حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد: طاقت کا غرور اور ہوا کا عذاب
حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد: طاقت کا غرور اور ہوا کا عذاب
ارم ذات العماد کی قوم، ایک بھائی کی دعوت، «ہم سے زیادہ طاقتور کون؟» کا دعویٰ اور سات راتیں آٹھ دن کی ہوا؛ قرآن اور صحیح حدیث کی روشنی میں۔
قرآنِ کریم میں قومِ عاد کا ذکر بار بار آتا ہے اور ہر بار ایک ہی سبق کے ساتھ: جب اللہ کسی قوم کو طاقت، قد و قامت، عمارتیں اور مال دے اور وہ شکر کے بجائے تکبر کرے تو اس کا انجام عبرت بن جاتا ہے۔ اس قوم کی طرف اللہ نے ان ہی میں سے ایک بھائی، حضرت ہود علیہ السلام، کو بھیجا۔ انہوں نے وہی پیغام دیا جو ہر نبی کا پہلا پیغام ہے: صرف اللہ کی عبادت کرو۔ قوم نے مذاق اڑایا، دلیل مانگی، عذاب کا چیلنج دیا، اور پھر وہی ہوا جس سے انہیں ڈرایا گیا تھا۔
یہ مضمون قرآن کے بیان کو بنیاد بناتا ہے؛ صحیح حدیث کی دو تین روایتیں اپنی جگہ رکھتا ہے؛ اور وہ باتیں جو تفسیروں میں اسرائیلی یا بے سند روایات کے طور پر آتی ہیں، ان کو الگ نشان زد کرتا ہے تاکہ قاری یقینی اور غیر یقینی میں فرق کر سکے۔
ارم ذات العماد: بلند ستونوں والی قوم جس کی مثال شہروں میں پیدا نہیں کی گئی تھی (سورۃ الفجر 89:6–8)۔
قومِ عاد کون تھی؟
قرآن عاد کو قومِ نوح کے بعد کی قوم بتاتا ہے: ہود علیہ السلام نے خود انہیں یاد دلایا کہ «اللہ نے تمہیں قومِ نوح کے بعد جانشین بنایا اور جسمانی قوت میں تمہیں زیادہ بڑھایا» (الاعراف 7:69)۔ ان کا علاقہ «احقاف» یعنی ریت کے ٹیلوں کی سرزمین تھا (الاحقاف 46:21)؛ مفسرین اسے جنوبی عرب (یمن و حضرموت کے اطراف) میں بتاتے ہیں، جو ایک تاریخی رائے ہے، قرآن کی نص نہیں۔
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ
«کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ارم، ستونوں والے، جن جیسا شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا۔» (سورۃ الفجر 89:6–8)
«ذات العماد» کے بارے میں مفسرین کی دو رائیں ہیں: بلند ستونوں والی عمارتیں، یا بلند ستونوں والے خیمے (یعنی طاقتور قد آور لوگ)۔ دونوں صورتوں میں مراد ایک ایسی قوم ہے جو جسمانی طاقت اور تعمیر میں اپنے زمانے میں بے مثال تھی۔ «شداد بن عاد» اور «جنت جیسا شہر» والی کہانیاں قرآن یا صحیح حدیث میں نہیں؛ ان کا ذکر آگے «احتیاط» والے حصے میں ہے۔
قرآن ان کی تین عادتوں پر گرفت کرتا ہے، جو ہود علیہ السلام کی زبان سے بیان ہوئیں:
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ وَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ
«کیا تم ہر بلند جگہ پر بے مقصد ایک نشانی بناتے ہو؟ اور مضبوط محل بناتے ہو گویا تم ہمیشہ رہو گے؟ اور جب پکڑتے ہو تو جابر بن کر پکڑتے ہو۔» (سورۃ الشعراء 26:128–130)
یعنی دکھاوے کی تعمیر، ہمیشہ رہنے کا گمان، اور کمزور پر جبر۔ ان کا تکبر ایک جملے میں سمٹ آیا:
فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً
«عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا: ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ جس اللہ نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے؟» (سورۃ فصلت 41:15)
حضرت ہود علیہ السلام: قوم کے بھائی
قرآن ہود علیہ السلام کے نسب، والدین یا عمر کی کوئی تفصیل نہیں دیتا؛ صرف اتنا کہ وہ عاد ہی میں سے تھے، اسی لیے انہیں «ان کا بھائی» کہا گیا۔ یہ لفظ خود بتاتا ہے کہ وہ کوئی اجنبی نہیں تھے؛ اسی زبان، اسی قبیلے کے آدمی جنہیں قوم اچھی طرح جانتی تھی۔ (تفسیروں میں ان کے نسب کے مختلف سلسلے ملتے ہیں؛ یہ تاریخی روایات ہیں، یقینی نہیں۔)
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ
«اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں؛ کیا تم ڈرتے نہیں؟» (سورۃ الاعراف 7:65)
ہود علیہ السلام کی دعوت کے چند نکات قرآن سے صاف ملتے ہیں:
- توحید: صرف اللہ کی عبادت؛ یہی ہر نبی کا پہلا جملہ تھا (7:65؛ 11:50)۔
- بے غرضی: «میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا؛ میرا اجر اسی پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا» (11:51)۔
- استغفار کی برکت: «اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو؛ وہ تم پر خوب بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں قوت بڑھائے گا» (11:52)۔
- نعمتوں کی یاد دہانی: قومِ نوح کے بعد جانشینی اور جسمانی قوت اللہ کی عطا ہے؛ «اللہ کی نعمتیں یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ» (7:69)۔
- اللہ سے ڈرنے کی تلقین: «اس سے ڈرو جس نے تمہیں ان چیزوں سے مدد دی جو تم جانتے ہو: مویشی، بیٹے، باغ اور چشمے» (26:132–134)۔
ہود علیہ السلام قوم کو توحید کی دعوت دے رہے ہیں؛ قوم دلیل مانگتی ہے اور مذاق اڑاتی ہے۔
قوم کا جواب: دلیل مانگنا، مذاق، اور عذاب کا چیلنج
قوم نے تین باتیں کہیں: تم کوئی واضح دلیل نہیں لائے؛ ہم تمہارے کہنے پر اپنے معبود نہیں چھوڑیں گے؛ اور ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے (ہود 11:53)۔ پھر الزام لگایا کہ «ہمارے کسی معبود نے تمہیں کوئی آسیب پہنچا دیا ہے»۔ ہود علیہ السلام کا جواب ایک نبی کے توکل کی بلند ترین مثال ہے:
قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ ۖ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم ۚ مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا
«کہا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سے بری ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا شریک ٹھہراتے ہو۔ سو تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کر لو، پھر مجھے مہلت نہ دو۔ میں نے اللہ پر بھروسا کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے؛ کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کی پیشانی اسی کے ہاتھ میں ہے۔» (سورۃ ہود 11:54–56)
ایک شخص، پوری طاقتور قوم کے سامنے، اور کہتا ہے: سب مل کر جو کر سکتے ہو کر لو۔ یہ بہادری نہیں، یقین ہے کہ ہر جاندار کی لگام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
سورۃ الشعراء میں قوم کی بے حسی ان الفاظ میں ہے:
قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُن مِّنَ الْوَاعِظِينَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
«انہوں نے کہا: ہمارے لیے برابر ہے، تم نصیحت کرو یا نصیحت کرنے والوں میں نہ ہو۔ یہ تو بس پہلے لوگوں کی عادت ہے، اور ہم پر عذاب نہیں آنے والا۔» (سورۃ الشعراء 26:136–138)
اور آخر میں چیلنج: «اگر تم سچے ہو تو جس چیز کا ہم سے وعدہ کرتے ہو وہ لے آؤ» (الاعراف 7:70؛ الاحقاف 46:22)۔ ہود علیہ السلام نے جواب دیا: «تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب واقع ہو چکا … تو انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں» (7:71)۔
عذاب: بادل جو بارش نہیں لایا
سورۃ الاحقاف اس لمحے کو ایسے بیان کرتی ہے جیسے آنکھوں کے سامنے ہو۔ آسمان پر ایک بادل آیا؛ قوم خوش ہوئی کہ بارش آئے گی:
فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا فَأَصْبَحُوا لَا يُرَىٰ إِلَّا مَسَاكِنُهُمْ
«پھر جب انہوں نے اسے ایک بادل کی صورت اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہا: یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ نہیں! یہ وہی ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے: ایک ہوا جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔ پھر وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔» (سورۃ الاحقاف 46:24–25)
قرآن اس ہوا کے لیے جو الفاظ استعمال کرتا ہے وہ خود اس کی کیفیت بتاتے ہیں: «ریح صرصر عاتیہ» یعنی شدید سرد، گرجتی اور بے قابو ہوا (الحاقہ 69:6)؛ «الریح العقیم» یعنی بانجھ ہوا جو کوئی خیر پیدا نہیں کرتی، جس چیز پر گزرے اسے چورا کر دے (الذاریات 51:41–42)؛ اور «ریح صرصر فی یوم نحس مستمر» یعنی مسلسل نحوست کے دن کی ہوا (القمر 54:19)۔
سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ
«اللہ نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل مسلط رکھا؛ تو تم اس قوم کو اس میں گرا ہوا دیکھتے، گویا وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں۔ پھر کیا تم ان میں سے کسی کو باقی دیکھتے ہو؟» (سورۃ الحاقہ 69:7–8)
اس سے زیادہ تفصیل (ہڈیوں کے ٹکڑے، اندرونی اعضا وغیرہ) جو بعض کتابوں میں ابنِ کثیر یا دیگر کے نام سے لکھی جاتی ہے، قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت نہیں؛ ہم قرآن کی تصویر پر رکتے ہیں: ایک طاقتور قوم، کھجور کے گرے ہوئے کھوکھلے تنوں کی طرح۔
سورۃ الحاقہ 69:7: قوم ایسے گری جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے؛ سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل۔
نجات اور قرآن کا آخری تبصرہ
وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
«اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا، اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی۔» (سورۃ ہود 11:58)
پھر قرآن عاد پر فیصلہ سناتا ہے: «یہ عاد تھے؛ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا، اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ضدی سرکش کے حکم پر چلے … سنو! عاد نے اپنے رب کا انکار کیا؛ سنو! دوری ہو عاد کے لیے جو ہود کی قوم تھے» (ہود 11:59–60)۔ ہود علیہ السلام اور مومنین عذاب کے بعد کہاں گئے، کتنی عمر پائی، کہاں مدفون ہوئے؛ قرآن اور صحیح حدیث اس پر خاموش ہیں۔
صحیح حدیث میں قومِ عاد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب کے موقع پر ہوا کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے عاد کو یاد کیا:
نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
«میری مدد پروا (مشرقی ہوا) سے کی گئی، اور عاد کو دبور (مغربی ہوا) سے ہلاک کیا گیا۔» (حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما؛ صحیح بخاری، حدیث 1035)
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آسمان پر بادل یا تیز ہوا ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک پر فکر نظر آتی؛ لوگ بادل دیکھ کر بارش کی امید میں خوش ہوتے مگر آپ بے چین ہوتے۔ پوچھنے پر فرمایا:
يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ؟ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا
«اے عائشہ! مجھے کیا اطمینان کہ اس میں عذاب نہ ہو؟ ایک قوم کو ہوا سے عذاب دیا گیا، اور ایک قوم نے عذاب کو دیکھا تو کہا: یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔» (صحیح بخاری، حدیث 4829؛ نیز صحیح مسلم 899a)
یہ حدیث قومِ عاد کے قصے کو ہماری زندگی سے جوڑ دیتی ہے: جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے رحمۃ للعالمین بنایا، وہ بھی بادل دیکھ کر اللہ سے عافیت مانگتے تھے۔ بارش ہوتی تو فرماتے: «رحمۃ» (رحمت ہے)۔ کسی قوم کی تباہی کا قصہ سن کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھ لینا، عاد ہی کی غلطی کا ایک ہلکا سا سایہ ہے۔
«پھر ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا» (الاحقاف 46:25): عبرت کی نشانی ہر نسل کے لیے۔
پانچ سبق
- طاقت اللہ کی عطا ہے، فضیلت کی دلیل نہیں۔ «ہم سے زیادہ طاقتور کون؟» کا جواب خود خالق نے دیا (41:15)۔
- استغفار رزق اور قوت کا دروازہ ہے۔ ہود علیہ السلام نے بارش اور قوت کو استغفار سے جوڑا (11:52)؛ یہی بات نوح علیہ السلام نے بھی کہی (نوح 71:10–12)۔
- داعی کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ «میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا» (11:51)؛ دعوت بے غرض ہو تو اثر رکھتی ہے، چاہے قوم نہ مانے۔
- توکل تنہائی میں بھی مضبوط رکھتا ہے۔ «سب مل کر تدبیر کر لو» (11:55) صرف وہی کہہ سکتا ہے جسے یقین ہو کہ ہر جاندار کی پیشانی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
- نعمت کا بادل عذاب کا بھی ہو سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بادل اور ہوا کے وقت دعا ہے، غفلت نہیں (بخاری 4829)۔
مشہور باتیں جن میں احتیاط ضروری ہے
- ہود علیہ السلام کی ولادت کا خواب، والد کا نام، نبوت کے وقت عمر (40 سال) یا 150 سال دعوت: قرآن و حدیث میں نہیں؛ بے سند قصے ہیں۔
- شداد بن عاد کا «جنت جیسا شہر» ارم: اسرائیلی روایت ہے؛ ابنِ کثیر خود اسے مردود قرار دیتے ہیں۔
- ہود علیہ السلام کی قبر (حضرموت یا کہیں اور) اور وہاں شعبان کی سالانہ زیارت: قبر کا مقام کسی صحیح سند سے ثابت نہیں؛ مخصوص دن کی زیارت کی کوئی شرعی اصل نہیں۔
- عذاب کی ہولناک جسمانی تفصیلات: قرآن «کھجور کے کھوکھلے تنے» کہتا ہے؛ اس سے آگے کے بیانات مستند نہیں۔
- «بعثت الی الاحمرین» یا «رحم اللہ اخا عاد» جیسی روایتیں جو بعض مضامین میں ہود علیہ السلام کے ذکر میں نقل ہوتی ہیں: صحیح کتبِ حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ ثابت نہیں؛ ہم نے صرف بخاری و مسلم کی روایات رکھی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
۱۔ قومِ عاد کہاں رہتی تھی؟
قرآن «احقاف» (ریت کے ٹیلے) کہتا ہے (46:21)۔ مفسرین اسے جنوبی عرب، یمن و حضرموت کے اطراف میں بتاتے ہیں؛ یہ تاریخی رائے ہے۔
۲۔ کیا ہود علیہ السلام عاد ہی میں سے تھے؟
جی ہاں۔ قرآن انہیں «ان کا بھائی» کہتا ہے (7:65؛ 11:50)، یعنی اسی قوم اور قبیلے کے فرد۔
۳۔ عذاب کتنا عرصہ رہا؟
سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل (الحاقہ 69:7)۔
۴۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قومِ عاد کا ذکر فرمایا؟
جی ہاں؛ صحیح بخاری 1035 («عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا») اور صحیح بخاری 4829 / مسلم 899 (بادل دیکھ کر 46:24 کا حوالہ)۔
۵۔ کیا ہود علیہ السلام اولوالعزم انبیا میں ہیں؟
جمہور علما کے نزدیک اولوالعزم پانچ ہیں: نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم (الاحزاب 33:7؛ الشوریٰ 42:13)۔ ہود علیہ السلام ان میں شمار نہیں ہوتے، مگر ان کا مقام قرآن میں نہایت بلند ہے۔
دعا
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
«اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور ہمارے کام میں ہماری زیادتیاں بخش دے، ہمارے قدم جما دے اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔» (آلِ عمران 3:147؛ یہ پچھلے انبیا کے ساتھیوں کی دعا ہے جو قرآن نے ہمارے لیے محفوظ کی)
کتابیں اور حوالے
- القرآن الکریم: الاعراف 7:65–72؛ ہود 11:50–60؛ الشعراء 26:123–140؛ فصلت 41:15–16؛ الاحقاف 46:21–26؛ الذاریات 51:41–42؛ القمر 54:18–21؛ الحاقہ 69:6–8؛ الفجر 89:6–8۔
- صحیح بخاری، حدیث 1035: «نصرت بالصبا وأهلكت عاد بالدبور»۔
- صحیح بخاری، حدیث 4829 اور صحیح مسلم، حدیث 899a: بادل اور ہوا کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف اور 46:24 کا حوالہ۔
- تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر الطبری: الاعراف 7:65–72، ہود 11:50–60، الاحقاف 46:21–26؛ تفسیری اقوال اور اسرائیلی روایات کو قرآن و صحیح حدیث کے متن سے الگ سمجھیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment