حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت: کوفہ کی مسجد کا دردناک واقعہ — رمضان 40 ہجری
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت: کوفہ کی مسجد کا دردناک واقعہ — رمضان 40 ہجری
فجر کی اذان، مسجد کا دروازہ، اور ایک زہر آلود تلوار۔ خلافتِ راشدہ کا آخری خلیفہ اسی طرح رخصت ہوا جس طرح اس سے پہلے کے دو خلفاء — عبادت کی حالت میں، شہادت کے ساتھ۔
40 ہجری کے رمضان میں کوفہ کی مسجد میں فجر کے وقت ہونے والا حملہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آخری امتحان بنا۔ اس مضمون میں ہم شہادت کے پس منظر، واقعے کی تاریخی روایت، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے آخری دنوں اور ان کے بعد کے حالات کو ترتیب سے بیان کریں گے — اس اصول کے ساتھ کہ ان کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے اور شہادت کی تفصیلات تاریخی کتابوں سے ہیں۔ ان کے پورے دورِ خلافت کا جائزہ خلافتِ علی رضی اللہ عنہ: بیعت سے شہادت تک میں ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے ایک بھی میرے لیے ہوتی تو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی: تبوک کے موقع پر «تم میرے لیے ہارون کی طرح ہو»، خیبر کے دن «میں جھنڈا اس کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے»، اور آیتِ مباہلہ کے نزول پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلا کر فرمایا: «اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں» — صحیح مسلم 2404۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیار سے انہیں «ابو تراب» کہا، اور یہ لقب انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا — صحیح بخاری 3703۔
علم، شجاعت، زہد اور عدل — ان کی یہ صفات دشمن بھی مانتے تھے۔ ان کے نبوی دور کے حالات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں میں پڑھیے۔
نہروان کے بعد کا ماحول
نہروان (38ھ) کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کئی طرف سے دباؤ میں رہی۔ شام کے ساتھ تنازع حل نہیں ہوا تھا؛ مصر ہاتھ سے نکل گیا؛ کوفہ کے لوگ بار بار بلانے پر بھی جہاد کے لیے نہیں نکلتے تھے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبوں میں ان کی سستی کی شکایت بار بار ملتی ہے۔ دوسری طرف خوارج کی بچی کھچی باقیات نہروان کے مقتولین کے انتقام کی آگ میں جل رہی تھیں۔ نہروان کی تفصیل نہروان کا واقعہ میں ہے۔
تاریخی کتابوں میں مشہور ہے کہ خوارج کے تین افراد مکہ میں جمع ہوئے اور یہ طے کیا کہ "امت کے فتنے کے ذمہ دار" تین افراد — حضرت علی، حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم — کو ایک ہی رات قتل کر دیا جائے۔ حضرت معاویہ زخمی ہو کر بچ گئے، حضرت عمرو اس دن نماز پڑھانے نہیں آئے تھے اور ان کی جگہ ان کا نائب مارا گیا، اور کوفہ میں عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی نے اپنا منصوبہ پورا کر لیا۔ یہ منصوبہ بندی کی روایت تاریخی ہے؛ اس کی تفصیلات میں فرق ہے، مگر اس کا مرکزی خاکہ تمام بڑے ماخذ میں موجود ہے۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ ٱلْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۖ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدْخِلَ ٱلْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَـٰعُ ٱلْغُرُورِ
«ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے دیے جائیں گے» (سورۂ آلِ عمران 3:185)
مسجدِ کوفہ میں حملہ
قدیم تاریخی کتابوں کے مطابق 17 رمضان 40 ہجری کی صبح — بعض روایتوں میں 19 رمضان — حضرت علی رضی اللہ عنہ معمول کے مطابق فجر کے لیے لوگوں کو جگاتے ہوئے مسجد کی طرف نکلے۔ ابن ملجم زہر میں بجھی تلوار لیے گھات میں تھا؛ جیسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے یا نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اس نے «لا حکم الا للہ» کا نعرہ لگا کر ان کے سر پر وار کیا۔ زخم گہرا تھا۔ لوگوں نے حملہ آور کو پکڑ لیا۔ روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زخمی حالت میں فرمایا: «ربِ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا»۔
یہ حملہ صبح کی عبادت کے وقت، مسجد میں ہوا — یہ پہلو اس واقعے کی سنگینی اور حرمتِ مسجد دونوں کو سامنے لاتا ہے، اور یہ بھی کہ خوارج کی تکفیری ذہنیت کہاں تک پہنچ سکتی ہے: وہ نماز پڑھنے والے خلیفہ کو مسجد میں قرآن کے نعرے کے ساتھ قتل کر رہے تھے۔
آخری دن اور وصیتیں
حملے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ دو یا تین دن زندہ رہے۔ تاریخی روایتوں میں ان کی وصیتوں کا ذکر ہے جو ان کے کردار کی آئینہ دار ہیں۔ قاتل کے بارے میں انہوں نے حکم دیا: اسے کھلاؤ پلاؤ اور اچھی طرح قید میں رکھو؛ اگر میں زندہ رہا تو میں خود فیصلہ کروں گا — چاہوں تو قصاص لوں، چاہوں تو معاف کر دوں؛ اور اگر مر گیا تو ایک وار کے بدلے ایک ہی وار کرنا، مُثلہ (لاش بگاڑنا) نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ سے منع فرمایا ہے۔ مُثلہ کی یہ ممانعت صحیح حدیث میں ثابت ہے۔ اپنے بیٹوں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو انہوں نے تقویٰ، نماز، یتیموں اور پڑوسیوں کے حق اور قرآن پر عمل کی وصیت کی، اور یہ بھی کہ «میرے بعد مسلمانوں کا خون نہ بہانا؛ یہ نہ ہو کہ تم کہو امیر المومنین قتل ہوئے اور لوگوں کا قتلِ عام شروع ہو جائے؛ میرا قاتل صرف میرا قاتل ہے»۔
عام تاریخی روایت کے مطابق 21 رمضان 40 ہجری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وفات پائی۔ عمر تقریباً 63 برس — یعنی وہی عمر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی تھی۔ ان کے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور کوفہ میں رات کے وقت تدفین ہوئی۔ قبر کی صحیح جگہ کے بارے میں ابتدائی مؤرخین کا اختلاف ہے، اور بعض روایتوں کے مطابق خوارج کے خوف سے اسے چھپایا گیا؛ آج نجف میں ان کا مزار معروف ہے۔ ابن ملجم پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے وصیت کے مطابق قصاص نافذ کیا۔
ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَـٰبَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوٓا۟ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ
«بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں» (سورۂ بقرہ 2:156)
شہادت کے بعد: حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد کوفہ کے لوگوں نے ان کے بڑے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ چند ماہ بعد انہوں نے امت کا خون بچانے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور 41 ہجری «عام الجماعۃ» کہلایا — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے عین مطابق کہ «میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا»۔ اس کی تفصیل حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صلح اور عام الجماعۃ میں ہے۔ یوں خلافتِ راشدہ کا تیس سالہ دور — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی «میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی» کے مطابق — حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی چند ماہ کی خلافت پر مکمل ہوا۔
تاریخی روایت اور حدیث کا فرق
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تفصیل کا بڑا حصہ طبری، بلاذری اور ابن سعد جیسے مؤرخین کی کتابوں سے آتا ہے، جن میں دن، وصیت کے الفاظ اور تدفین کی جگہ پر اختلاف ہے۔ صحیح احادیث میں ان کی فضیلت، خوارج کی علامات اور مُثلہ کی ممانعت موجود ہے، مگر خود شہادت کے واقعے کی تفصیل نہیں۔ اس لیے کسی ایک روایت کو قطعی نہ سمجھیں۔ اسی طرح قاتل کے جرم کو پورے کسی گروہ یا ہر فرد پر ڈالنا بھی درست نہیں؛ ابن ملجم کا جرم اس کا اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی میراث
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امت علم، قرآن کی فہم، قضا، شجاعت، عبادت اور انصاف کے حوالے سے یاد کرتی ہے۔ ان کے فیصلے اور اقوال فقہ اور ادب کا سرمایہ ہیں؛ ان کی سادگی خلافت کے باوجود قائم رہی؛ اور فتنوں کے سب سے مشکل دور میں انہوں نے مکالمہ، امان اور انصاف کو جنگ پر مقدم رکھا۔ اس واقعے کو غم اور ادب کے ساتھ پڑھیں، مگر تاریخی احتیاط بھی رکھیں: کسی بزرگ صحابی کے آخری لمحات کے نام پر بنی ہوئی جذباتی کہانیوں کو حدیث نہ سمجھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کہاں اور کب ہوا؟
تاریخی روایت کے مطابق کوفہ کی مسجد میں فجر کے وقت، 17 رمضان 40 ہجری (661ء) کو؛ وفات 21 رمضان کو۔ دنوں میں روایتوں کا فرق ہے۔
حملہ آور کون تھا؟
قدیم کتابوں میں عبدالرحمٰن بن ملجم مرادی کا نام آتا ہے، جو خوارج کے رجحان سے تعلق رکھتا تھا اور نہروان کے انتقام میں یہ کام کیا۔
قاتل کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت کی؟
اسے قید میں اچھا رکھا جائے؛ وفات کی صورت میں ایک وار کے بدلے ایک وار، مثلہ نہیں؛ اور مسلمانوں کا عام قتل نہ کیا جائے۔
شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟
حضرت حسن رضی اللہ عنہ، جنہوں نے چند ماہ بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی (41ھ، عام الجماعۃ)۔
حوالہ جات
- صحیح مسلم 2404 — حضرت سعد رضی اللہ عنہ: تین فضیلتیں۔
- صحیح بخاری 3703 — «ابو تراب»۔
- صحیح بخاری 2704 — حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے صلح کی بشارت۔
- سورۂ آلِ عمران 3:185، سورۂ بقرہ 2:156۔
- طبری، تاریخ (40ھ)؛ بلاذری، انساب الاشراف؛ ابن سعد، الطبقات — روایتوں کا درجہ الگ۔
شہادت کی تفصیلات تاریخی ہیں اور ان میں اختلاف ہے؛ کسی روایت کو قطعی سمجھنے یا کسی گروہ کے ہر فرد پر الزام رکھنے سے پہلے سند اور تحقیق دیکھیں۔
تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں
Comments
Post a Comment