نوح پر تمام جہانوں میں۔» (سورۃ الصافات 37:75–79)

قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے پیغام پہنچا دیا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ ان کی قوم انکار کرے گی؛ تب گواہ کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت»؛ اور یہی سورۃ البقرہ 2:143 کے «امتِ وسط» کے گواہ بننے کا مطلب ہے (صحیح بخاری 3339)۔

ویران قدیم بستی کے چوک میں خالی پتھر کے چبوترے — عبرت کا علامتی منظر

نیک لوگوں کی یادگاریں جو بعد میں بت بن گئیں (بخاری 4920): غلو سے شرک تک کا راستہ۔

جن باتوں میں احتیاط ضروری ہے

حضرت نوح علیہ السلام کے قصے کے ساتھ کئی بے سند باتیں پھیلی ہوئی ہیں: کشتی کی پیمائش اور تین منزلیں، سو سال کی تعمیر، اسّی مومنوں کو «حدیث» کہنا، ڈھائی ہزار سال عمر، وفات کے بعد قبر کے مختلف دعوے (نجف، موصل، بعلبک)، بیٹے سام کو «اسمِ اعظم» سونپنا، اور «بحقِ نوح» جیسی غیر مسنون دعائیں۔ ان میں سے کوئی بات قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں؛ کچھ تفسیری اقوال ہیں اور کچھ محض قصے۔ قرآن نے جو کچھ بتایا ہے وہ عبرت کے لیے کافی ہے۔ ان کے معاصر سلسلے کے انبیاء حضرت ادریس علیہ السلام اور بعد کی قوموں عاد اور ثمود کے قصے بھی اسی اصول پر لکھے گئے ہیں۔

عملی سبق

  • دعوت میں استقامت: ساڑھے نو سو سال، اور نتیجہ اللہ پر چھوڑا۔
  • استغفار رحمت کے دروازے کھولتا ہے: بارش، مال، اولاد اور باغ (71:10–12)۔
  • نیک لوگوں میں غلو شرک کا دروازہ ہے (بخاری 4920)؛ محبت کو عبادت نہ بننے دیں۔
  • نسب نجات نہیں دلاتا؛ ایمان اور عمل دلاتا ہے (11:46)۔
  • مذاق اڑانے والوں کے سامنے حکم کی تعمیل جاری رکھیں؛ کشتی خشکی پر ہی بنی تھی۔

خلاصہ

حضرت نوح علیہ السلام زمین والوں کی طرف پہلے رسول ہیں (بخاری 3340)۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال دعوت دی (29:14)، قوم نے نیک لوگوں کی یادگاروں سے شروع ہونے والے شرک کو نہ چھوڑا (71:23؛ بخاری 4920)۔ اللہ کے حکم سے کشتی بنی، تنور ابلا، طوفان آیا، تھوڑے مومن بچے، بیٹا اور بیوی کفر کی وجہ سے ہلاک ہوئے، کشتی جودی پر ٹھہری (ہود 11:36–48)۔ اللہ نے بعد والوں میں ان کا ذکرِ خیر رکھا (37:78–79) اور قیامت میں امتِ محمدیہ ان کی تبلیغ کی گواہ ہوگی (بخاری 3339)۔ کشتی کی پیمائش، سو سال، اسّی افراد اور عمر و قبر کی تفصیلات تفسیری اقوال یا بے سند باتیں ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کتنے سال دعوت دی؟

قرآن کے مطابق پچاس کم ہزار یعنی ساڑھے نو سو سال (العنکبوت 29:14)۔ یہ دعوت کی مدت ہے، پوری عمر نہیں۔

۲۔ کشتی میں کتنے لوگ تھے؟

قرآن «قلیل» کہتا ہے (ہود 11:40)۔ اسّی کی تعداد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تفسیری روایت ہے، صحیح مرفوع حدیث نہیں۔

۳۔ کیا حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا واقعی ڈوبا؟

جی ہاں؛ سورۃ ہود 11:42–47 میں اس کا انکار، غرق ہونا اور «وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں» کا جواب موجود ہے۔

۴۔ کشتی کہاں ٹھہری؟

قرآن کے مطابق «جودی» پر (ہود 11:44)۔ اس کا مقام مفسرین کے اقوال میں مختلف ہے؛ مشہور قول موصل کے قریب کا پہاڑ ہے۔ قرآن و حدیث نے جگہ متعین نہیں کی۔

۵۔ کیا کشتی سو سال میں بنی اور اس کی تین منزلیں تھیں؟

یہ تفسیر اور قصص کے اقوال ہیں؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث اس بارے میں نہیں۔

کتابیں اور حوالے

قرآن اور صحیحین بنیاد ہیں؛ تفسیری اقوال کو ان کے درجے پر رکھا گیا اور بے سند باتیں حذف کی گئیں۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments