وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا سورۂ طٰہٰ 20:114
صفحۂ اول› Islamic History› شعبِ ابی طالب کا بائیکاٹ: تین سال کی تنگی اور خاندانی وفاداری

شعبِ ابی طالب کا بائیکاٹ: تین سال کی تنگی اور خاندانی وفاداری

نAuthor Nawab
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم • مکی دور

شعبِ ابی طالب کا بائیکاٹ: تین سال کی تنگی اور خاندانی وفاداری

حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان مکہ سے دور امن ڈھونڈ رہے تھے۔ جو لوگ مکہ میں رہ گئے، ان کے لیے مشکل ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ قریش کے قبائل نے بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خلاف معاہدہ کیا: نہ ان سے تجارت، نہ ان کے گھرانوں سے شادی، جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے نہ کر دیں۔ ابو طالب نے اپنے بھتیجے کو دشمنوں کے حوالے کرنے سے انکار کیا اور اپنے خاندان کے ساتھ شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں چلے گئے۔

مکہ کی تنگ پہاڑی گھاٹی — شعبِ ابی طالب

شعبِ ابی طالب کی تنگ گھاٹی میں خاندان نے پناہ لی۔

بائیکاٹ کا پس منظر

اسلام کی دعوت کو روکنے کے لیے قریش پہلے مختلف دباؤ آزما چکے تھے: کمزور مسلمانوں پر تشدد، طعنے اور سماجی دباؤ۔ جب ابو طالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت سے ہاتھ کھینچنے سے انکار کیا، اور حضرت حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اسلام سے مسلمانوں کی حیثیت بڑھی، تو کچھ سرداروں نے صرف مسلمانوں کو نہیں، بنو ہاشم اور بنو المطلب کے پورے خاندانی حلقے کو نشانہ بنایا۔ اس میں ایسے رشتہ دار بھی شامل تھے جو خود اسلام نہیں لائے تھے، مگر قبیلے کی وفاداری کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔

اس معاہدے کا ذکر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آتا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا:

نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ. يَعْنِي ذَلِكَ الْمُحَصَّبَ، وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَوْ بَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنْ لاَ يُنَاكِحُوهُمْ وَلاَ يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
«ہم کل خیفِ بنی کنانہ میں اتریں گے، جہاں انہوں نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں۔» یعنی محصب؛ اور یہ اس لیے کہ قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خلاف حلف اٹھایا تھا کہ نہ ان سے نکاح کریں گے نہ خرید و فروخت، جب تک وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے نہ کر دیں۔ (صحیح بخاری، حدیث 1590؛ نیز 1589 اور صحیح مسلم 1314a)

یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ بائیکاٹ کا نشانہ صرف ایک مذہبی گروہ نہیں، بلکہ وہ خاندان تھا جو اپنی قبائلی حمایت کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حفاظت دے رہا تھا۔ روایت کے الفاظ میں نسب کے نام کی کچھ مختلف صورتیں ملتی ہیں (بنو عبدالمطلب یا بنو المطلب؛ امام بخاری نے بنو المطلب کو زیادہ درست کہا)، لیکن مقصد ایک ہی تھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کو تنہا کرنا۔

لپٹا ہوا پرانا صحیفہ اور چراغ — قریش کا لکھا ہوا معاہدہ

قریش کے معاہدے نے خرید و فروخت اور شادیوں پر پابندی لگائی۔

شعبِ ابی طالب میں زندگی

ابو طالب نے اپنے خاندان کو مکہ کی ایک گھاٹی، شعبِ ابی طالب، میں جمع کیا۔ وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور بنو ہاشم و بنو المطلب کے کئی افراد نے سخت عرصہ گزارا۔ سیرت کے بیانات کے مطابق بازار سے خرید و فروخت اور سماجی رشتوں پر پابندی کی وجہ سے کھانا حاصل کرنا مشکل ہوتا گیا۔ بچوں کی بھوک اور گھرانوں کی تنگی کا ذکر پرانی کتابوں میں درد کے ساتھ آتا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منسوب روایت میں ہے کہ بھوک کی شدت میں انہوں نے رات کو چمڑے کا ایک ٹکڑا پا کر اسے بھگو کر کھایا؛ یہ تفصیل سیرت اور تاریخ کی کتابوں سے ہے۔

بائیکاٹ کی مدت عام طور پر تین سال بیان کی جاتی ہے، نبوت کے ساتویں سے دسویں سال تک۔ یہ مدت سیرت کے تاریخی بیانات سے آتی ہے؛ صحیحین کی حدیث معاہدے کا ذکر کرتی ہے، مگر اس کی قطعی مدت نہیں دیتی۔ اس عرصے میں ہر روز کا حال ایک جیسا نہ رہا ہوگا؛ کبھی مدد پہنچی، کبھی کمی زیادہ ہوئی؛ مگر پابندی کا لمبا چلنا خاندانوں پر بھاری پڑا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور مددگار رشتہ دار

سیرت کی روایات میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال کا ذکر آتا ہے جس سے اس مشکل وقت میں گھرانوں کی مدد ہوئی۔ کچھ روایات بتاتی ہیں کہ قریبی رشتہ دار چپکے سے غلہ یا کھجور پہنچانے کی کوشش کرتے۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کا اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے گندم بھیجنے اور راستے میں ابو جہل سے جھگڑے کا قصہ بھی اسی پس منظر میں ذکر ہوتا ہے۔ یہ چھوٹی مدد کرنے والوں کے لیے آسان کام نہ تھا، لیکن مشکل وقت میں انہوں نے اپنے رشتوں کو یاد رکھا۔

اس واقعے میں ابو طالب کی حمایت بھی نمایاں ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں:

مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ
«آپ اپنے چچا کے کس کام آئے؟ وہ تو آپ کی حفاظت کرتے اور آپ کے لیے غصہ ہوتے تھے۔» (صحیح بخاری، حدیث 3883)

حدیث کا یہ حصہ ثابت کرتا ہے کہ ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا؛ حدیث کا باقی حصہ ان کے آخرت کے معاملے سے متعلق ہے، جو اللہ کے علم اور فیصلے کا معاملہ ہے اور اس مضمون کا موضوع نہیں۔ بائیکاٹ کے ہر روز کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں آتی ہے۔

پتھر کے گھر میں کھجوروں کا پیالہ اور مٹکا — مشکل دنوں کی چھوٹی مدد

مشکل دنوں میں کھانے کی چھوٹی مدد بھی بہت قیمتی تھی۔

قرآن کا اصول: امتحان اور مدد

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
«کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزرے؟ انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا دیے گئے، یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن لو، اللہ کی مدد قریب ہے۔» (سورۃ البقرہ 2:214)

یہ آیت مدنی ہے اور بائیکاٹ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی؛ مگر یہ اس اصول کو بیان کرتی ہے جس سے شعب کے تین سال سمجھے جا سکتے ہیں: سختی ایمان کے راستے کا حصہ ہے اور اللہ کی مدد قریب ہے۔

بائیکاٹ ختم کرنے کی کوشش

وقت گزرنے کے ساتھ قریش کے کچھ افراد کو اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس حالت میں دیکھنا ناگوار گزرا۔ سیرت میں ہشام بن عمرو، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری اور زمعہ بن الاسود جیسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے معاہدہ ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائی۔ ان کی کوشش سے لوگ جمع ہوئے اور بائیکاٹ کو توڑنا ممکن ہوا۔ یہ سب اس وقت مسلمان نہیں تھے؛ انہیں رشتہ داری اور انصاف کے احساس نے کھڑا کیا۔

معاہدے کے لکھے ہوئے صحیفے کے دیمک سے کھائے جانے کا قصہ بھی مشہور ہے: روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو خبر دی کہ صحیفے کو دیمک نے کھا لیا ہے اور صرف اللہ کا نام باقی ہے۔ روایت کے مختلف نسخوں میں اس کی تفصیل ایک جیسی نہیں، اور یہ صحیحین کی روایت نہیں۔ اس لیے بائیکاٹ کے خاتمے کی بنیادی کہانی، یعنی کچھ لوگوں کا ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اور معاہدہ ختم کرنا، بیان کرنا کافی ہے؛ صحیفے کے واقعے کو سیرت کی رپورٹ کے طور پر ذکر کیا جائے۔

پہاڑوں کے درمیان کھلتا راستہ — بائیکاٹ کے خاتمے کی امید

کچھ قریشی افراد کی کوشش سے بائیکاٹ ختم ہونے کا راستہ بنا۔

اس عرصے کا سیرت میں مقام

بائیکاٹ کے بعد بھی مکہ میں امن اور آسانی فوراً نہیں آئی۔ لیکن اس محاصرے نے دکھایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے والوں میں ایمان والے بھی تھے اور وہ رشتہ دار بھی جو قبیلے کی ذمہ داری اور انسانی وفاداری کی وجہ سے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو روکنے کے لیے بنایا گیا معاہدہ آخر کامیاب نہ ہوا؛ بلکہ مکہ کے اندر ہی کچھ لوگوں نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی۔

بائیکاٹ کے خاتمے کے کچھ ہی عرصے بعد ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ ان دونوں حمایتی شخصیتوں کا دنیا سے رخصت ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہایت غمگین مرحلہ بنا، جس کا بیان عام الحزن کے مضمون میں ہے۔ اسی دوران حبشہ کے مہاجرین دور رہ کر اپنے ایمان کی حفاظت کر رہے تھے۔

عملی سبق

  • غلط دباؤ کے سامنے اپنوں کی حفاظت اور انصاف پر قائم رہنا قیمتی ہمت ہے۔
  • مشکل میں چھوٹی سی مدد، کھانا، پناہ یا خبر، کسی گھرانے کے لیے بہت بڑی بن سکتی ہے۔
  • قبیلے یا گروہ کے سب افراد کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں؛ تاریخ میں مخالف کے ساتھ مددگار بھی تھے۔
  • ظلم کے خلاف اٹھنے والے لوگ کبھی اپنے ہی معاشرے کے اندر سے نکلتے ہیں۔
  • اجتماعی بائیکاٹ اور معاشی ناکہ بندی کے ذریعے کسی گروہ کو جھکانے کی کوشش قرآن و سنت کی نظر میں ظلم ہے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسوں بعد اس جگہ کو «جہاں انہوں نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں» کہہ کر یاد کیا۔

خلاصہ

شعبِ ابی طالب کا بائیکاٹ قریش اور کنانہ کا بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خلاف معاہدہ تھا کہ نہ نکاح نہ تجارت، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حوالے نہ کیا جائے (بخاری 1590، مسلم 1314a)۔ تین سال کی تنگی، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال اور کچھ رشتہ داروں کی خفیہ مدد، اور آخر میں مکہ کے چند افراد کی کوشش سے معاہدے کا خاتمہ؛ یہ تفصیلات سیرت سے ہیں۔ ابو طالب کی حفاظت بخاری 3883 سے ثابت ہے۔ یہ باب اس کے بعد آنے والے عام الحزن کا پس منظر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

۱۔ بائیکاٹ کس کے خلاف تھا؟

صحیح روایت میں قریش اور بنو کنانہ کے معاہدے کا ذکر بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خلاف آتا ہے۔ مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کروانا تھا۔

۲۔ کیا بائیکاٹ تین سال چلا؟

سیرت کی مشہور روایات مدت تین سال بتاتی ہیں۔ صحیح بخاری اور مسلم معاہدے کا ذکر کرتی ہیں، مدت کا نہیں۔

۳۔ کیا تمام بنو ہاشم مسلمان تھے؟

نہیں۔ بائیکاٹ خاندانی اور قبائلی بنیاد پر تھا؛ سیرت کے مطابق کچھ غیر مسلم رشتہ دار بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کے سبب اس تنگی میں شامل ہوئے۔

۴۔ کیا صحیفے کو دیمک نے کھا لیا تھا؟

یہ مشہور سیرت قصہ ہے، لیکن اس کی تفصیل کے مختلف نسخے ہیں اور یہ صحیحین کی روایت نہیں۔ اسے تاریخی رپورٹ کے طور پر سمجھنا چاہیے۔

کتابیں اور حوالے

  • صحیح بخاری 1590، 1589 اور صحیح مسلم 1314a: خیفِ بنی کنانہ اور قریش کے معاہدے کا ذکر۔
  • صحیح بخاری 3883: ابو طالب کی حفاظت کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا بیان۔
  • القرآن الکریم، سورۃ البقرہ 2:214: امتحان اور اللہ کی مدد کا اصول۔
  • ابن اسحاق، بروایت ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ: بائیکاٹ کی تفصیل، مددگار افراد، صحیفے کا واقعہ۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ: تاریخی جائزہ۔

صحیحین کی حدیث معاہدے کے بنیادی حقائق دیتی ہے؛ مدت، روزمرہ کی تنگی اور خاتمے کی تفصیل سیرت سے ہے۔

یہ تحریر قرآن و حدیث اور مستند کتبِ سیرت کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ کسی غلطی کی نشاندہی کے لیے رابطہ کریں.

تبصرے گوگل اکاؤنٹ سے لاگ اِن کر کے تبصرہ کریں

Comments